71

اسرائیل کے تحفظ کیلئے فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کب تک ہوتی رہے گی؟

یہ بات کس قدر حیرت انگیز ہے کہ ایسا ملک جو چند یہودیوں کے ذہنوں اور ان کی مذہبی کتب تک محدود تھا اسرائیل کی شکل میں ۶۵۸برس سے دنیا کی ایک زندہ حقیقت بنا ہوا ہے جب کہ فلسطین جو ہزار برسوں سے کرۂ ارض پر موجود تھا، چھ دہائیوں سے اس کے خوبہی خواہ اس ملک کا وجود منوانے کے لئے اسی سرزمین پر جدوجہد میں مصروف ہیں۔ جہاں آج اسرائیل قائم ہے۔

یہ ملک برطانیہ کے سیاست داں بالفور کے منصوبہ کے تحت نومبر ۱۹۴۷ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرار داد کی منظوری سے قائم ہوا تھا، جس میں واضح طو رپر اس اسرائیلی ریاست کے حدود کا تعین تھا اور اس کے مطابق اس نوزائیدہ ملک کامجموعی رقبہ ۱۴ ہزار کلومیٹر سے زیادہ نہ تھا لیکن اپنے سرپرستوں کی شہ پر یہودیوں نے اس طرح کی کسی بھی حد بندی سے انکار کردیا اور وقت کے ساتھ اسرائیل کی سرحدیں بڑھتے بڑھتے ۷۴ ہزار کلومیٹر تک جو منظور شدہ رقبہ کا پانچ گنا ہے پھیل گئیں۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کی اسی قرار داد کے مطابق جس فلسطینی ریاست کا وجود عمل میں آنا چاہئے تھا ۶۵ برس کے طویل انتظار کے بعد بھی یہ کام نہ ہوا، کیونکہ عالمی صیہونی تنظیم نے مغربی طاقتوں کی حمایت کے بل بوتے پر اس میں روڑے اٹکانا شروع کردیئے ، اسی طرح لاکھوں فلسطینیوں کو مظالم کا شکار بناکر ان کے آبائی وطن سے پیچھے ڈھکیل دیاگیا اور جو وہاں باقی بچے اسرائیل کے شدید مظالم سے جوجتے رہے اورآج بھی جوج رہے ہیں۔

امریکہ،برطانیہ اور دوسرے ملکوں کی طرف سے اسرائیل کی غیر معمولی مدد اس لئے کی جارہی ہے کہ عربوں کے سرپر صیہونیت کی یہ تلوار لٹکی رہے اور آس پاس کے عرب ممالک کبھی سر نہ اٹھاسکیں، اپنے اس مقصد کی تکمیل کے لئے آج تک اسرائیل کو ہر جائز وناجائز امداد فراہم کی جاتی رہی اور اس کی ہر جارحیت کو شیر مادر سمجھ کر خاموشی سے پی لیا گیا، اسی ناانصافی بلکہ ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں اسرائیلی سرحدوں کا آج تک بین الاقوامی طور پر تعین نہ ہوسکا، اس کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان کا تو کہنا تھا کہ جہاں جہاں اسرائیلی کی فوجیں موجود ہیں وہ سب اس کے علاقے ہیں بعد میں بھی اسرائیل کا یہی موقف رہا کہ مشرقی یروشلم ، غزہ کی پٹی اور جولان کی پہاڑیاں اس کی سرحدوں میں شامل ہیں جنہیں کوئی نہیں چھین سکتا۔

حالانکہ ان تمام علاقوں پر اسرائیل نے ۱۹۶۷ء میں قبضہ کیا تھا اور اسی سال اقوام متحدہ نے اپنی قرار داد ۲۴۲ کے ذریعہ یہ تاکید کردی تھی کہ جنگ میں ہتھیائے علاقے اسرائیل واپس کردے اور اس کے بدلہ میں عربوں کی طرف سے اس کو محفوظ ومنظور سرحدوں کی گارنٹی دی جائے یہ قرار داد پہلے اسرائیل کی طرح فلسطینی عربوں کو بھی قبول نہ تھی کیونکہ اس کے ماننے کے نتیجہ میں فلسطینیوں کو پہلے اسرائیل کا وجود تسلیم پڑتا جو انہیں منظور نہ تھا لیکن اپنے وطن فلسطین میں اسرائیل کے بدترین مظالم کے بعد اردن میں بھی جن فلسطینیوں کو پناہ نہ ملی اور جو خاک وخون کا سمندر پار کر کے لبنان میں پناہ گزیں ہوئے تو وہاں سے بھی شام نے انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا اپنے اور پرایوں کی دوستی و دشمنی کا مزہ چکھ کر بے خانما بردار فلسطینیوں کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ مذکورہ قرار داد کو تسلیم کرلینا ہی ان کے مسائل کا حل ہے۔

اس واقعہ کو طویل عرصہ گذر چکا ہے فلسطین کی مجوزہ ریاست کے نام سے غزہ پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارہ کا کچھ حصہ یاسر عرفات کی عبوری حکومت کے سپرد کیا گیا لیکن نہ تو بیت المقدس فلسطین کے حوالہ کرنے کے لئے اسرائیل تیار ہے اور نہ ان مسائل کو سلجھانا چاہتا ہے جو نئی آزاد فلسطینی ریاست کی راہ میں کوہِ گراں بنے ہوئے ہیں۔

حالانکہ اس عرصہ میں امریکہ کی زیر نگرانی فلسطین محاذ آزادی اور اسرائیل کی مختلف حکومتوں کے درمیان گفتگو کے کئی دور چل چکے ہیں مگر نہ شام کے ساتھ جولان کی پہاڑیوں سے اسرائیلی افواج کی واپسی ہوسکی ہے اور نہ ہی غرب اردن سے ہٹنے کے وعدہ پر اسرائیل نے اب تک عمل کیا ہے حالانکہ اس کے لئے مقررہ مدت سے دس سال زیادہ ہوچکے ہیں۔ اس عرصہ میں سب سے اہم بات یہ ہوئی کہ اسرائیل اپنی اعلان شدہ پالیسی یعنی امن وامان اور محفوظ سرحدوں کی گارنٹی کے باوجود ۱۹۶۷ء کی سرحد پر واپسی کے لئے آمادہ نہیں اور بیت المقدس پر اپنے دارالحکومت کی صورت میں قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ حالانکہ پی ایل او اور حماس کی یہ نہایت مناسب ومعقول تجویز ہے کہ بیت المقدس کو کھلا شہر قرار دے دیا جائے اور اسرائیل بھی وہاں سے اپنا دارالحکومت کہیں اور لے جائے۔

مرحوم یاسر عرفات مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کی راجدھانی بنانا چاہتے تھے جہاں سے مسجد اقصیٰ کے گنبد صاف نظر آتے ہیں مگر یہ اس وقت ممکن ہے جب اسرائیل کے حکمراں اپنے رویہ میں بنیادی تبدیلی لائیں اس عرصہ میں اسرائیلی حکمرانوں نے نہتے فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں یہودی فوجی نہ صرف فلسطینیوں کو قتل کرتے رہے بلکہ ان کے ساتھ جو بدترین سلوک اپنایا گیا ،، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق وہ نہ صرف حقوقِ انسانی کی پامالی ہے بلکہ جنگی جرائم کے ذیل میں آتا ہے۔ اس رپورٹ پر حقوق انسانی کے خود ساختہ علمبردار امریکہ کی خاموشی بھی حیرت انگیز نہیں کیونکہ اسرائیل کے تعلق سے اس نے ہر معاملہ کو جانچنے کے لئے ایک الگ پیمانہ بنالیا ہے۔ امریکہ کے اس جانبدارانہ رویہ بلکہ اندھی اسرائیل نوازی پر دنیا میں اس کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔

عالم اسلام نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے کہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک جس کھلی منافقت کی راہ پرگامزن ہیں وہ جاری رہے گی، گفتگو کے دور چلتے رہیں اور ان کا نتیجہ اسرائیل کے حق میں برآمد ہوتا رہے گا، اقوام عالم بھی امن کے غارت گروں کی اس بازی گری کو اب سمجھنے لگی ہے اور اقوام متحدہ کی لاچاری بھی سب پر ظاہر ہے، اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ملک عراق کو پہلے ہی کچلا جاچکا ہے، اب ایران کو نشانہ بنانے کی تیاری ہے، یہ کارروائیاں محض اسلئے ہورہی ہی کہ اسرائیل کا ہر خطرے سے تحفظ کیا جاسکے۔

(تحریر عارف عزیز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.