93

جی ہاں، میں ایک‌ خاکروب ہوں!

انسان کی پہچان اُس کے نام کے بعد اُس کا کام ہوتا ہے۔ کام کی بنیاد پر ہی اُس کو داد وصول ہوتی ہے۔ داد دینے والا کبھی یہ نہیں دیکھتا کہ اُس نے کام کیسے، کتنے وقت اور کتنی محنت میں انجام دیا۔کام دیکھنے والے کی آنکھ کو اگر تو بھا گیا تو پھر تعریفوں کے ان گنت ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ بہرحال صفائی ستھرائی ہر کسی کی آنکھوں اور دل کو خوب بھاتی ہے۔ انسان تو کیا اِس کا پالتو کُتا بھی اپنے بیٹھنے کی جگہ کو صاف کر کے بیٹھنا پسند کرتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسان نے صفائی کو یا تو بیماریوں سے بچانے یا پھر “صفائی نصف ایمان” جان کر اپنایا۔ یہ میری مجبوری سمجھیے یا خدمتِ خلق یا پھر نصف ایمان۔۔۔ میں نے صفائی ستھرائی کو اپنا پیشہ بنایا۔

میری پیدائش پر میرے ماں باپ نے میرا کیا نام رکھا معلوم نہیں مگر میرا نام میرے کام کی بنا پر “کوڑے والا” رکھ دیا گیا ہے۔ مجھے پسند ہے کیوں کہ میں ہوں ہی کوڑے والا۔۔۔خیر ۔۔۔۔ عجیب ہے مگر قسمت پر یقین ہے جو قسمت میں تھا مل گیا۔اب یہ میری خوش قسمتی ہے یا بد قسمتی کہ میں جس گھر میں پیدا ہوا وہ( اس خطے میں بسنے والے مذہبی اقلیت قرار دیے گئے )ایک غیر مسلم کا گھر تھا۔مگر میرے والدین انسان تھے۔

ماں کا خواب تھا کہ میں ڈاکٹر بنوں اور انسانیت کی خدمت کروں۔غربت کے باعث میں ڈاکٹر تو نہیں ہوں مگر ماں کا خواب ’’خاکروب‘‘ بن کر پورا کر رہا ہوں۔ انسانوں کے گھر کا کوڑا کرکٹ اُٹھا کر، انسانوں کو بیماریوں سے بچا کر، انسانوں کی گندگی صاف کر کے۔ بظاہربیماریوں کا علاج کرنے والا ڈاکٹر کہلاتا ہے اور گندگی سے انسانوں کو لگنے والی بیماریوں سے بچانے والا میں ’’چوڑا‘‘ کہلاتا ہوں۔ ڈاکٹر خاص سفید رنگ کا کوٹ پہن کر عزت پاتا ہے جبکہ میں ضلعی ویسٹ مینجمٹ کمپنی کی طرف سے سبز رنگ کا یونیفارم پہن کر صفائی کرنے پر نفرت، بے حسی اور تحقیر کا نشانہ بنتا ہوں۔

ڈاکٹر مریض کا علاج شروع کرنے سے پہلے اعلیٰ کرسی پر بیٹھ کر مریض کے لواحقین سے ایک خاص فارم پُر کرواتا ہے مگر میں علی الصبح ( 5 بجے) زمین پر بیٹھ کر حاضری شیٹ پر انگوٹھا لگاتا ہوں اورکوشش کرتا ہوں کہ اپنے علاقے کے مکینوں کے اُٹھنے سے پہلے گلیوں اور بازاروں کو صاف کردوں کیونکہ میں جس علاقے میں صفائی کرتا ہوں وہ شہر کا ایک پوش علاقہ ہے وہاں کے لوگ بہت نازک مزاج ہیں، اس لیے مجھے یہ خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں میرے جھاڑو سے اُٹھنے والی گردوغبار اُنہیں بیمار نہ کر دے۔ ڈاکٹر چندچھٹانک کا سٹیتھوسکوپ اُٹھاکر اپنے مریضوں کے گرد گھومتا ہے جبکہ میں 42 کلو گرام کی دستی ریڑھی پر 80-70 کلو گرام کوڑاکرکٹ لاد کر گدھے کا کام کرتا ہوں۔ ڈاکٹر کو مریض کے معائنے کے لئے تھرما میٹر اور جدید مشینری اسپتال انتظامیہ فراہم کرتی ہے مگر میں کوڑا کرکٹ اور گندگی اُٹھانے کے لئے کُھرپہ اپنی جیب سے خرید کر لاتا ہوں اور صفائی درست نہیں ہوئی ہے “اچھے سے کام کیا کرو” جیسے الفاظ سُننے کو عام دستیاب ہوتے ہیں۔

گن گن کر مہینے کی پہلی تاریخ آتی ہے سُپروائزر سے اجرت وصولی کا چیک لے کر کلیجہ دانتوں تلے آ جاتا ہے جب 10,000 روپے میں سے 6,000 روپے ماہانہ اجرت کے طور پر وصولی کو ملتے ہیں وجہ پوچھنے پر جواب ملتا ہے تُو فلاں تاریخ کو 5 بجے کی بجائے5 بج کر 3 منٹ پر ڈیوٹی پر آیا تھا لہٰذا اُس دن کی اجرت سے تیری کٹوتی بطور جرمانہ ہوئی ہے۔ فلاں دن تُو 10 بجے کی حاضری لگانے نہیں آیا تھا اور دو دن پہلے دوپہر 1 بجے کی حاضری پر تُو موجود نہیں تھا۔ کیا کروں ایک دن میں جب تین مرتبہ حاضری رجسٹر ڈپر انگوٹھے کا نشان لگانا ہوتا ہے وہ بھی 5 بجے صبح،10 بجے اور پھر 1 بجے دوپہر!!!

یہ میری نااہلی ہے یا میرے ساتھ نا انصافی کہ مجھے کارپوریشن میں خاکروب کے طور پر بھرتی تو کر لیا گیا مگر کارپوریشن ملازم ہونے کامیرے پاس کوئی کاغذی ثبوت نہیں ہے۔ بھرتی ہونے کے تین ماہ (90 دن) بعد سروس بک پر ہاتھ کی انگلیوں کے نشان لے کر کارپوریشن ایڈمینسٹریشن کے تالے میں محفوظ ہو گئی مجھے نہیں پتہ میری ڈیوٹی کے اوقات کیا ہیں؟ میری اجرت کیا ہے؟ سروس بک پر میری کارکردگی کن حروف میں درج کی جارہی ہے؟ ان تمام سوالوں کے جواب میرے پاس نہیں ہیں آج جب میری سروس مدت 29 سال ہو گئی ہے اور میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آفسر سے اپنی سماجی خدمت سے ریٹائرمنٹ کا مطالبہ کر رہا ہوں کیونکہ کارپوریشن میں 25 سال سروس مدت پوری کرنے پر ریٹائرمنٹ حاصل کی جا سکتی ہے۔ میں اب سانس کا مریض بن چکا ہوں کیونکہ میرے علاقہ کی گردوغبار نے میرے پھیپھڑوں میں اپنا گھر بنا لیا ہے جو ہوا سے آکسیجن کو پھیپھڑوں میں داخل اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج نہیں ہونے دے رہی۔ میں اُس مقام پر پہنچ گیا ہوں جہاں آج سے تقریباً 50 سال قبل میرے والدین تھے۔ میں بھی اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں اور میرا بیٹا اُس جگہ پر ہے جدھر میں اپنی ماں کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔اب فیصلہ کون کرے گاکہ میرا بیٹا انسانیت کی خدمت کس لباس میں کرئے گا؟؟؟

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اورآگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.