232

احد تمیمی ایک بچی ہے، اس کی جگہ مجھے گرفتار کرلو۔

فلسطینی لڑکی احد تمیمی 18 دسمبر 2017 اسرائیل سیکورٹی فورسز کی جانب سے انس کے گھر سے اس کی والدہ کے ہمراہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حراست میں لیے جانے کے بعد اس کو کئی بار اسرائیلی فوجی عدالت کے رو برو پیش کیا گیا ہے۔ احد تمیمی ایک بچی اور سویلین ہے ۔ دنیا میں اس قسم کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے جس طرح اس کو فوجی عدالت کے رو برو پیش کیا گیا ہے۔ دنیا کے چاروں اطراف سے احد تمیمی اور دیگر فلسطینی بچوں کو حراست میں لیے جانے کے خلاف تمام عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں نے ان بچوں کو رہا کروانے کے لیے اپنی کاروائیوں کا آغاز کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے اپیلوں کی ذرہ بھر بھی کوئی پرواہ نہیں کی گئی ہے اور فوجی عدالت نے اسے آٹھ ماہ کی قید کی سزا سنا دی ہے۔ احد تمیمی ایک بچے ہونے کے باوجود اسے زنجیروں اور ہتھکڑیوں سے باندھ کر عدالت لایا گیا۔ عدالت میں اس طریقے سے لانے سے قوانین کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کیے جانے کا پتہ چلتا ہے۔

بچوں کو پرسکون اور امن سے رہنے دو۔ انہیں جنگ کا آلہ کار نہ بنایا جائے۔ تمام مذاہب اور نظریات میں جنگ سے متعلق بھی قوانین موجود ہیں۔ تمام مذاہب کے مطابق جنگوں کے دنوں میں بھی بچوں کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے اور ان کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ چھوٹے چھوتے بچوں کو حراست اور قید میں لیتےن ہوئے تم بہت بڑا جرم وسرزد کررہے ہو ۔

میں آپ کو کھلے عام کہہ رہی ہوں ۔ آپ احد کو چھور دیں اور مجھے گرفتار کرلیں ۔

میں اسرائیل کے ایک قابض ملک ہونے اور فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کرنے والا اور ب فریڈم فلوٹیلا میں سوار اور اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اس کے خلاف مظاہرے میں شرکت کرنے والے اور اندنسانی حقوق کا دفا ع کرنےوالا ایک انسان ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے اداروں اور انسانوں کو بالکل پسند نہیں کرتے ہیں اور انہیں دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ میں کسی بھی صورت اپنے نام کو دہشت گردوں میں شامل کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ میں نے اپنی زندگی انسانی حقوق کا دفاع کرنے کے لیے وقف کررکھی ہے لیکن آپ کا نام نہاد قانون ہمیں دہشت گرد قرار دیتا ہے ۔ اس لیے میری گرفتاری احد کے گرفتاری سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوسکتی ہے۔

میں آپ سے کھلے عام اپیل کرتی ہوں کہ آپ فوری طور پر تمام گرفتار شدہ فلسطینی بچوں کو رہا کرو ۔ اگر آپ اس کو رہا نہیں کرتے ہیں تو میں اس کے بدلے اپنی گرفتاری پیش کرنے کے لیے تیار ہوں ۔ وہ ایک بچی ہے۔ چھوٹے بچوں کے معصوم پن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے توسط سے جنگ کو جاری نہ رکھیں۔ پوری دنیا آپ کے اس غیر انسانی سلوک سے برُی طرح متاثر ہے اور آپ پر لعنت بھیجتی ہے۔

آپ کو اس صورتِ حال سے بے چین اور اضطراب کا شکار ہونے کی ضرورت ہے۔
میری اس اپیل کو منظور کرنے کی صورت میں آپ میرے سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔
اکیس مارچ 2018ء
وکیل گلدان سونمیز
انسانی حقوق کی تنظیم کی رکن

انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی وکیل گلدان سونمیز ، نے “احد ایک بچی ہے اس کی جگہ مجھے گرفتار کرلو” کے زیر عنوان ایک کھلا خط اسرائیل کے سفارتخانے کو تحریر کیا ہے۔

سونمیز نے اپنے خط میں فلسطینی بچی کے علدات کے روبرو ہتھکڑیوں میں پیش کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ تمام مذاہب اور نظریات میں جنگ، قوانین اور اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی لڑی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے دنوں میں بھی بچوں کو ک نقصان نہ پہنچانے اور ان کے تحفظ کی طرف توجہ دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ۔ دنیا کے چاروں اطراف سے احد تمیمی اور دیگر فلسطینی بچوں کو حراست میں لیے جانے کے خلاف تمام عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں نے ان بچوں کو رہا کروانے کے لیے اپنی کاروائیوں کا آغاز کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے اپیلوں کی ذرہ بھر بھی کوئی پرواہ نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ سے کھلے عام اپیل کرتی ہوں کہ آپ فوری طور پر تمام گرفتار شدہ فلسطینی بچوں کو رہا کرو ۔ اگر آپ اس کو رہا نہیں کرتے ہیں تو میں اس کے بدلے اپنی گرفتاری پیش کرنے کے لیے تیار ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.