165

بلی اور توا

اگرایک بلی ایک گرم توئے پر بیٹھ جائے تو وہ بلی پھر دوبارہ توئے پر کبھی نہیں بیٹھے گی۔ حتی کہ وہ بلی ایک ٹھنڈئے توئے پر بھی نہیں بیٹھے گی۔ بلکہ اس بلی کو سرئے سے توئے سے ہی نا پسندیگی ہو جائے گی۔

مارک ٹوئین کےمندرجہ بالا اقتباس کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ذرا ہم عوام ( بشمول ایشیائی و دیگر ممالک ) اپنی تاریخ کا جائزہ لیں،

کیا ہم اتنے احمق ہیں کہ ہرپار ایک حکومت منتخب کرنے کے بعد اسے ہی اپنی آخری امید مان لیتے ؟

ہر پار ایک حکومت آتی ہےتو ہم گزشتہ دور حکومت کو بدترین کہہ دیتے ہیں لیکن اگلی بار دوبارہ اسی کو منتخب کرتے ہیں ؟

ہرپار ایک حکومت آتی ہے اور ہر بار گزشتہ حکومت پہ خزانہ خالی کرنے کا الزام دیتی ہے اور ہم من و عن یقین کر لیتے ہیں لیکن اگلی بار ہم پھر وہی حکومت منتخب کرتے ہیں ؟

انتخابی مہم کے دوران ہمیشہ کی طرح ہر بار ہر تقریر اس وقت کے موجودہ حکمران و حکومت مخالفت ہوتی ہے لیکن انتخابات کے بعد وہ سب آپس میں دوست بن جاتے اور ہم عوام بے حس بنے رہتی ہیں، رتی برابر بھی احساس نہیں کرتے ؟

ہر بار حکومت آئین کی پناہ لیتی ہے اور اپنی کرپشن، بدانتظامی اور بوگس منصوبے کو بچانے کے لئے قوانین توڑتی اور بناتی ہے اور ہر بار کہا جاتا ہے کہ قوم کی بہتری کے قانون میں ترمیم کی ہے اور ہم ہر بار کی طرح مان لیتے ہیں ؟

ہر بار کی طرح انتخابی امیدوار انتخابات سے پہلے ہر وقت ہمارے دروازے پر ہوتے ہیں اور اس کے بعد ہم ان کو اگلے پانچ سالوں تک ان کو اپنے دروازئے تو کیا محلے بلکہ علاقے تک میں دیکھائی نہیں دیتا لیکن اگلی بار پھر ہم انھی کو ووٹ دے دیتے ؟

ہم ہر چیز/بات کو سمجھتے، بوجھتے و جانتے ہیں لیکن ہم خود کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتے ؟ ؟

آخر کیوں ؟ ؟ ؟

سوچیئے گا ضرور – کیوں کہ جواب ہم بخوبی جانتے ہیں۔ ۔ ۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو یہ بات کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، صدق دل سے اس پر عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.