175

شادی بیاہ اور معاشرتی رکاوٹیں !

اللہ تعالٰی نے تخلیق آدم کے بعد اس مٹی کے پتلے کے اندر اپنی روح‌ پھونکی اور فرشتوں‌ کو حکم دیا کہ اس کے آگے سجدے میں گر پڑو! تمام فرشتوں‌ نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اسے اللہ نے راندۂ درگاہ کرتے ہوئے بنی نوع انسان کو خبردار کر دیا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، اس سے بچ کے رہنا۔ شیطان نے بھی اللہ سے روز قیامت تک کی مہلت لے کر یہ چیلنج کیا کہ میں‌ نسل انسانی کو تمام اطراف سے گھیر کر گمراہ کرکے رہوں‌ گا اور اے اللہ تو ان میں‌ سے اکثر کو شکرگزار نہیں پائے گا۔

ہم یہ بخوبی جانتے ہیں‌ کہ دشمن ہمیشہ کمزور پہلو سے وار کرتا ہے۔ دنیا میں‌ فطرتاً عورت مرد کی کمزوری ہے۔ جہاں‌ کہیں‌ عورت موجود ہوگی مرد لامحالہ اس طرف متوجہ ہوگا۔ شیطان مردوں‌کی اسی کمزوری کو استعمال کرکے انہیں‌ اپنی زندگی کے اصل مقصد سے غافل کرنے کی کوشش میں‌‌‌‌‌‌ ہے اور انسانی معاشرے میں میڈیا ایک شیطانی آلہ کار بن کر ہر گھر میں‌گھسا ہوا ہے۔ ایک طرف آزادی و مساوات کے نام پر عورتوں‌کو بازار کی زینت بنوایا دوسری طرف گھریلو معاشرت میں‌ خاندان کے ادارے کو ٹارگٹ کر کے اس کی تباہی کے درپے ہوا۔ این جی اوز کے ذریعے کم عمری کی شادیوں پر پابندی کا بل پیش کروایا گیا۔ میڈیا کے ذریعے معاشرے میں جنسی ہیجان برپا کیا جائے گا تو بلوغت کی عمر کو پہنچنے والے نوجوان بچے بچیاں جب جائز راستہ بند پائیں گے تو کیا کریں گے؟

نوجوان اپنی بلوغت کی عمر تک ہر علاقے میں مختلف وجوہات کی بنا پر مختلف عمر میں پہنچ جاتے ہیں، اس کا 18 سال کی عمر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے یونیورسل قانون بنا کر ہر کسی پر نافذ کر دینا چاہیے۔ نکاح کو مشکل ترین اور دوستیاں‌ و آشنائیاں‌آسان ترین بنا کر شرم و حیا اور اخلاقی اقدار کا جنازہ نکلوا دیا گیا۔ سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی کم اور عشق زیادہ فرمایا جاتا ہے یہاں تک کہ استاد اور شاگرد کے مقدس رشتے میں جو ایک حجاب تھا، وہ بھی کب کا ہٹ چکا اور طالب علم استانی کے عشق میں خودکشیاں کر رہے ہیں۔

ان حالات میں کوئی نوجوان مرد یا عورت نکاح‌ کے ذریعے اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کرنا چاہے تو معاشرہ اس کے لیے یہ راستہ مشکل ترین بنا دیتا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ ابھی تہماری عمر ہی کیا ہے؟ ابھی تم کچھ کام دھندا تو سیٹ کر لو، تمہیں‌ کس بات کی جلدی ہے؟ ابھی تم سے بھی بڑے بیٹھے ہوئے ہیں‌ پہلے ان کا ہوگا پھر تمہاری باری آئے گی، اس طرح‌ کی باتیں جائز راستے کی رکاوٹیں بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں‌۔

اگر والدین شادی کرنے پر رضامند ہو ہی جائیں‌ تو پھر رسوم و رواج کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے کہ جو کام چند ہزار روپے خرچ کرکے آسانی سے ہو سکتا ہے اسے لاکھوں‌ روپے اجاڑ کر، قرضے اٹھا کر برادری میں‌ اپنی ناک اونچی رکھنے کے نام پر مشکل ترین بنا دیا جاتا ہے۔

حضرت عبدالرحمان ابن عوف رضی اللہ عنہ ایک دن مسجد نبوی میں تشریف لائے تو حضور صل اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پر زرد رنگ کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ نشان کیسا؟ انہوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! میں نے شادی کر لی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ولیمہ کرو چاہے ایک بکری کا بچہ ہی ذبح کرکے کرنا پڑے۔

کتنی عجیب بات لگتی ہے کہ صحابی رسول نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنی شادی میں مدعو نہیں کیا؟ ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؟ سارا خاندان سارے رشتے دار دوست احباب ہمسائے دور دراز کی جان پہچان والے سینکڑوں لوگ مدعو کیے جاتے ہیں اور پھر اگر کسی کو دعوت نہ دی جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے ناراض ہو جاتا ہے۔ اکثر ان سب کو بلایا جاتا ہے جن کی شادیوں پر خود جا کر نیوندرا ڈالا تھا کہ اب وہ رقم بمع سود وصول کرنے کا وقت ہے۔ یہ کون سا اسلام اور کون سا دین ہے؟ کدھر کے مسلمان ہیں ہم؟ کیا ہماری شادیاں مختصر مہمانوں کے ساتھ صرف چند قریبی گھر والوں کو شامل کر کے نہیں ہو سکتیں؟ جن پر زیادہ خرچہ بھی نہیں آئے گا اور نہ قرض اٹھانا پڑے گا؟

لیکن ۔۔۔۔۔ نہیں! ہمارے میڈیا نے ذہن سازی ہی ایسی کر دی ہے کہ بچے بچیاں خود بھی سادگی والی شادی کو پسند نہیں کرتے۔ خود ان کی فرمائشیں ہوتی ہیں کہ بارات میں‌اتنے لوگ ہونے چاہئیں، ولیمے پر اتنے۔ فلاں ڈیزائنر کا ڈریس چاہیے اور فلاں پارلر سے میک اپ۔ چند سال پہلے دلہا کے میک اپ کا کوئی تصور موجود نہیں تھا لیکن اب دلہا کے لیے الگ سے پارلر ہے جہاں موصوف چھ گھنٹے لگا کر آئیں گے۔ بارات کا کوئی تصور اسلام میں نہیں نہ ہی یہ عربی لغت کا لفظ ہے، یہ صریحاً ہندو معاشرے کی پیداوار ہے جسے ہم سب بخوشی اپنائے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ بہت دیندار گھرانے بھی اس کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے۔ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی رسم رہ نہ جائے کہیں ہمارے بچے یا بچی کے دل کے ارمان ادھورے نہ رہ جائیں، چاہے اس کے لیے اللہ اور اللہ کے رسول کے احکام ردّی کی ٹوکری میں ڈالنے پڑیں۔ بس بچوں کی خوشی کے لیے ہر ناجائز کام کرنا تو بہت ضروری ہے۔

ہمارے ہاں شادی کارڈ پر حدیث رسول لکھی جاتی ہے “النکاح من سنتی و من رغب عن سنتی فلیس منی” نکاح میری سنت ہے اور جس نے میری سنت سے منہ موڑا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ کتنے افسوس اور شرم کا مقام ہے کہ سارے کے سارے شادی کے فنکشن میں ہم اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی دھجیاں اڑاتے ہیں لیکن ہمارے اسلام کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔ اسلام میں سوائے نکاح کی تقریب اور وہ بھی مسجد میں یا ولیمہ کی دعوت کے کسی اور تقریب، بارات، جہیز یا رواج کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ یہ سب ہمارے اپنے بنائے اور اٹھائے ہوئے خود ساختہ بوجھ ہیں جو ہمارے مڈل کلاس اور غریب طبقے کی کمر کو توڑ رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے نکاح مشکل اور زنا آسان بن کر رہ گیا ہے۔ اس سلسلے میں عملی طور پر میدان میں آ کر مثال قائم کرکے اس معاشرے کو اپنی اسلامی اقدار کی طرف واپس موڑنے کی کوشش میں اپنا اپنا حصہ ڈالیے تاکہ ہم ان ناروا مسائل کو ممکن حد تک کم کرکے شادی کے فریضے کو آسان بنا سکیں۔

دوسری طرف ہمارے ہاں اگر کوئی مطلقہ یا بیوہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے دوبارہ شادی کی خواہش کا اظہار کرے تو باقی بہن بھائیوں‌ اور عزیز رشتہ داروں کی جعلی غیرت جوش مارنے لگتی ہے۔ اسے طعنے ملنے لگتے ہیں اس کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔ ہاں‌ اگر وہ چوری چھپے آشنائیاں‌ کرے یا اندر ہی اندر گھٹتی رہے تو برداشت ہے لیکن دین نے جو جائز راستہ کھولا ہے وہ ہمارا معاشرہ قبول کرنے سے عاری ہے۔ اگر اس کے بچے چھوٹے ہیں تو ان کا مستقبل خراب کرنے کا طعنہ اور اگر بڑے ہیں‌‌ تو اپنی ماں‌ کی دوسری شادی انہیں‌ ہضم نہیں‌ ہوتی۔ یہ کوئی نہیں‌ سوچتا کہ اس کی بھی کچھ جسمانی اور نفسیاتی ضروریات ہیں جو صرف ایک شوہر ہی پوری کر سکتا ہے۔ جب اللہ نے اس کے لیے جائز راستہ رکھا ہوا ہے کہ وہ پاکبازی کی زندگی گزار سکے تو سماج کو یہ حق کس نے دیا کہ کبھی غیرت کے نام پر اور کبھی کسی اور بہانے وہ اس بے چاری کے راستے میں رکاوٹ ڈالے جو اپنی زندگی گھٹ گھٹ کر مرنے کی بجائے دیگر گھریلو خواتین کی طرح‌ شوہر کے حفاظتی حصار میں‌ بسر کرنا چاہتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں‌ کہیں‌ جائیداد ہڑپ کرنے کے لیے عورتوں کی قرآن سے شادی کا رواج ہے جو اس عورت کے ساتھ ساتھ دین کا بھی بدترین استحصال ہے۔ کہیں بھی اس طرح‌ کی واہیات شادی کا تصور دین میں‌ نہیں‌ ہے۔ اسی طرح اگر کسی مرد نے ہمت کر ہی لی کسی بیوہ یا مطلقہ کو نکاح اور دوسری شادی کے ذریعے سہارا دینے کی تو اس کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔ پھر جس گھر میں‌ بیوہ یا مطلقہ دوبارہ بیاہ کر لائی جاتی ہے وہاں‌ اسے ہی منحوس، اپنی بیوگی یا طلاق کا ذمہ دار اور قصور وار سمجھا جاتا ہے اور گھر کی دوسری خواتین کو اس کے ساتھ میل جول رکھنے سے باز رہنے کو کہا جاتا ہے کہ اس کے سائے سے بھی بچ کر رہیں۔ حالانکہ اس طرح بدشگونی یا نحوست کا کوئی تصور دین میں نہیں ہے۔ اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم کے فرامین معاشرے میں نکاح کو فروغ دیتے ہیں کہ کوئی بھی جوان عورت خواہ کنواری ہو، بیوہ ہو یا طلاق یافتہ وہ معاشرے کے رحم و کرم پر زندگی نہ گزارے اور جلد سے جلد نکاح کے حصار میں محفوظ ہو جائے۔ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ معاشرے میں بے راہ روی کے تمام ممکنہ راستے بند کر دیے جائیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے علماء اپنی تقاریر اور خطبوں میں مسلکی اختلافی مسائل کی بجائے ان مسائل پر بات کیا کریں اور ہندوانہ رسوم و رواج کی مخالفت کرکے اسلامی اقدار کو اپنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جو سمجھدار لوگ ہیں وہ شادی کے موقع پر کی جانے والی رسموں اور رواجوں کا بائیکاٹ کر کے سادگی اور کم خرچ کے ساتھ شادیاں کرکے دوسروں کے لیے مثال قائم کریں کہ صرف باتوں سے یہ تبدیلی نہیں‌ آئے گی۔

(تحریر بشارت حمید)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.