272

کالا باغ ڈیم کی تعمیر

ہرآنے والے دنوں، خاص طور پر گرم موسم میں جیسے جیسے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے حکومتی تمام پر کوششوں کے باوجود اس طلب کو پورا کرنا بجلی مہیاکرنے والوں کے لئے ممکن نہیں ہوتا، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔ عوامی احتجاج پر اگرچہ حکومت بجلی کے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام کررہی ہے اور اس کا دعویٰ بھی ہے کہ اگلے سال 2018 تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کاخاتمہ کردیا جائے گا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگرآج کالاباغ ڈیم مکمل ہوتا توعوام کو اس سے سستی بجلی ملتی اور وہاں ذخیرہ پانی ہونے سے ہماری معیشت بھی بڑھتی جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کالا باغ ڈیم کے بارے نوائے وقت کے سنڈے میگزین میں ایک مضمون میں فاضل مصنف نے انکشاف کیا تھا کا لاباغ ڈیم کے لئے پہلی تجویز قائداعظم محمد علی جناح نے دی تھی اور متعلقہ محکمہ کو 1948میں دریائے سندھ پر ہائیڈ رو پراجیکٹ پرکام شروع کرنے کی ہدایت کی تھی مگران کی وفات کے بعد ان کے احکامات کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیرکے بعد اس سے 3600میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی اور اس بجلی کی فی یونٹ لاگت صرف 2.5 روپے ہوگی اور اس ڈیم میں 6.1 ملین ایکٹرفٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی جبکہ اس ڈیم کی تعمیر سے سندھ کو 40لاکھ ایکڑفٹ اضافی پانی، کے پی کے، پنجاب کو 22لاکھ ایکڑفٹ پانی کے پی کے کو 20لاکھ فٹ اضافی پانی ملے گا آپ سب سوچئے جس ڈیم کی تعمیر کے اتنے فوائد ہیں تو ہمارے حکمران اس سے چشم پوشی کیوں کر رہے ہیں ،جبکہ تمام پاکستانی اس بات سے پریشان ہیں کہ وطن عزیز پاکستان کو پانی کی کمی کا سامنا ہے اور اس بارے جلد ہی کوئی مستقل حل ڈھونڈے کی ضرورت ہے اس بات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اگرکالاباغ منصوبہ پر آج سے ہی کام شروع کر بھی دیا جائے تب بھی اسے مکمل اور فعال ہونے میں کم ازکم چھ سے آٹھ سال کا عرصہ چاہیے تب تک پانی کے حالات اور دگرگوں ہوں گے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اتنے بڑے منصوبے پر جتنی جلد عمل درآمد ہوگا اتنا ہی ملکی معیشت کے لئے بہتر ہو گا۔

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ اور سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نے کہا تھا بھارت کالاباغ ڈیم کی مخالفت پر سالا نہ 15ارب روپے خرچ کر رہا ہے جبکہ اسلم بیگ اور حمید گل کا بھی کہنا تھا بھارتی امن مہم بغل میں چھری منہ میں رام رام کے سوا کچھ نہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ وہ ڈیم پر ڈیم بناتا چلا جارہا ہے اور ہم صرف باتیں ہی بنا رہے ہیں ،ہمارا اس اہم مسئلہ پر اتفاق ہی نہیں ہورہا اور وقت تیزی سے گرہا ہے ،اگر کسی کو نام پر مسئلہ ہے تو اس کا نام پاکستان ڈیم رکھ دینا چاہئے ۔

جو لوگ کالاباغ ڈیم کی مخالفت کر رہے ہیں یہ شائد حالات سے آگاہ نہیں اور اپنی یا کسی کی مصلحت کی وجہ سے چشم پوشی کر رہے ہیں ، وگرنہ کالاباغ ڈیم کب بن چکا ہوتا شمس الملک وہ شخصیت ہیں جنہیں کالاباغ ڈیم کے منصوبہ کے بانیوں میں شامل کیا جا سکتا ہے اور وہ ایک ایسے سچے پاکستانی ہیں، جو پاکستان کے مفاد کو عزیز رکھتے ہیں اب توقوم کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ امن کی آشا کی باتیں کرنے کے پیچھے ان کی کیا مصلحت رہی ہے ۔ کیونکہ جو دشمن ہمسایہ ملک ہے وہ ہماری ترقی کو روکنے کے لئے اربوں روپے خرچ کررہا ہے اس کو ہمارے میر جعفرو صادق کے بارے میں کس قدرمعلومات ہیں اور ان سے کس قدر گہرے تعلقات ہیں۔شمس الملک نے توبھانڈا ہی پھوڑدیاجو کالاباغ ڈیم کی مخالفت کررہے ہیں۔

شمس الملک کے بقول ہمیں کالاباغ ڈیم 1996میں بنالینا چاہیے تھا۔ اسلم بیگ اورحمیدگل مرحوم کا یہ کہنا بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ بھارتی دانشور ہندوانہ منافقت سے باہر نکلیں اور مسئلہ کشمیرکے حل کے لئے اپنے حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں مگر وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ہمارے اپنے نادانوں کی ایک تعداد ان کے ساتھ ہے بھارت نے ہمارے پانی پر درجنوں ڈیم بنا لئے ہیں جبکہ ایک کالا باغ ڈیم کو روکنے کے لئے بھارت سے سالانہ بھتہ بھی وصول کررہے ہیں۔

موجودہ حکومت کو وسیع تر قومی مفاد کے کے اتنے اہم منصوبے کالاباغ ڈیم کی اہمیت کے پیش نظراس کی تعمیر کے فوری احکامات دیں ان کا یہ کام ان کے مستقبل کے لئے بھی زادہ راہ ثابت ہوگا۔ کیونکہ بقول موجودہ حکومت و حکمرانوں کے انھوں نے جس طرح ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کو ایٹمی اسلامی ملک بنوانے کا اعزاز دلوایا اسی طرح کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے ان کا نام ملکی توانائی اور معیشت کے حوالے سے بھی سنہری الفاظ میں لکھا جا سکتا ہے اور قوم ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔۔۔

(تحریر عبدالمجید منہاس)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.