191

موجودہ دور میں تیئس مارچ کا دن – کبھی سوچا ایسا کیوں ہوا ؟

موجودہ دور میں تیئس مارچ کا دن – کبھی سوچا ایسا کیوں ہوا ؟

چند ملی و جنگی ترانوں ،ٹینکوں توپوں کی پریڈ ،مبارکباد کے کچھ کھوکھلے اخباری اشتہارات ،گلیوں بازاروں میں فروخت ہوتے پاکستانی پرچموں اور کسی سیاسی و نیم سیاسی و اسلامی جماعتوں کے ہاتھوں شہر بھر میں لگے “نظریہ پاکستان” کے بینروں (جن پر اب کوئی ایک نگاہ غلط بھی نہیں ڈالتا) تک سمٹ کر رہ گیا ہے.

یوں لگتا ہے یہ عظیم دن ایک پرانی اذکار رفتہ گاڑی ہے جسکو اینٹوں پر کھڑا کر دیا گیا ہے اس کے ٹائر ،اسکا انجن ،اس کی سیٹیں ،سب لے ُاڑے ہیں اور اب بس سال کے سال اسے جھاڑ پونچھ کر عارضی ٹائر اور وقتی رنگ کر کے معمولی مرمت کے ذریعہ نظریہ پاکستان کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور جوں ہی سورج غروب ہوتا ہے سب اپنی اپنی چیزیں لے کر اسے قائد کی ایمبولنس کی طرح جنگل میں کھڑا خراب ڈھانچہ بنا کر چھوڑ جاتے ہیں ۔۔۔

اب اگلے سال ہی لوٹیں گے۔۔۔

سلیبس میں اس عظیم نظریہ پر مشتمل اسباق پھسپھسے بے جان اور بچوں کے لئے وبال جان بنا دئیے گئے ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد بچے اس موضوع پر چند رٹے رٹائے جملے جانتے ہیں اور بس…

کبھی سوچا ایسا کیوں ہوا؟

اس لئے کہ زندہ قومیں ان دنوں کو پورے جوش ولولے اور تخلیقی انداز سے مناتی ہیں ان دنوں پر فلمیں بناتی ہیں ان پر ڈرامہ اسٹیج کرتی ہیں ان دنوں کو چار قومیتیں دکھانے نہیں ایک قوم بنانے والی دھنیں تیار کرتی ہیں سلیبس میں اسے بھرپور انداز سے گھول دیا جاتا ہے اپنے بڑے لوگوں کو نوجوانوں کا ہیرو بنایا جاتا ہے نظریہ رگوں میں دوڑتا لہو ہوتا ہے جوقومیں اگلی نسلوں کو سکھاتی ہیں.

مگر کیا کیجئیے؟

جس ملک میں حب الوطنی اور ملک کا مفاد اور “وقار “کسی ایک “قوت” کے نام رجسٹرڈ کاپی رائٹ ہو چکا ہو.

جہاں اسلام زندہ باد کسی دوسرے کا پیٹنٹ حب رسول تیسرے اہل بیت چوتھے حدیث کسی ایک کے قران کسی دوسرے کے اور جمہوریت وتبدیلی کسی پانچوین اور چھٹے کے۔۔۔

اور سب اپنی اپنی دکان سے باہر موجود کو گمراہ سمجھتے ہوں تو پھر آخر کون درد دل کے ساتھ اس ملک کے نظریہ کو اون کرے ؟

اس میں زندگی اور جان ڈال دے ۔۔۔؟

اس لئے اب تئیس مارچ اور نظریہ پاکستان نام کا ایک ٹرسٹ بنا کر اسے اس کے حوالے کر دیا گیا ہےوہ ٹرسٹ جو خود چند اذکار رفتہ بزرگوں پر مشتمل ہے جو خود ُاٹھ کر چل لیں تو کافی ہے نظریہ کو بھلا کیا چلائیں گے۔۔۔۔!

(تحریر زبیر منصوری)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.