139

اصول و فنون تجارت

تجارت کاسب سے پہلا اصول یہ ہے کہ،
مال کاخریدار بھی خوش رہے اور مال فروحت کرنے والا بھی خوش رہے۔خرید نے والاسمجھے کہ مال بہترین ہے اور سستاہے جبکہ فروخت کرنے والاسمجھے کہ اچھا منافع آیاہے ۔اگر یہ اصول سمجھ میں آجائے تو تجارت آسان ہوجائیگی۔سستے میں مال لانااور مہینگے میں مال فروخت کرناہی تجارت ہے۔کونسامال کہاں پر پیداہوتاہے یابنتاہے معلوم ہونابہت ضروری ہے اور اس مال کی کہاں ضرورت ہے یہ بھی جاننا بہت ضروری ہے ان ہی دومقامات کے درمیان تاجر کھڑارہتاہے۔پیداوار کی جگہ اور عام آدمی کے پاس مال پہنچنے کے درمیان کئی افراد ہوتے ہیں اور اپنااپنافائیدہ لیتے ہیں مثلا پہلے مال ایجنسی کو پہنچتاہے۔ایجنسی سے مال ہول سیلر کے پاس پہنچتاہے اور پھر ہول سیلر سے رٹیلر یاعام دوکان تک مال پہنچتاہے پھر رٹیلر یاعام دوکان سے مال گھر تک پہنچتاہے۔ایجنٹ ‘ہول سیلر اور رٹیلر سب تاجر کہلاتے ہیں یہ اپنی اپنی استطاعت اور اثر ورسوخ پر منحصر ہے کہ آپ ایجنسی لیس یاہول سیلر بنیں یارٹیلر یاعام ددوکان دار بنیں۔ تجارت آسان بھی ہے اور مشکل بھی ہے بہت ہی چترتا یاہوشیاری دکھانی پرتی ہے۔میٹھے میٹھے باتیں کرنے آناچاہئے۔غصہ پر قابورکھناآناچاہئے۔سخت محنت کے بھی عادی ہوناچاہئے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ گاہگ کے خیالات منٹوں میں سمجھ جاناچاہئے اور اسکی جیب کاوزن کتناہے یہ بھی اندازہ لگاناچاہئے۔

تجارت کادوسرا بڑااصول یہ ہے کہ ،
اگر آپ کسی کو مال فروخت کررہے ہیں تو پیسہ بھی وصول کرنے آناچاہئے۔
مروت یا ہمدردی میں آکر اگر آپ ادھار دے اور پیسہ وصول کرنے کی سکت یا طاقت نہیں رکھ سکتے تو سمجھ جائیے کہ آپ زندگی بھر تجارت نہیں کرسکتے ہیں۔
اکثر دوکانوں پر ایک بورڈ لگاہوتاہے جس پر لکھاہوتاہے کہ’’آج نقد کل ادھار‘‘ اور ایک تصویر بھی لگی ہوتی ہے جس میں ایک موٹاآدمی کرسی پر آرام سے بیٹھاہے کیونکہ وہ نقدر کاروبار کرتاہے جبکہ اسی تصویر میں ایک دبلا پتلا پریشان حال آدمی سرکو ہاتھ لگائے ہوئے بیٹھاہے کیونکہ وہ ادھار پر مال فروحت کرتاہے۔

الغرض بات اتنی سی ہے کہ اپنے کاروبار پر اپناپورا کنٹرول ہوناچاہئے۔
اپنے تمام معاملات کو لکھ کراس پر گواہیاں لے لیناچاہئے۔
تجارت میں حساب کتاب کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔
ہر حرکت کاحساب ہوناچاہئے۔
تجارت میں سیاست بھی بہت ہوتی ہے، ایک صاحب اپنی خودبیتی بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ،
وہ سعودی عرب سے واپس حیدراباد آکر اپنی ساری کمائی(60لاکھ) لگاکراور بنک سے بھی قرضہ لے کر ایک پیکنگ کمپنی کھولی تھے اور دوسری بڑی کمپنیوں کو مال سپلائی کررہے تھے۔ بڑے کمپنیاں پیسہ کی ادائیگی میں دیرکرتے تھے جبکہ کام کاآرڈر زیادہ سے زیادہ ملنے لگا۔ دوسری طرف بنک اپنا قرضہ برابر وصول کرتا رہا۔ آخر ایک دن ایساہواکہ تمام بڑے کمپنیوں نے انکامعاوضہ Payment روک دیا اور یہ بنک کا قرضہ اداکرنے کی خاطر گھر، سونا، سامان سب کچھ فروخت کرتے گئے۔ لیکن ایک دن صبح جب یہ اپنے فیکٹری کو پہنچے تو وہاں بنک کا قفل پایا گیا اور نوٹس لگا ہوا تھا کہ اب یہ فیکٹری بنک کی امانت ہے اس لئے کبھی بھی سود کا قرض نہیں لیناچاہئے۔

تجارت میں بہت فائدہ بھی ہو سکتا ہے اور بہت نقصان بھی ہوسکتاہے۔ اس لئے لوگ حد سے زیادہ فائدہ کی چکر میں نہیں پڑتے بلکہ اعتدال کے ساتھ کام کرتے ہیں اور کامیاب رہتے ہیں اور مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مظبوط بنائے رکھتے ہیں۔

اکثر بڑے تاجروں کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے کاروبار سے اپنی شروعات کئے ہیں اور آہستہ آہستہ ترقی کیئے ہیں اس درمیان انہیں کاروبار کے کئی اتار چڑاو کاسامنا کرناپڑاہے۔

تجارت کاتیسرااصول یہ ہے کہ،
کوئی بھی مال اگر آپ خرید کر لائیں اور اسے فروخت کرناچاہتے ہیں تو اس مال پر تھوڑااساکام Workکریں تو سونے پہ سہاگہ ہوجائے گامثلاً اگر آپ گاوں سے چاول یادال وغیرہ خرید کر لائے ہیں اور اسکو شہر میں فروخت کرناچاہتے ہیں تو اس چاول یادال کی صاف صفائی کریں اس میں سے مٹی دھول کنکر پتھر وغیرہ نکال کراچھے پاکٹوں میں ڈال کر فروخت کریں تو بہت فائیدہ آئے گا۔اسی طرح کوئی بھی مال لائیں اس پر کچھ محنت کریں تھوڑی سی جدت ضروری ہے بلکہ دو طرفہ تجارت کریں۔

تجارت کرنے سے پہلے تجارت کے بارے میں معلومات اور تجربہ اٹھائیں اس کے لئے چند دن مزدوری بھی کرنی پڑے تو ضرور کریں اور جب آپ کو یقین آجائے کہ فلاں تجارت آپ کرسکتے ہیں تو پہلا قدم اٹھائیں اپنے سرمایہ کاصرف 20فصید ہی کاروبار میں لگائیں تاکہ نقصان کی صورت میں آپکے سرمایہ کا 80 فصید تو بچ جائے گا۔ کاروبار وہی کیاجائے جس میں آپکو دلچسپی ہو وہی کام کریں جو آپکو پسند یدہ ہے۔ تجارت میں وقت کی پابندی نہیں ہوتی ہے تاجر کادماغ 24 گھنٹے کاروبار کے بارے میں سوچتا رہتا ہے اپنے تمام خواہشات تفریحات کو بالائے طاق رکھناپڑتاہے ۔تاجر ہمیشہ مارکٹ میں کسی چیز کی کمی ہے یا کسی چیز کاڈیمانڈ ہے معلوم کرتے رہتے ہیں اور وہی اشیاء مارکٹ میں لاتے ہیں اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کونسی نئی نئی چیزیں ایجاد ہورہی ہیں یابن رہی ہیں معلوم ہوناچاہئے۔

پس صلاح مشورے کے ساتھ کافی غوروفکر، حساب کتاب اور مشورہ کے بعد کوئی قدم اٹھائیں گے اور لوگوں کی ضرورت بن جائیں تو انشاء اللہ تعالی ایک کامیاب تاجر بنیں گے۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.