196

عصری ادب میں وجودی فکر کا ارتقاء

عالمی اُفق پر وجودیت کی ادبی عظمت اس وقت ایک مسلمہ حقیقت تسلیم کی گئی جب ۱۹۶۴ء میں فرانسیسی مفکر جین پال سارتر کو نوبیل پرائز پیش کیا گیا۔ اور جب اس نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کیا اور جواز بیان کیا تو وجودیت کی دلپذیری میں اضافہ ہوگیا اور عالمی ادب پر اس کے نقوش اس حد تک نمایاں ہونے لگے کہ یورپی ادب کا بیشتر حصہ اسی کے زیرِ اثر تخلیق ہونے لگا۔

جین پال سارتر نے نوبیل انعام کی پیشکش اس لیے مسترد کی کہ اس کے خیال میں ایک ادیب کو سوائے اپنے الفاظ کے کسی اور چیز کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ اپنے قلم کے ساتھ کسی خاص قسم کا اثر ور سوخ وابستہ کرنا اپنی ذات سے بددیانتی ہے۔ اگر صرف ”ژاں پال سارتر” لکھا جائے یا ”ژاں پال سارتر نوبیل انعام یافتہ” لکھا جائے تو دونوں میں نمایاں فرق ہے۔ پہلی صورت میں وہ صرف اپنی ذات کو پیش کرتا ہے اور دوسری صورت میں ایک ایسے اعزاز کا سہار ا لے کر اپنی ذات کی نمائندگی کرتا ہے جو نہایت خاص افراد کا سرمایۂ افتخار ہے۔ اس سے ذات کی اصل حقیقت کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ ذات کی نفی ہوتی ہے۔

بیسویں صدی کا عظیم ادب زیادہ طور اثباتیت، علامتیت، تصوف ، جنسیت اور وجودیت کے زیر اثر پروان چڑھا، یہ نظریات زندگی سے دوری کا سبق نہیں دیتے، بلکہ زندگی کو ایک خاص ڈھب اور قرینہ دینے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی کی عملی تصویر میں حسِ لطیف سے رنگ بھرنے کا نام ادب ہے۔ حقیقت میں یہ علمی نظریات ہیں جو فلسفۂ حیات کی بھٹی سے کشید کئے گئے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مذہب ، فلسفہ، نفسیات اور سائنس کے نظریات نے زندگی کے روپ کو ہمیشہ نکھار بخشا ہے اور ادب کو متمول کیا ہے۔ فلسفہ اور مذہب ہمیشہ کلچر اور ثفاقت کی تخلیق کا باعث رہے ہیں جبکہ ادب اور آرٹ اسے منعکس کرتے ہیں۔ فلسفہ اور مذہب اقدار کا تعین کرتے ہیں جب کہ ادب انہیں عیاں کرتا ہے، یوں ادب اور دیگر نظریات علوم ، زندگی کے احیاء ، فروغ اور سنوارنے کے مسلک سے منسلک ہیں۔ البتہ زندگی کی تعمیر میں فلسفہ صرف ان نظریات سے راہنمائی حاصل کرتا ہے جو اقلیم فکرو دانش کی وراثت ہیں۔ اور مذہب زندگی کو الہٰیات کے توسط سے مزین کرتا ہے۔ یوں جتنے بھی ادبی رجحانات ملتے ہیں یہ بالواسطہ علوم وفنون کی دین ہیں۔ مثلاً اثباتیت کے زیر اثر فروغ پانے والا ادب دراصل طبعی علوم کے احیاء کی پیداوار ہے جس نے انسان کو درست اور Exact Perception میں واقعات کو پرکھنے کا حوصلہ عطا کیا اور تصوف کی علامتی اور تصوریت کی فرضی بھول بھلیوں سے راہ نجات دکھائی،جنسیت کے علمبردار فرائیڈ، یونگ اور ایڈلر نے نفسیاتی الجھنوں اور حقیقتوں کا مطالعہ اس قدر گہرائی سے کیا کہ ادب کے قاری اس صداقت کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ایک خفیف سا فرق یہ رہا کہ فرائیڈ جنس کو Basic Force of Life قرار دے کر ہر الجھن کی تشریح اس کی بنیاد پر کرتا ہے جب کہ یونگ اور ایڈلر Self Assertion یا ذاتی انا کی تسکین پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ لیکن ان نظریات کے زیر اثر تخلیق کیا جانے والا تمام ادب زندگی کو ایک Positive اور Constructive Attitude عطا کرتا ہے۔ ”ادب برائے ادب” اور ”ادب برائے زندگی” کی تقسیم اسی کے توسط سے وجو د میں آئی۔ جس تحریر میں زندگی گزارنے کے اسلوب واضح اور مقصد نمایاں نظر آئیں اسے ادب برائے زندگی قرار دیا گیا اور جس میں لطیف احساسات کو نہایت خوبصورت پیرایہ میں الفاظ عطا کئے گئے اور مقاصد کا تعین سوالیہ نشان بنا رہا، اسے محض ادب برائے ادب کا نام دیا گیا۔ دیکھا جائے، انسان کرۂ ارض پر مرکزی کردار ہے، ہر شے کی اہمیت اسی کے دم سے ہے، ہر چیز انسان کے وجود کے بغیر بے معنی اور غیر اہم ہے اور یہی نکتہ وجودیت کے ادبی رویے کا سنگ میل ہے۔

جس طرح جمالیات کا بنیادی معیار حسن کی پرکھ ہے اور اخلاقیات کا معیار خیر وشر کی پہچان ہے اس طرح وجودیت کے مفکرین کوئی اصول، معیار یا نظریہ زندگی پیش نہیں کرتے بلکہ اپنے ناول یا افسانے کے کرداروں میں نظریہ کے بجائے طرزِ حیات پیش کرتے ہیں۔مختلف معاملات ، حالات اور مسائل میں جس انداز سے وہ کردار Behave کرتے ہیں وہی وجودیت کی روش ہے اور وہی وجودی فکر کی ادبی تصویر۔

وجودیت کو طرز حیات کے طور پر پیش کرنے کے پس منظر میں غالباً وہ نظریاتی جنگ ہے جو ہیگل کی Idealism نے Naturalism کے خلاف شروع کی تھی جس نے انسان کے پندار کو ٹھیس پہنچائی تھی اور کہا تھا کہ وہ اشرف المخلوقات نہیں بلکہ وہ کائنات میں دیگر مظاہر فطرت کے مساوی ہے۔ وسیع کائنات میں انسان محض کل کے ایک جزو کی حیثیت رکھتا ہے اس جزو کو دیگر اجزا پر کوئی توفق حاصل نہیں۔قوانین فطرت یکساں طور پر کائنات کو کنٹرول اور Govern کرتے ہیں۔ اس نظریے سے اثباتی علوم میں گرانقدر اضافہ ہوا، لیکن ردعمل کے طور پر انسان کی عزت نفس پرکاری ضرب لگی۔ صدیوں کا مغرور انسان جو ”Crown of Creation” کے صنم کدے میں پندار کا بت بنا بیٹھا تھا، اس کی آنکھوں سے سامنے ڈھے گیا۔ یہیں سے کسی ماورائی طاقت سے بے نیازی کا آغاز ہوا۔ چنانچہ اس نے اپنی فوقیت جتانے کے لیے ایک نئی مہم شروع کی جسے تاریخ میں Idealism (تصوریت) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جس کے بانیوں میں ہیگل کا نام قابل ذکر ہے۔ اس نے انسان کی برتری Supermacy ظاہر کرنے کے لیے Absolute Idea کا تصور پیش کیا جس کے حصول کے لیے Human Self (انسان کی ذات) مسلسل کوشش میں مصروف عمل ہے۔ اس کی Realization یا حصول صرف انسان کی صفت ہے باقی مظاہر فطرت اس سے محروم ہیں۔ ایک طویل عرصہ اس نئے تخیل کے سحر سے لوگ محسور رہے، اور اسے مذہب کا نعم البدل بھی تصور کیا گیا۔ لیکن جلد ہی یہ خمار اتر گیا۔ جب محسوس کیاگیا کہ Idealism ایک اور طریق سے انسانی ذات پر حملہ آور ہوئی ہے یہ انسانی ذات کی اپنی حقیقت اور اہمیت تسلیم نہیں کرتی بلکہ کسی اور چیز کے حصول کا ذریعہ بن گئی ہے۔ چنانچہ اس کے خلاف ایک سخت رد عمل ہوا جو تاریخ ادب و فلسفہ میں وجودیت یا Existentialism کے نام سے مشہور ہوئی اور مختصر میں عالمی ادب کی بساط پر چھا گئی۔

”وجودیت”جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، دراصل انسانی وجود کی اہمیت اور برتری کے احساس کا نام ہے۔ سورن کرکیگارڈ جو ہیگل کا ہم عصر تھا، ”وجودیت” کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے لیے انسانی وجود کی دیگر مظاہر فطرت پر فوقیت ثابت کرنا اہم ترین مسئلہ تھا۔ چنانچہ اس نے وجود (EXistence) اور جوہر(Essence) کے دو نظریات پیش کئے جو زندگی کا خاصہ ہیں۔ کوئی شے اس وقت تک وجود میں نہیں آسکتی جب تک یہ دونوں موجود نہ ہوں۔ انسان اور دیگر مظاہرمیں فرق یہ ہے کہ انسان میں Existence پہلے آتی ہے بعد میں وہ Essence خود حاصل کرتا ہے۔ جس سے اس کی انسانیت کی تکمیل ہوتی ہے۔ ماں کی گود سے لے کر قبر کی لحد تک Essence کے حصول کے لیے کوشاں رہتا ہے اور اپنی شخصیت کی تشکیل اور تعمیر کرتا رہتا ہے۔ جب کہ دیگر مظاہر فطرت میں یہ معاملہ انسان سے مختلف ہے۔ ان میں Essence پہلے موجود ہوتی ہے اور Existence بعد میں آتی ہے۔ ہم کسی پتھر کو اس وقت تک پتھر نہیں کہہ سکتے جب تک اس میں پتھر کی تمام صفات موجود نہ ہوں جس کے باعث اسے پتھر کہا جا تا ہے۔ کسی میز کو اس وقت تک میز نہیں کہہ سکتے جب تک میز کی صفات موجود نہ ہوں، (جوہر یا Essence سے مراد وہ ضرور صفات ہیں جو اس شے کے وجود کے لیے لازمی ہیں جس کے بغیر اس شے کا تصور نہ کیا جاسکے)

چند ایک نظریات جو وجودی فکر کی بنیاد ہیں انتہائی اختصار سے مندرجہ ذیل ہیں:
وجودی ادب میں انسان کو ہمیشہ ایک Situationمیں Depictکیا گیا ہے اور یہ اصطلاح یا تصور اس قدر وسیع معانی کا حامل ہے کہ کسی متبادل لفظ میں سما نہیں سکتے۔ انسان کا پورا ماضی، موجودہ حال، مستقبل کے عزائم، تعلیم، شخصیت، وراثت، ماحول وغیرہ Situation میں ہوتا ہے۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے باہر نہیں ہوتا۔یوں انسان کے افعال بھی situation کی پیداوار ہیں جو انسان کی راہیں اور منزلیں بھی متعین کرتی ہے۔ ہرفرد دوسرے سے مختلف بھی اس لیے ہے کہ ہر فرد کی Situationدوسرے سے مختلف ہے۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس تصور نے ہمارے اختیاری افعال پر بھی پابندی عائد کر کے ہماری Essenceکے حصول میں رُکاوٹ کھڑی کر دی، ہماری کوشش بار آور نہ ہونے میں ہماری situationکا دخل ہے، لیکن وجودی حکماء ہمارے اختیار کی دنیا کو بہت وسیع مانتے ہیں۔ انتخاب( Choice)ایک ذاتی فعل ہے ہم ہر situation میں رہ کر اپنی پسند یا نا پسند کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ آزادی انتخاب Essence کے لیے لازمی مفروضہ ہے انتخاب یا Choiceانسانی فعل کا خاصہ ہے۔

وجودیت کی اصل عمارت”وجود” کی ”اعلی قدر” کو بنیادی اہمیت تسلیم کرنے کی بنیاد پر قائم ہے۔ تمام دیگر اقدار اس وجود سے وابستہ ہیں اسے ہر حالت میں قائم اور مستحکم کرنے کے لیے Essence کا زیادہ سے زیادہ حصول لازمی ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے ہر جائز تدبیر ناگزیر ہے۔ کیونکہ ہماری زندگی اس وجود کے دم سے وابستہ ہے ۔ Essenceکا حصول جس قدر زیادہ ہوگا ہمارا وجود اتنا ہی زیادہ معتبر یا مکمل ہوگا۔ وجودیت کی اصطلاح میں ہماری Authentic Existence ہو گی گویا ہماری Existence کو ماپنے کا آلہ ہماری Essence کا حصول ہے۔ اور یہ معتبر وجود یا مکمل وجود جسے Authenic Existenceکا نام دیا گیا ہے دراصل انسان کو Self Sufficient بناتا ہے جو وجودی فکر کا Idealانسان ہے۔ Self Sufficiency انسانی معراج ہے جو اسے دیگر مظاہر فطرت سے بے نیاز کر کے فوقیت عطا کرتا ہے۔ اب اسے کسی سہاروں کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

قدرت کا اعلیٰ ترین عطیہ جو انسان کو ودیعت کیا گیا ہو شعور اور ذہن ہے جو اسے دیگر اشیاء سے ممیز کرتا ہے بلکہ Essenceکا حصول بھی شعور کا مرہونِ منت ہے۔ وجودی ادب میں شعور کی اہمیت اس قدر ہے کہ ان کے نزدیک کائنات کے تمام مظاہر انسانی شعور کی بدولت حقیقت رکھتے ہیں ورنہ ان کی موجودگی بے معنی ہے۔ ان کا وجود انسانی شعور کے باعث ہے۔ ان کی موت و زیست انسانی شعور کے دم سے وابستہ ہے۔ کچھ اسی قسم کا تعلق انسان کا دیگر انسانوں کے ساتھ ہے۔ ہر انسان دوسرے کا معاون ہونے کے باوصف دوسرے کے لیے بڑی رکاوٹ او رچیلنج کا باعث ہے وہ دوسرے کی Existence کی نفی کرتا ہے اور کبھی شعوری اور لاشعوری طور پر اہمیت اتنی کم کر دیتا ہے جتنی غیر جاندار شے کی۔ اس کی خوبصورت پیرائے میں مثال یوں ملتی ہے ”رات کا خاموش سماں ہے، چاندنی چھٹی ہوئی ہے ہر طرف پھول کھلے ہیں، سبزہ ہے، خوشبو ہے، فوارے چل رہے ہیں، باغ کے اس خوبصورت منظر میں ایک لڑکی ٹہلنے کے لیے چلی آتی ہے وہ محسوس کرتی ہے کہ ہر شے صرف اس کے دل کو بہلانے اور خوش رکھنے کے لیے مصروف عمل ہے، ہر شے اس کے لیے زندہ ہے ، وہ ہر شے پر اختیار رکھتی ہے وہ منظر اس کی ملکیت ہے وہ اپنے شعور کے باعث اس منظر کی مختار کل ہے۔ “I am the master of all I survey” ۔ اس مثال سے انسان کا دیگر مظاہر فطرت کے ساتھ تعلق واضح ہوتا ہے جو غیر جاندار ہیں۔

وجودیت میں کرب یا اذیت (Anguish) کا تصور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بلکہ وجودی فکر کا Climax Point ہے، جو پورے ادب کی جان ہے ، ان کے خیال میں اذیت ایک کسوٹی ہے جو انسان کی اعلیٰ صلاحیتوں کی نمو کے لیے لابدی جزو ہے۔ انسان جب تک ذہنی کرب کے ارتقائی مراحل سے نہیں گزرتا وہ اپنی Essence یا انسانیت کی اعلیٰ صفات کے مکمل حصول سے بہرور نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ ذہنی کرب ایک خطر ناک موڑ ہے جو انتہائی Frustrationمیں خود کشی کے ارتکاب کا موجب بنتا ہے کیونکہ یہ تصور کہ حقیقت بے معنی ہے یا (Reality is always irrational) انسان کو زندگی اور وجود قائم رکھنے میں سہارا نہیں دیتا۔ لیکن وجودیت کے مفکرین انسانی وجود کو بنیادی قدر مانتے ہیں جس کے دم سے دیگر تمام اقدار وابستہ ہیں۔ کوئی بھی اعلیٰ قدر اس سے زیادہ اہم نہیں، لہٰذا اس کی نفی نہیں کی جاسکتی۔ اور خود کشی ناقابل تلافی جرم ہے جس کا کسی طور پر دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ زندگی کی تمام اقدار (Sorrows & Joys) وجود سے ہیں۔لہٰذا اگر کوئی انسان اس ذہنی کرب کو برداشت کرنے کا سلیقہ اور حوصلہ پیدا کرے تو زندگی اس پر بے شمار جہتیں اور نئے راستے وا کر دیتی ہے جو اسے پر عزم اور کامران بنا دیتی ہے اسے اپنے وجود کی اصلیت کا علم ہوتا ہے کہ یہ تمام اشیاء سے اعلیٰ ، ارفع اور مقدم قدر ہے جسے کسی قیمت پر ”بے قدر” نہیں کیا جا سکتا۔ اس نکتہ سے وجودیت کے نظریہ Self Sufficiency کا آغاز ہوتا ہے جو وجودی فکر کی جان ہے اور شاید پہچان بھی۔ اس لیے آج عصری ادب میں روسی ناول، فرانسیسی مختصر کہانیاں، انگریزی ڈرامے اور جرمنی کے تحقیقی مقالے وجودی فکر کی چادر میں لپٹے نظر آتے ہیں جو قاری کے شعور پر ایک نئی سوچ، ایک نیاانداز مرتب کرتے ہیں جو مروجہ اسلوب سے یکسر مختلف ہے۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر پروفیسر محمد جلیل الرحمن-ماخوذ:صریر خامہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.