87

میں تو کمبل کو چھوڑ رہا ہوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا۔ ۔ ۔

وہ تیزی سے کمبل کی طرف تیرا اور آناَ فاناَ کمبل کو دبوچ کر اپنی طرف کھینچا. اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب کمبل نے بھی اسے کھینچنا شروع کر دیا. اس کھینچا تانی میں اس شخص پر یہ عقدہ کھلا کہ یہ کمبل در حقیقت ایک ریچھ ہے جو دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ بہتا جا رہا تھا. ریچھ سے جان چھڑانے کے لیے، اس شخص نے ہاتھ پاؤں چلانے شروع کر دیے. اس دوران وہ دوسرا آدمی بھی کنارے تک پہنچ چکا تھا. جب اس نے کمبل والے شخص کو ڈوبتے ابھرتے دیکھا توچلا کر پوچھا کیا تمہیں تیرنا آتا ہے. جواب میں ڈوبتے ہوئے شخص نے بھی چلا کر کہا، ہاں، لیکن یہ کمبل مجھے تیرنے نہیں دے رہا.اس آدمی نے دوبارہ چلا کر کہا، اس کمبل کو چھوڑو اور کنارے کی طرف تیر کر اپنی جان بچاؤ. ڈوبنے والے نے بے بسی کے ساتھ کہا،میں تو کمبل کو چھوڑ رہا ہوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا.ٹھیک اسی طرح آج ہم لوگ بھی دنیا کے دریا میں بہتے کمبلوں سے چمٹ گئے جب ان کی حقیقت آشکار ہوئی تب تک کافی دیر ہوچکی تھی کیونکہ ان کمبلوں نے اب ہم لوگوں کو دبوچ لیا ہے.
………..

حاصل سبق:-
زندگی اصل میں بہت ہلکی پھلکی ہے بوجھ تو سارا کا سارا خواہشات کا ہے۔ انسان کی فطرت بھی عجیب ہے وہ تنقید جیسی سچائی پر تو ناراض ہوتا ہے پر خوشامد جیسے دھوکے پر خوش ہوتا ہے۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.