132

کتاب بینی سے کتاب بیزاری تک کا سفر…

کہتے ہیں کہ کتاب بہترین دوست ہے۔تنہائی کا بہترین ساتھی ہے۔کتابیں جھوٹ نہیں بولتی انھیں سنبھال کر رکھو۔ کتاب ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر زمانے میں ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔اسلامی تہذیب کے ہر دور میں اسے بلند مقام رہا ہے ۔کسی زمانے میں کتابوں کو بہترین دوست کہا جاتا تھا۔ کتابیں ہر صاحب علم، بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کے سر ہانے ہوا کرتی تھیں۔لوگ کتابوں کو سینے سے لگایاکرتے تھے۔

مگر یہ کیا کتابیں لوگوں کے دلوں سے، سینوں سے اور شیشوں کی الماریوں سے نکل کر سڑکوں پر کیوں؟؟ کباڑخانوں میں کیوں؟؟ کتاب سے آخر بیزاری کیوں ؟؟ لوگ کتابیں کیوں نہیں خرید رہے؟؟ المیہ تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اب کتابیں سڑک کنارے فروخت ہو رہی ہیں جب کہ جوتے اور چپل شیشے کی الماریوں میں فروخت ہو رہے ہیں۔

کتابیں تو پھل دار درخت کی مانند ہوتی ہیں مگر پھر بھی آج کے دور میں کتابوں کی اہمیت کھو رہی ہے ۔ کتابوں کی جگہ آج کل موبائل ، لیپ ٹاپ اور سو شل نیٹ ورکنگ نے لے رکھی ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ لوگوں میں کتب بینی کا شوق بہت کم ہو رہا ہے ۔ سٹوڈنٹس بھی اپنے طے شدہ کورس کی کتب کے علاوہ کوئی کتاب نہیں پڑھتے ۔ہمارے معاشرے میں نئی تبدیلیاں روز بروز رونما ہو رہی ہیں ہر کوئی کم وقت اور کم محنت میں زیادہ کمانے کے چکر میں ہے۔دوسری اہم وجہ کتب بینی کے کم ہونے کی یہ ہے کہ کتب بہت زیادہ مہنگی ہو رہی ہیں ۔حکومت کی جانب سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی اور چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے اس مہنگائی کے دور میں جہاں کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہیں کتابیں بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہیں ۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ کتابوں کی قیمتیں سنتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ہزار ، 2ہزار ، سترہ سو، پندرہ سو اور پچیس سو قیمتیں ہوں تو پھر عام آدمی کتب دشمن ہی بن جاتا ہے اور بیزار رہتا ہے۔ کتب کی پبلشنگ میں سارا فائدہ پبلشرز کو ہی ہوتا ہے۔بیچارے لکھنے والے منافع تو در کنارخرچ بھی پورا نہیں کر سکتے ۔
آج کے دور میں طلبہ و طالبات ذیادہ تر وقت ٹی۔وی اور انٹر نیٹ کی نذر کر دیتے ہیں ۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ سرکاری تعلیمی اداروں کو لائبریری کے لیے خصوصی فنڈ زکا اہتمام کرے تا کہ کتاب دوستی کو دوبارہ سے فرو غ حاصل ہو۔ایسا نہ ہو کہ کتابیں کہیں کھو جائیں۔ حکومت وفاقی و صوبائی سطح پر کتب بینی کے لیے اقدامات اٹھائے تا کہ بچے اور بڑے کتابوں کو حسرت کی نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ خرید سکیں اور گھروں میں شوق سے لا سکیں۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیئے کہ وہ بچوں کے سامنے کتابیں پڑھیں تا کہ ان کے اندر بھی کتب بینی کا شوق بڑھے ۔بچے دوبارہ سے کتابوں کو اپنا بہترین دوست بنا سکیںاور بچے طے شدہ نصابی تعلیم کے علاوہ دیگر موضوعات پر مبنی کتابیں بھی پڑھیں۔

اس لیے پھر بچے نصابی تعلیم کے علاوہ دیگر موضوعات کو پڑھنا بوجھ نہیں سمجھیں گے۔آج کے بچے ہی کل کے ذمہ دار شہری ہوں گے ۔ لہذا ضرورت اب اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر لائبریریوں کے لیے کام کریں کیونکہ ہمارے ملک میں پبلک لائبریرں بہت کم ہیں ۔ہمیں نئی نئی لائبریریاں بنا کر کتب دوستی کے لیے ماحول کو ساز گار بنانا ہو گا، تا کہ ہر شخص مطالعہ کی راہ پر گامزن ہو سکے اور ہر کسی کے لیے مطالعہ آسان ہو جائے۔۔
آخر میں علامہ اقبال کا خوبصورت اشعار قارئین کی نظرکرنا چاہوں گا۔۔۔
جوانوں کو مری آہ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا ! آرزو میری یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کر دے

(تحریر – سراج احمد تنولی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.