144

خدا جب ہر جگہ موجود ہے تو پھر خدا نظر کیوں نہیں آتا؟

سوال یہ کہ خدا ظاہر ہوکر ایمان کا مطالبہ کیوں نہیں کرتا ؟ وہ کیوں سات آسمانوں میں چھپ کر خود تک پہنچنے کا مطالبہ کا کرتا ہے؟ وہ کیوں براہ راست کلام نہیں کرتا اور پیغمبروں پر کتابیں نازل کرکے انسانوں سے بات چیت کرتا ہے؟ وہ کیوں انسان سے مخلوق دیکھ کر خالق تک پہنچنے کا تقاضا کرتا ہے؟یہ چند سوالات ہیں جو ایک انسان کے ذہن میں گردش کرتے ہیں۔۔ اس کی ایک وجہ نہیں کئی وجوہات ہیں۔ ہم علمی طور پر جائزہ لیتے ہیں کہ خدا کیوں غیب میں رہتے ہوئے ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔

۱۔ اس کی سب سے پہلی وجہ تو عام طور پر یہ بیان کی جاتی ہے کہ اگر خدا سامنے ظاہر ہوجاتا اور براہ راست کلام کرتا تو آزمائش یا امتحان کا عمل ممکن نہ ہوپاتا۔کس کی مجال ہوتی کہ خدا کو دیکھ کر اس کا انکار کرے، اس کے حکم کو براہ راست سن کراس کی سرتابی کی جرت کرے؟ اور اگر خدا لوگوں کو آزادانہ اختیار دے کر انہیں حکم عدولی کرنے دیتا تو یہ خدا کے رتبے کی توہین ہوتی ۔ ایسا کرنے کی صورت میں خدا کو اپنا اختیار اور طاقت غیب میں رکھنی پڑتی۔ آزمائش ممکن بنانے کے لیے دوسری صورت یہ ہوتی کہ خدا بھیس بدل کر مخلوق کی نگاہوں کے سامنے بھی ہوتا اور اوجھل بھی۔ اس صورت میں بھی خدا ایک اعتبار سے غیب ہی میں چلا جاتا۔ لہٰذا خدا کے غیب میں رہنے کی پہلی وجہ یہی ہے کہ یہ امتحان کا نظام قائم ہو جس میں امیدواروں کواپنی مرضی چلانے کااختیار ہو۔

۲۔ دوسرا جواب عام طور پر یہ دیا جاتا ہے کہ خدا اس لیے نظر نہیں آتا کہ انسان اسے دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا۔ موسی علیہ السلام کا واقعہ اس کی دلیل ہے۔ جب موسی علیہ السلام نے خدا کو دیکھنے کی استدعا کی تو اللہ نے یہ فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ چنانچہ جب اللہ نے اپنی ایک تجلی پہاڑ پر ڈالی تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا ۔ بتانا یہی مقصود تھا کہ انسان میں ابھی تو اتنی بھی صلاحیت نہیں کہ وہ سورج کو چند فٹ کے فاصلے سے دیکھ سکے چہ جائکہ سورج کے خالق کو براہ راست دیکھے۔

۳۔ خدا کے دکھائی نہ دینے کی ایک اور وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ خدا اگر اس کائنات میں کسی مقام پر موجود ہوکر خود کو ظاہر کردے تو وہ زمان و مکان میں مقید اور محدود ہوجائے گا ۔ جبکہ خدا تو زمان و مکان سے ماورا ہے۔

۴۔ انسانوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو خدا کو قابل دید سمجھتا اور اسے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ لوگ صوفی، سینٹ، سادھو، مونکس اور دیگر ناموں سے جانے جاتے ہیں ۔ ان کے نزدیک خدا کو ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا البتہ اگر من کی آنکھیں کھول لی جائیں تو تصور کی دنیا میں خدا کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس گروہ کے دعووں کو تسلیم کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ معروضی مشاہدات نہیں جو سب کو نظر آتے ہوں۔ یہ موضوعی مشاہدات ہیں جن کا تعلق وجدان اور ذاتی تجربے سے ہے اور کسی کا ذاتی تجربہ اس وقت تک حجت نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ عقل یا نقل سے ثابت نہ کردیا جائے۔

۵۔ ایک سائنٹفک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انسان ایک محدو د ڈائمنشن والی مخلوق ہے جو انہی چیزوں کو دیکھ سکتی ہے جو اس کی ڈائمنشن کے احاطے میں آتے ہوں۔ فرشتے اور جنات کی ڈائمنشن مختلف ہے اس لیے انہیں دیکھا نہیں جاسکتا ۔ چنانچہ خدا کا معاملہ تو بعید از قیاس ہے۔

۶۔ بعض مکاتب فکر مخلوق کو دیکھ کر خالق تک پہنچنے کا دعوی کرتے اور اس کی ذات کی کھوج لگاتے ہیں۔ لیکن یہ بات عقلا درست نہیں۔ ایک کرسی کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کی کاریگری کی صفت کو تو پہنچانا جاسکتا ہے لیکن کرسی بنانے والے کی شکل و صورت کیا ہوگی، اس کی باڈی کس طرح کی ہوگی، یہ سب معلوم کرلینا ناممکن ہے۔

یہ سب تو مذہبی ، سائنسی اور روحانی وجوہات ہیں جو بالعموم خدا کے غیب میں رہنے کے لیےبیان کی جاتی ہیں۔ایک اور اہم وجہ جو شاید آج تک بیان نہیں کی گئی وہ خدا کی صفت رحمت ہے۔

اگر ہم خدا کے نظام کو دیکھیں تو معاملات جتنے زیادہ غیب میں رہتے ہیں ، اتنا ہی ان میں یقین کی کاملیت کا امکان کم ہوتا اور تشکیک کا کچھ نہ کچھ پہلو موجود ہوتا ہے۔ اسی بنا پر جزا و سزا کا نظام تاخیر سے عمل میں آتا ہے۔ جوں جوں یہ غیب کھلتا جاتا ہے، جزا و سزا کا نظام سرعت سے عمل کرتا ہے۔ چنانچہ جب پیغمبر کو خدا کے نما ئندے کے طور پر بھیجا جاتا ہے تو ابتدا میں لوگ انکار ہی کرتے ہیں۔ اس کے بعد لوگ بار بار غیب کو منکشف کرکے معجزے دکھانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور پیغمبر عام طور پر ان کے ظہور سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ لیکن جب غیب منکشف ہوکر حق سامنے آجاتا ہے تو اب فرار کی کوئی راہ نہیں بچتی اور جزا و سزا کا نظام قانون دینونت کی شکل میں نافذ ہوجاتا ہے۔

اسی طرح سورہ انعام میں بیان ہوا ہے کہ اگر ہم ان کے مطالبے پر پیغمبر کی جگہ کوئی فرشتہ اصل شکل میں بھیجتے تو پھر تو قصہ تمام کردیا جاتا اور اور ان کو مہلت ہی نہ ملتی۔

اسی اگر ہم ان مخلوقات کو دیکھیں جو خدا کی حضوری میں جی رہے ہوتے ہیں تو ان کے پاس غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ چنانچہ فرشتے اول تو کوئی حکم عدولی کر ہی نہیں سکتے اور اگر کر بھی لیں تو فورا ان پر سزا کا نفاذ ہوجاتا ہے۔ خدا کے ظاہر ہونے کے بعد کسی بھی معمولی حکم عدولی پر سزا کا نفاذ ہونا لازمی ہے۔
ا س پس منظر میں دیکھا جائے تو خدا کے غیب میں رہنے کی ایک بڑی وجہ جزا و سزا کے نظام کو موخر کرنا اور انسانوں کو مہلت دینا ہے تاکہ وہ اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیں اور رجوع کرلیں۔
سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر ڈاکٹر محمد عقیل)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.