79

بھارت کی آبی دہشتگردی

بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر مملکت برائے ٹرانسپورٹ و پانی نتن گڈکری نے ہریانہ میں ایگریکلچرل سمٹ 2018 کی اختتامی تقریب کے دوران پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اترکھنڈ کے دریاؤں پر تین ڈیم بنا کر پاکستان جانے والے پانی کو روک لیں گے تاکہ برسات نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والے پانی کے بحران کے وقت ان ڈیموں کا پانی استعمال کیا جا سکے۔

مودی سرکار کے مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ جن تین دریاوں کا پانی پاکستان جاتا ہے وہ ایک علیحدہ معاملہ ہے لیکن جن تین نہروں کا پانی بھارت کی تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہے اس پر پہلا حق بھارت کا ہے اس لیے اترکھنڈ کے ان تینوں دریاؤں پر علیحدہ علیحدہ 3 ڈیم بنا کر اپنی ضرورت کا پانی جمع کر رکھیں گے، ان تینوں ڈیموں سے بھارتی پنجاب، ہریانہ اور راجستھان میں پانی کی کمی کو دور کیا جائے گا۔

نتن گڈکری نے کہا کہ تقسیم ہند کے بعد بھارت کے حصے میں تین دریا آئے تھے لیکن ہم ان سے اپنی ضرورت کے مطابق پانی استعمال نہیں کر پاتے تھے اور اضافی پانی پاکستان چلا جاتا تھا جو کہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے معاہدے 1960 کی خلاف ورزی بھی ہے اس لیے وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تینوں دریاوں پر ڈیم بنا کر پانی کو جمع کرلیا جائے تاکہ وقت ضرورت کام آسکے۔

واضح رہے متعصب بھارتی حکومت خشک موسم میں دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان میں پانی کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف مون سون میں جب دریاوں کا پانی عروج پر ہوتا ہے اپنے ڈیم کا پانی بھی پاکستان کی جانب چھوڑ دیتا ہے جس کے باعث پاکستانی دریاوں میں سیلاب کی سی صورت پیدا ہوجاتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.