267

رزق اور توکل کی اہمیت بلخصوص کاروباری حضرات کے لیے

یہ تحریر خاص طور پر کاروباری حضرات کے لیے ایک کھلا پیغام ہے۔ بحثیت مسلمان ہمارا ایمان اور اعتقاد ہے کہ ہر جاندار کا رزق لکھا جا چکا ہوتا ہے- اس لئے اللہ پر توکل لازم و ملزوم ہے- اس کے کئی مثالیں‌ ہماری دنیا میں‌ موجود ہیں‌. انھی میں سے کچھ کا ذکر یہاں پر کررہے ہیں۔

برطانیہ، چین اور ملائشیا مشہور سپر سٹورز میں کام کرنیوالے ایک لائق فائق مینجر کو بن داؤد سپر سٹوز مکہ مکرمہ میں کام کرنیکا اتفاق ہوا- وہ برطانوی نژاد تھا اور بزنس مینجمنٹ کی کتابوں میں اس نے ہمیشہ اپنے مد مقابل منافس (compititor) کو نیچا دکھا کر آگے بڑھنا ہی سیکھا تھا- مکہ مکرمہ میں کچھ عرصہ اس نے بطور ریجنل منیجر کے اپنی خدمات سرانجام دیں-

خیر دوران ملازمت اس نے دیکھا کہ ایک دوسرے نام کے سپر سٹور کی برانچ اسکے سٹور کے بالکل سامنے کھلنے کی تیاریاں ہورہی ہیں- اس نے سوچا کہ یہ لوگ ادھر آکر اسکی سیلز پر اثر انداز ہونگے- لہذا اس نے فورا بن داؤد سپر سٹوز کے مالکان کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں اس نئے سپر سٹور کے متعلق کچھ معلومات، مشورے اور آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرنے کی تجاویز دیں- تب اس کو زندگی میں حیرت کا شدید ترین جھٹکا لگا جب مالکان نے اس کو نئے سپر سٹور کے ملازمین کا سامان رکھوانے، سٹور کی تزئین و آرائش اور انکے چائے پانی کا خاص خیال رکھنے کا کہا- اس کی حیرت کو ختم کرنے کیلئے بن داؤد سٹورز کے مالکان نے کہا کہ،
وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لائیں گے اور ہمارا رزق ہمارے ساتھ ہوگا- اگر اللہ نہ چاہے تو ہم اپنے لکھے گئے رزق میں ایک ریال کا اضافہ نہیں کرسکتے – اور اگر اللہ نہ چاہے تو نئے سٹور والوں کے رزق میں ہم ایک ریال کی بھی کمی نہیں کرسکتے-

تو دوستوں کیوں نہ ہم بھی اجر کمائیں اور مارکیٹ میں نئے آنیوالے تاجر بھائی کو خوش آمدید کہہ کر ایک خوشگوار فضا قائم کریں- خیر ہم بڑھتے ہیں دوسری مثال کی جانب۔۔۔

الفقیہ پولٹری کمپنی سعودی عرب میں ایک بڑا نام اور ساکھ رکھتی ہے۔ الفقیہ پولٹری کمپنی کے مالک نے مکہ مکرمہ میں ایک عظیم الشان مسجد (مسجد فقیہ) بھی تعمیر کی ہے- اسکی منافس (compititor) کمپنی الوطنیہ چکن لاکھوں ریالوں کی مقروض ہو کر دیوالیہ پن کے قریب پہنچ گئی-

الفقیہ کمپنی کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اپنی مخالف کمپنی کے مالک کو ایک خط بھیجا اور ساتھ ایک دس لاکھ ریال سے زائد کا چیک بھیجا- اس خط میں لکھا تھا کہ،
میں دیکھ رہا هوں کہ تم دیوالیہ پن کے قریب کهڑے ہو، میری طرف یہ رقم قبول کرو، اگر مزید رقم کی ضرورت ہے تو بتاؤ- پیسوں کی واپسی کی فکر مت کرنا- جب ہوئے لوٹا دینا-
اب دیکھئے کہ ارب پتی شیخ الفقیہ کے پاس الوطنیہ کمپنی خریدنے کا ایک نادر موقع تھا لیکن اس نے اپنے سب سے مخالف کی مالی مدد کرنے کو ترجیح دی-

حاصل کلام:-
اوپر بیان کیئے گئے سچے واقعات ہم سب کو اسلامی تجارت کے اصولوں سے متعارف کراتے هیں، جس میں کسی کا برا سوچنے یا ٹانگیں کھیچنے کی بجائے بھلا سوچا جاتا ہے- هم لوگ مغرب کے سرمایہ دارنہ نظام کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں- اللہ پر توکل نام کی چیز اور اپنے مسلمان کی بھلائی کی سوچ ہم میں سے ختم هوتی جا رهی هے- کسی مخالف کمپنی سے پریشان نہ ہوں، اگر آپ اپنا کام ایمانداری سے کرتے اور کسی پر احسان کرے تو اللہ تعالٰی آپ کا بازو پکڑ کر آپ کو کامیابی کی معراج تک پہنچا دیتے هیں-

یاد رکھیں۔۔۔
کسی کی ٹانگیں کھینچنے سے آپکا رزق زیادہ نہیں ہوگا- بے شک اس کے جو نصیب میں ہے وہ اسکو مل کر رہے گا-

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.