165

صنعت کے حوالے سے چند رہنما اصول۔۔۔

صنعت کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ،
خام مال یعنی (Raw Material) کی مسلسل دستیابی ہوناچاہئے۔ خام مال صنعت کی غذاہے اگر غذاملنابند ہوجائے تو صنعت ختم ہوجاتی ہے یا ذبردست نقصان اٹھاناپڑتاہے اس لئے کسی بھی صنعت کے محل وقوع کے لئے اس بات کی ضمانت ہونی چاہئے کہ کم از کم 50سال تک سستاعمدہ مسلسل وافرمقدار میں خام مال دستیاب ہوتے رہناچاہئے۔

آج کل یہ اصول بن گیاہے کہ جہاں سے خام مال نکلتاہے وہیں پر صنعتیں قایم کی جائے اور پراڈکٹ کو آحری شکل وہیں پردی جائے اور مارکٹ میں صرف (Final Product) ہی پہنچایاجائے۔

اب کوئی بھی صنعت قایم کرنی ہے تو سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھناہوتاہے کہ قرب وجواریں کیاکیا پیداوار ہوتی ہے اور اس خام مال سے کیا کیا اشیاء بنائی جاسکتی ہیں۔

برصغیر پاک و ہند ایک (Biological Country) یعنی حیاتیاتی ملک ہے اس لئے ہم غذائی اشیاء سے ہی کچھ پراڈکٹ نکال سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر مکئی ہے تو مکئی سے کارن فلیکس پاپ کارن روٹی وغیرہ کی صنعت ڈال سکتے ہیں۔
اسی طرح کیرالا میں ربر کی پیداوار ہے تو وہاں پر ٹائیر ٹیوب (Gaskets) چیل وغیرہ کی صفت ڈال سکتے ہیں۔
اگر کہیں گیہوں کی پیداوار ہے تو وہاں پر بریڈ ، ڈونٹ ، کیک وغیرہ کی صنعت قائم کرسکتے ہیں۔
اسی طرح چاول ، دال ، گنا، تیل کے پھول ، بونڈے ، کپاس س وغیرہ سے بھی اشیاء بنائے جاسکتے ہیں۔

لیکن آجکل صنعت قائم کرنا بہت بڑا (Risk) لینے والی بات ہے کیونکہ (Privatiation) کی وجہہ سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کاپراڈکٹ ستا ہے اور انکا (Advertisement) بہت ہوتا ہے پھر بھی اگر صنعتوں کے قائم کرنے کا آئیڈیا ہے پورے پورے معلومات ہیں اور مکمل حساب کرنے کے بعد ریٹل قیمت فروحت سے آدھی قیمت پر کوئی پراڈکٹ تیار ہوسکتاہے تو صنعت قایم کرنے کی ہمت کرسکتے ہیں۔

صنعت کا دوسرا اصول یہ ہے کہ،
مشین اور آوزار بلکل (Latest) معیاری آٹومیٹک کمپیوٹرائزڈ (Sophisticated) ہونے چاہئے تاکہ (Quality) اور (Quantity) بڑھائی جاسکے اور دوسروں سے مسابقت ومقابلہ کرسکیں۔

صنعت کا تیسرا اصول یہ ہے کہ،
انرجی کی کمی نہ ہو یعنی الکٹرسٹی ، ڈیزل‘آئیل کوئلہ ، پٹرول ، ایندھن کی کبھی کمی نہ ہونے پائے ورنہ بہت نقصان ہوسکتاہے اسکے علاوہ (Infrastructure) بھی مکمل ہوناچاہئے یعنی پانی‘ڈرینچ‘ ٹیلی فون ٹرانپورٹ روڈز کی سہولتیں ہونی چاہئے۔

صنعت کا چوتھا اصول یہ ہے کہ،
کام میں جدت ہونی چاہئے اور (Packing) اچھی ہونی چاہئے کیونکہ پبلک کچھ نیا (Something New) چاہتی ہے۔

صنعت کا پانچواں اصول یہ ہے کہ،
مارکیٹنگ کانظام (Perfect) ہونا چاہئے یعنی (Outgoing) اور (Coming) میں توازن (Balance) ہوناچاہئے اگر یہ تو ازن بگڑ گیا توب ہت پریشانی ہوتی ہے۔

صنعت کا چھٹا اصول یہ ہے کہ،
(Labour) اور اسٹاف سمجھ دار اور (Skilled) ہونے چاہئے۔ اسٹاف اور لیبر کو ٹیکنک ‘فارمولااور طریقہ کارکی جانکاری ہونی چاہئے تاکہ پراڈکٹ کامعیار بلند رہے۔

ان اصولوں کے علاوہ صنعت کے قیام میں بہت سارے (Factors) اجزاء ہیں ۔ ان کی پوری پوری جانکاری ہونی چاہئے اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ کو سیاسی مدد (Political Support) ہونی چاہئے ورنہ بڑے بڑے صنعتیں سیاست کے نذر ہوچکے ہیں۔

آخرمیں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو بھی کریں‌ انتہائی سوچ سمجھ کر کریں اور صلاح مشورہ ضرور کیا کریں کیونکہ اس میں‌ کوئی حرج نہیں ہوتا۔
یاد رکھیں کہ، اکیلا آدمی کچھ نہیں کرسکتاہے صرف ایک اچھی ٹیم اچھا کام کرسکتی ہے اس لئے سب سے پہلے ایک ٹیم بنائیں۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر نعمت اللہ غوری)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.