166

یونیورسٹی کا اصل مقصد، تعلیم یا تحقیق؟

یہ بہت اہم سوال ہے کہ یونیورسٹی کا اصل مقصد تعلیم وتدریس ہے یا بحث وتحقیق۔ کچھ عرصہ پہلے تک غالب رجحان یہی تھی کہ شاید یونیورسٹیز کا اصل مقصد تعلیم وتدریس ہے جبکہ ریسرچ وتحقیق ایک ثانوی چیز ہے اور اس کے ادارے علیحدہ سے ہونے چاہییں جیسا کہ ریسرچ سینٹرز وغیرہ۔

لیکن اب جو ٹرینڈ غالب آتا چلا جا رہا ہے، اس میں تعلیم وتدریس پیچھے تو کجا غائب ہی ہوتی چلی جا رہی ہے اور یونیورسٹی ایک ریسرچ سینٹر بننے جا رہی ہے اور فیکلٹی کا اصل کام یہ قرار پایا ہے کہ وہ امپیکٹ فیکٹر پبلش کرے، بھلے کلاس گزارے ہی کی لے لے۔

دنیا بھر کی یونیورسٹیز اس وقت “ایکاڈیمک کیپٹلزم” کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں کہ جس میں تعلیم وتدریس اور ریسرچ وتحقیق ایک تجارت اور بزنس کی حیثیت رکھتی ہے، چاہے وہ بزنس پروفیسر اور ایکاڈیمیا کرے یا یونیورسٹی اور ایچ۔ای۔سی جیسے ادارے۔

ایسے میں بہت ضروری ہو گیا ہے کہ اس سوال کو ہائی لائیٹ کیا جائے کہ یونیورسٹیاں بنانے کے مقاصد کیا تھے؟ اگر ان کا مقصد ایک ریسرچ سینٹر بن جانا ہے تو تعلیم وتدریس کے لیے کوئی علیحدہ سے ادارے بنا دیں، جہاں طالب علم واقعی میں کچھ علم حاصل کر سکیں۔

پروفیسر جب سارا وقت لیبارٹری میں گزار دے گا تو کلاس میں کیا ڈیلیور کرے گا، اپنے امپیکٹ فیکٹر ریسرچ پیپرز کہ انڈر گریڈ کے بچوں کو ان پیپرز کا ٹاپک سمجھانا بھی مشکل ہو گا چہ جائیکہ ان میں پیش کیا گیا آئیڈیا ڈسکس کرنا۔

اور پھ یہ کہ پہلے کم از کم یہ تھا کہ دس پیپر چھاپ لیے، پندرہ چھاپ لیے، کافی ہیں۔ اب تو ایک دوڑ میں لگا دیا ہے کہ بس اوپر جانا ہے تو پیپر چھاپتے جاؤ، بھلے پیسے دے کر، منت سماجت کروا کے چھاپ دو۔ اور ریسرچ کی آؤٹ پُٹ زیرو ہے جبکہ امپیکٹ فیکٹر ریسرچ پبلیکیشنز ہزاروں میں ہیں۔ کوئی مثال دے دیں کہ سوسائٹی کا ایک چھوٹا سا مسئلہ جو اس ریسرچ نے حل کر دیا ہو۔

توبھئی، ریوائز کریں کہ یونیورسٹی کا اصل مقصد کیا تھا؟ مقاصد نہیں اصل مقصد؟ کیا آپ اپنے اصل مقصد سے ہٹ تو نہیں گئے؟ اور آپ نے سارے تعلیمی نظام کا بیڑا غرق تو نہیں کر دیا؟

(تحریر حافظ محمد زبیر)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.