368

ارتھا کرانتی تجاویز۔۔۔

کچھ عرصہ قبل بھارت میں ایک تنظیم ارتھا کرانتی سنستھا کے رکن انیل بوکل نے ایک تقریب کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے بات کرنے کی اجازت چاہی۔ اجازت ملی لیکن انیل بکل سے صرف 9؍ منٹ میں اپنی بات ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جیسے ہی 9؍ منٹ پورے ہوئے تو انیل بوکل خاموش ہوگئے لیکن نریندر مودی نے انہیں مزید بات کرنے کی اجازت دی اور اس طرح سنستھا کا یہ رکن دو گھنٹے تک بات کرتا رہا اور وزیراعظم مودی انہیں سنتے رہے ۔۔۔
بات چیت کے دوران انیل بوکل نے ارتھا کرانتی سنستھا کی جانب سے ایک تجویز پیش کی جسے انٹرنیٹ پر آپ سب دوست ارتھا کرانتی پروپوزل کے نام سے تلاش کر سکتے ہیں۔

*ارتھا کرانتی پروپوزل کیا ہے اور یہ کس نے پیش کیا؟*
ارتھا کرانتی پروپوزل بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونا میں قائم ایک تنظیم ’’ارتھا کرانتی سنستھا‘‘ کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ یہ تنظیم ایک معاشی مشاورتی بورڈ (یعنی اکنامک ایڈوائزری بورڈ) کے طور پر کام کرتی ہے جس میں چارٹرڈ اکائونٹنٹس اور انجینئرز اس کے رکن کے طور پر کام کرتے ہیں۔ سنستھان کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو پیٹنٹ کرایا گیا ہے۔
ارتھا کرانتی پروپوزل کالے دھن، مہنگائی، کساد بازاری، کرپشن، مالی خسارے، بے روزگاری، مجموعی قومی پیداوار، صنعتی نمو، دہشت گردی اور بہتر طرز حکمرانی کے حوالے سے مسائل کا موثر اور ٹھوس حل ہے۔

آخر یہ پروپوزل یا تجاویز ہیں کیا؟
ارتھا کرانتی پروپوزل میں پانچ نکات ایسے ہیں جن پر فوری عملدرآمد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے:
– امپورٹ ڈیوٹی کے سوائے باقی تمام 56 ٹیکسز ختم کر دیئے جائیں۔
– ملک میں ایک سو، پانچ سو اور ایک ہزار روپے مالیت کے نوٹ عوام سے واپس لے کر ختم کر دیئے جائیں۔
– روپے پیسے کی بڑی لین دین / ٹرانزیکشن صرف اور صرف بینکاری نظام کے ذریعے کی جائے یعنی ڈیمانڈ ڈرافٹ، چیک، آن لائن ٹرانسفر یا پھر دیگر برقی ذرائع سے۔
– کیش میں لین دین کی حد مقرر کی جائے اور کیش ٹرانزیکشن پر کسی طرح کا ٹیکس عائد نہ کیا جائے۔
– سرکاری آمدنی یا ریونیو کلکشن کیلئے بینکاری نظام کے ذریعے واحد نکاتی ٹیکس سسٹم نافذ کیا جائے یعنی صرف کریڈٹ امائونٹ پر ٹرانزیکشن ٹیکس لاگو کیا جائے جو اعشاریہ سات فیصد سے دو فیصد تک ہوگا۔

اہم نکات
صرف ایک دن میں بینکاری کی ٹرانزیکشن دو اعشاریہ سات لاکھ کروڑ تک ہوتی ہے یعنی سالانہ 800 لاکھ کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کی جاتی ہے۔
بینکاری نظام کے ذریعے صرف 20 فیصد ٹرانزیکشن کی جاتی ہے جبکہ 80 فیصد ٹرانزیکشن نقد کی جاتی ہے۔ کیش کے اس لین دین کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا۔
ملک کی 78 فیصد آبادی روزانہ 20 روپے خرچ کرتی ہے تو ایسی آبادی کیلئے ایک ہزار روپے جیسے بڑے نوٹ کیوں ہونا چاہئیں۔

اگر ملک سےتمام 56 ٹیکس ختم کردیئے جائیں تو کیا ہوگا۔
تنخواہ دار افراد زیادہ سے زیادہ رقم گھر لے جا سکیں گے یعنی ان کی تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا جس سے ان کی خریداری کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
پٹرول، ڈیزل، کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ 35 سے 52 فیصد تک سستی ہوجائیں گی۔
ٹیکس بچانے یا ٹیکس چوری کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہٰذا کالے دھن کا وجود باقی نہیں رہے گا۔
کاروباری شعبے کو فروغ ملے گا جس سے سیلف ایمپلائمنٹ کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

ملک سے ایک سو، پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ عوام سے بینکوں کے ذریعے واپس لے کر ختم کرنے سے کیا ہوگا۔
نقد رقوم کے ذریعے ہونے والی کرپشن ختم ہوجائے گی۔
کالے دھن کو سفید میں تبدیل کر دیا جائے گا یا پھر یہ ختم ہوجائے گا کیونکہ ایک سو، پانچ سو اور ایک ہزار کے کرنسی نوٹس چھپا کر تھیلوں میں رکھ بھی دیئے گئے تو ان کی قدر ختم ہوجائے گی کیونکہ یہ پہلے ہی عوام سے لے کر ختم کر دیئے جائیں گے۔
چھپائے گئے کالے دھن اور ایسے اثاثے جو ظاہر نہیں کیے جاتے ان کی وجہ سے پراپرٹیز، زمینوں، جوئیلری وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور محنت سے کمائی جانے والے پیسے کی قدر کم ہو رہی ہے۔ بڑے نوٹ ختم کرنے کے نتیجے میں محنت کے پیسے کی قدر برقرار رہے گی۔
اغوا برائے تاوان اور سپاری دے کر قتل کرنے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ختم ہوجائیں گے۔
نقد رقوم دے کر دہشت گردی کرانے کے واقعات ختم ہوجائیں گے۔
رجسٹری میں کم قیمت دکھا کر مہنگی پراپرٹی نہیں خریدی جا سکے گی۔
جعلی کرنسی نوٹوں کی گردش ختم ہوجائے گی کیونکہ کم قیمت پر جعلی کرنسی نوٹوں کی چھپائی سے فائدہ نہیں ہوتا۔

بینکنگ ٹرانزیکشن ٹیکس اعشاریہ سات فیصد سے دو فیصد تک وصول کرنے سے کیا ہوگا۔
روزانہ 800 کروڑ کے لین دین (ٹرانزیکشن) پر اگر دو فیصد ٹرانزیکشن ٹیکس وصول کیا جائے تو یہ رقم 16 لاکھ کروڑ روپے بنتی ہے۔ موجودہ ٹیکس نظام کے نتیجے میں بمشکل ہی 14 لاکھ کروڑ جمع ہو پاتے ہیں۔
بینکنگ ٹرانزیکشن ٹیکس کے ذریعے صرف 50 فیصد لین دین پر حکومت دو ہزار سے ڈھائی ہزار لاکھ کروڑ روپے جمع کر پائے گی اور بعد میں یہ ٹیکس اعشاریہ سات فیصد سے ایک فیصد پر لایا جا سکتا ہے۔ اس سے ملک کے بینکاری نظام کو زبردست فائدہ ہوگا۔
اس ٹیکس کے نفاذ کے بعد کسی بھی دوسری طرح کے ٹیکس جیسا کہ انکم ٹیکس کے نفاذ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور ٹیکس براہِ راست سرکاری بینکوں یا ضلعی انتظامیہ کے بینک اکائونٹس میں جا سکے گا۔
چونکہ ٹرانزیکشن ٹیکس کی رقم بہت کم ہوگی اسلئے عوام بالواسطہ یا بلاواسطہ 56 ٹیکسوں کے ذریعے بھاری رقوم ادا کرنے کی بجائے معمولی ٹرانزیکشن ٹیکس دینے کو ترجیح دیں گے۔
کوئی بھی شخص ٹیکس چوری یا ٹیکس سے بچنے کی کوشش (آف شور کمپنیوں کو ذہن میں رکھیں) نہیں کرے گا اور حکومت کو ترقیات اور روزگار کی مد میں بھاری رقوم جمع کرنے میں مدد ملے گی۔
کچھ مخصوص منصوبوں یا کاموں کیلئے اگر حکومت کو زیادہ ریونیو جمع کرنا ہو تو وہ صرف بینکنگ ٹرانزیکشن ٹیکس میں معمولی اضافہ کر دے یعنی اسے ایک فیصد سے بڑھا کر ایک اعشاریہ ایک فیصد کر دے اور اس سے اضافی چار لاکھ کروڑ روپے جمع کیے جا سکیں گے۔

اگر یہ نظام آج ہی لاگو کر دیا جائے تو کیا ہوگا۔
تنخواہ دار طبقہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ گھر لے جا سکے گا۔
مختلف اشیا کی قیمتیں فوراً کم ہوجائیں گی۔
لوگوں کی خریداری کی طاقت یا صلاحیت بڑھے گی۔
طلب میں اضافہ ہوگا، اسلئے پیداواریت اور صنعت کاری کو فروغ ملے گا نتیجتاً نوجوانوں کیلئے ملازمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔
صحت، تعلیم، انفرا اسٹرکچر، سیکورٹی اور سماجی فلاح و بہبود کیلئے حکومت کے پاس زیادہ سے زیادہ فنڈز جمع ہو سکیں گے اور یہ سرپلس میں جائیں گے۔
نوجوانوں کیلئے کاروبار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ان کیلئے آسان شرائط پر قرضے دستیاب ہوں گے اور ان سے کم سے کم حد پر سود وصول کیا جا سکے گا۔
معاشرے میں مختلف اشیا کا اسٹیٹس ’’قلت‘‘ سے تبدیل ہو کر تعداد میں ’’سرپلس‘‘ ہوجائے گا۔
شفاف سیاست کیلئے زیادہ سے زیادہ پیسہ جمع ہو سکے گا۔
زمینوں اور جائیداد کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
تجارتی خسارے سے نمٹنے کیلئے گائے کا گوشت برآمد نہیں کرنا پڑے گا۔
تحقیقی اور ترقیاتی مقاصد کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز جمع کیے جا سکیں گے۔
معاشرہ خراب عناصر سے پاک ہوجائے گا۔

ویب لنک :- http://www.arthakranti.org/news-events/159-what-was-arthakranti-proposal-to-pm-narendra-modi

مندرجہ بالا تحریر کا ترجمہ یہاں پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کچھ تبدیلیوں اور کمی بیشی کے ساتھ اس طرح کا نظام پاکستان میں بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ مالیات کے شعبے سے وابستہ بہت سے لوگوں کا خاصے عرصے سے یہ خیال ہے کہ پاکستان میں اکانومی کو ڈاکومنٹیڈ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ان لائن ٹرانزیکشن کا ٹرینڈ ڈالنا چاہیے اور پانچ ہزار کا نوٹ تو ختم کر دینا چاہیے۔ اس آرٹیکل میں کئی تجاویز دی گئی ہیں، اعداد وشمار بھارتی معیشت کے ہیں، مگر پاکستان میں بھی اس سے ملتی جلتی تجاویز دی جا سکتی ہیں، ان پر غور ہوسکتا ہے۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.