179

کالا باغ ڈیم – ایک حقیقت

کالا باغ ڈیم کے لئے پہلی تجویز قائداعظم نے دی تھی۔انہوں نے متعلقہ محکمہ کو 1948ءمیں کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ پر ہائیڈرو پراجیکٹ پرکام شروع کرنے کی ہدائت کی تھی مگر ان کی وفات کے بعد ان کے احکامات کو نظرانداز کردیا گیا۔اس پر باقاعدہ کام 1953ءمیں شروع ہوا۔

ڈیم کی تعمیر میں زیر آب آنےوالی قابل کاشت اراضی 27500 ایکڑ میں سے 24500 ایکڑپنجاب اور3000ایکڑ صوبہ سرحد کی ہوگی۔

اس سلسلہ میں چاروں صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان کی کمیٹی بھی بنائی گئی۔ جن کے ذمہ اس ڈیم کا ہر لحاظ سے جائزہ لینا تھا۔چیف جسٹس صاحبان نے تمام صوبوں کےاعتراضات بھی سنےتھےچاروں چیف جسٹس صاحبان نےاس ڈیم کےحق میں فیصلہ دیا تھا اس میں سندھ کےچیف جسٹس بھی شامل تھے۔

کالا باغ ڈیم منصوبےپرابتدائی کام کا آغاز1953میں ہوا۔اس وقت اس منصوبے پرکسی کواعتراض نہ تھا۔اس منصوبے پر1985میں جب عمل درآمد کا فیصلہ ہونےلگا، ضیاءالحق کے دورمیں جنرل فضل حق کی مخالفت کے باوجود پاکستان کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے کالا باغ ڈیم کےلئے اپنی کوششوں کو جاری رکھا۔

صوبہ سرحد کے بیانات کے بعد سندھ کے بڑے بڑے وڈیروںامورسیاستدانوں نے بھی اس کی مخالفت میں بیان دینے شروع کر دئیےاس کی اصل وجہ یہ تھی کہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ کچے کے علاقے کی زمینوں پر انہوں نے ناجائزقبضے کر رکھے تھےاور دریائے سندھ کی اس زرخیز پٹی سے وہ مفت میں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔کالا باغ ڈیم بننے سے دریائے سندھ کا پانی حکومتی کنٹرول میں آ جائے گا اورمربوط نہری نظام کے ذریعے حساب کتاب سے پانی مہیا کیا جائے گا۔ اس طرح اس خطے کے وڈیرے، سیاست دانوں کے نا جائز قبضے “مفتے” ختم ہو جائیں گے
محمد خان جونیجو کے بعد بے نظیر بھٹوکے دور حکومت میں کالا باغ ڈیم کے حوالے سے 1989میں سندھ حکومت نے اعتراض کیا کہ کالا باغ ڈیم کی پہلے ضروری ہے کہ صوبوں کے درمیان Water Apportionment کا کوئی معاہدہ ہونا ضروری ہے۔ اس کی تائید صوبہ بلوچستان نے بھی کی۔

1991ءمیں میاں نواز شریف کی حکومت میں چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ نے پانی کی تقسیم کے معاہدہ پر 16مارچ 1991کو ایک فارمولے پر متفق ہوئےاور کالا باغ ڈیم کےلئے گرین سگنل دے دیا گیا۔ معاہدہ میں تمام وزراءاعلیٰ کواپنی صوابدید پر نمائندہ وزیر کا انتخاب کرنے کا موقع دیا گیا۔

چنانچہ پنجاب کی طرف سے وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کے ساتھ انکے وزیر خزانہ شاہ محمود قریشی، سندھ کی طرف سےوزیر اعلیٰ جام صادق علی کے ساتھ ان کے وزیر قانون سید مظفر شاہ، سرحد کی طرف سے وزیر اعلیٰ میر افضل خان کے ساتھ انکے وزیر خزانہ محسن علی خان اور بلوچستان کے طرف سے وزیر اعلیٰ میر تاج محمد جمالی کے ساتھ انکے ہوم منسٹر ذوالفقار مگسی نے نمائندگی کے فرائض انجام دیئے۔

پانی کی تقسیم کے اس معاہدہ کو مشترکہ مفادات کونسل نے اپنے 21مارچ 1991 کے اجلاس میں باقاعدہ منظور کیا۔ ۔ پانی کے اس تاریخ ساز معاہدے میں چاروں صوبوں کے درمیان اعتماد کی بہترین فضا قائم ہوئی۔ یہ طے پایا گیا کہ دریائے سندھ اور دیگر دریاﺅں پر جتنے بھی ممکنہ ڈیم اور واٹر سٹوریج بنائے جا سکتے ہیں اس کی اجازت دی جاتی ہے۔

مشترکہ مفادات کی کونسل نے8ممبران کی کمیٹی بنائی جس میں سے7ممبران نے ڈیم کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اس کو پاکستان کے لئے نہایت مفید قرار دیا۔

1991ءمیں پانی کی تقسیم اور کالاباغ ڈیم منصوبے کی منظوری کے بعد میر افضل خان وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد خوش نظر آ رہے تھے انھوں نے کہا پہلے صوبہ سرحد کی 18لاکھ ایکڑ اراضی آبپاشی کے ذریعے کاشت ہوتی تھی۔ اب اس معاہدہ کی بدولت ہماری مزید 9لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی جس سے گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوگا۔

اے این پی کے قائد خان عبدالولی خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں پانی کے معاہدے سے مکمل مطمئن ہوں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ صوبوں نے اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا ہے۔

صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی بدولت ہمیں 4.5ملین ایکڑ پانی مزید ملے گا۔

صوبہ بلوچستان کےوزیر اعلیٰ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے انھوں نے اپنےخیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ہم پہلےتربیلا اور منگلا ڈیم کی وجہ سے صرف 6لاکھ ایکڑاراضی سیراب کر رہے تھے لیکن اب اس اکارڈ کی بدولت ہماری 16لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔

بعد ازاں ان رہمنماﺅں کی اکثریت محض سیاسی یضروریات کے تحت کالا باغ ڈیم کی مخالفت پر اتر آئی۔ کیوں کس لئے یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کی روشنی میں وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر جلد شروع کرے۔

مشترکہ مفادات کونسل نے 1991 اور 1998میں باقاعدہ تمام صوبوں کے اعتراضات دور کرتے ہوئے، اتفاق رائے کیا تھا کہ ڈیم کی تعمیر جلد کی جائے۔

برطانوی صحافی ایلس البینیا دریائے سندھ کے آغاز تا اختتام دو ہزار میل مشکل سفر کے تجربات و مشاہدات پر مبنی اپنی کتاب ” ایمپائرز آف دی انڈس” میں کالاباغ ڈیم پر لگائے گئے اعترضات کے بارے میں طنزاََ لکھتی ہیں ”کچھ قنوطی پاکستانی تو اس حد تک پیشگوئی کرتے ہیں اس منصوبے سے پاکستان کی پنجابی فوج کا سیاست اور پانی دونوں پر غلبہ قائم ہوگا جس سے ملک میں ایک اور خانہ جنگی چھڑ جائے گی۔

شمس الملک نے جو واپڈا کے چیئرمین اور صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ بھی رہے پھر اپنا موقف بیان کیا ہے اور اس ڈیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ ڈیم کیوں ضروری ہے۔ کالا باغ ڈیم کے بارے میں ان سے بڑی اتھارٹی اور سند اور کوئی نہیں، ایسی سند کہ ایک بار ان کو مرحوم عبدالولی خان نےبلا کرکہا کہ تم پٹھان ہوکرکالا باغ ڈیم کی حمایت کرتے ہوتو انھوں نےجواب دیا کہ یہ بند خود میرے صوبے کے لیے سخت ضروری ہے۔

کالا باغ بندکا ذخیرہ صوبہ خیبر پختونخوامیں واقع ہو گالیکن بجلی پیدا کرنےوالے ٹربائن اورتعمیرات صوبائی سرحد کےباہرصوبہ پنجاب میں واقع ہوں گی۔ صوبہ پنجاب وفاق سے پیدا ہونے والی بجلی پر رائلٹی کا حقدار تصور ہو گا۔ اسی اعتراض کو رفع کرنے کے لیے دراصل صوبہ پنجاب نے وفاقی رائلٹی سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ دوسرا اعتراض یہ کہ ڈیم کے پانی سے صوابی، نوشہرہ اور مردان کے علاقے ڈوب جائیں گئے،اس کی حقیقت کچھ اس طرح ہے کہ ڈیم کی اونچائی915فٹ رکھی گئی ہے جونہی 916فٹ پانی آئے گا پانی ڈیم کے اوپر سے بہنا شروع ہوجائےگا،قریب ترین شہر نوشہرہ ایک ہزارفٹ کی بلندی پرہے۔

یہ سارا پروپیگنڈا وہاں کے سیاسی لیڈروں نے ا پنے مفادات اور عوام کو گمراہ کرنے کے لئے پھیلایا ہوا ہے۔

صوبہ سندھ اس منصوبہ کی کٹر مخالفت کرتا ہے لیکن اس کا نقطہ نظر “پنجاب کے ہاتھوں پانی کی چوری“ کے نظریہ پر قائم ہے۔ اس نظریہ کی انتہائی حمایت صوبہ سندھ میں دیکھنے میں آتی ہے لیکن کسی بھی طرح سے اس چوری کو ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔ صوبہ سندھ کے مطابق کالا باغ بند میں ذخیرہ ہونے والا پانی صوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد کی زرعی زمینوں کو سیراب کرے گا جبکہ یہی پانی سندھ کی زرعی زمینوں کو سیراب کر رہا ہے۔صوبہ سندھ کے ساحلی علاقہ میں دریائے سندھ کا بہنا انتہائی ضروری ہے تاکہ یہ دریا سمندری پانی کو ساحل کی میں کمی واقع ہوتی ہے تو یہ سندھ کے ساحل طرف بڑھنے سے روک سکے۔

دریائے سندھ کا سارا پانی ڈیم میں روک لیا جائے گا اور سندھ کی زمینیں ویران اور برباد ہوجائیں گی۔ یہ صوبہ سندھ کا اعتراض ہے۔ اس اعتراض کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ دریا کا پانی مسلسل تیز بہنے کی وجہ سے سمندر میں گر کر ضائع ہورہا ہے اگر ڈیم بن جاتا ہے تو ایک ہفتہ کےاندر اندر ڈیم میں مطلوبہ پانی کی مقدار پوری ہوجائے گی۔اس کے بعد پانی کی وہی مقدار بہے گی جتنی اب بہہ رہی ہے البتہ ڈیم بننےکےبعد پانی ضائع ہوکرسمندرمیں نہیں گرے گا بلکہ اسی پانی کی نہریں بنائی جائیں جوبہاولپور سےہوتی ہوئی سندھ کے اندر بنائی جائیں گی جس سے سندھ کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا اس لئے یہ اعتراض بالکل حقیقت کے خلاف ہے۔کل میرا فاضل دوست پراپیگنڈہ کر رہا تھا کہ سندھ کوکچھ نہیں ملےگا۔

صوبہ بلوچستان کا کالا باغ ڈیم سے کوئی تعلق واسطہ نہ ہے لیکن افسوس کہ وہاں کی بھی لوکل سیاسی جماعتوں نے کالا باغ ڈیم بننے کی مخالفت کی ہے جس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کا سارے کا سارا مسئلہ سیاسی بنادیا گیا ہے۔

گو صوبہ بلوچستان کالا باغ بند کی تعمیر سے متاثر نہیں ہوتا مگر کئی قوم پرست سردار اس منصوبہ کی تعمیر کو صوبہ پنجاب کی چھوٹے صوبوں سے کی گئی ایک اور زیادتی تصور کرتے ہیں حقیقت میں کالا باغ بند کی تعمیر سے صوبہ بلوچستان کو کچھی نہر (کچھی کینال) کی مدد سے اپنے حصے کے پانی کے علاوہ اضافی پانی بھی دستیاب ہو سکے گا۔
دنیا بھرکےماہرین(ڈیم)نےباقائدہ سروے اور تحقیق کےبعد کالا باغ ڈیم کودنیا کا موزوں ترین اور پاکستان کے چاروں صوبوں کیلئے فائدہ مند قرار دیا ہے ان میں ورلڈ بینک کی مطالعاتی ٹیم کے اہم رکن شامل تھے۔ انکےماہرین میں ڈاکٹر پیٹر لیف نک بھی شامل ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر ساویج بھی کالا باغ ڈیم کی جگہ اور سائیٹ کو موزوں ترین قرار دے چکے ہیں۔ان ممتاز ماہرین نے اس دشوارگزار علاقے کا ایک عرصہ تک سروے کیا اور نتائج اخذ کرتے ہوئے اسے دنیا کی موزوں ترین سائیٹ قرار دیا۔ کالاباغ ڈیم کا سپل وے پیندے سے 50 فٹ نیچے ہے جس کی وجہ سے سلٹ جمع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ چنانچہ اس کی لائف لا محدود ہے۔
ڈیم سے 3600 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ بعد میں بجلی کی پیداوار کو 4500 میگا واٹ تک بڑھایا جا سکتا ہے-کالا باغ ڈیم باقی سب ڈیموں کی نسبت سب سے سستا اور قدرتی ڈیم ہے اس کے ارد گرد پہاڑ ہیں صرف فرنٹ سے گیٹ لگائے جانے سے ڈیم بن جائے گا۔

کالا باغ ڈیم بننے سے ساڑھے تین لاکھ ایکڑ زمین آباد ہوگی جس سے صوبہ بلوچستان میں ترقی کی ایک لہر آئے گی۔

کالا باغ ڈیم بننے سے سب سے زیادہ فائدہ صوبہ سندھ کو ہوگا اس کی آٹھ لاکھ ایکڑ بنجر زمین آباد ہوگی۔ اس طرح صوبہ پنجاب اور سرحد کی بھی بالترتیب چھ لاکھ ایکڑ اور پانچ لاکھ ایکڑ زرعی زمین آباد ہوگی۔

ہر سال سیلاب سے لاکھوں افراد اور لاکھوں ایکڑ زمین متاثر ہوتی ہے۔ ڈیم کے بننے سے پانی کنٹرول میں ہوگا اور سیلاب بالکل ختم ہوجائیں گے۔ بجلی کی پیداوارجس کا پورے پاکستان میں شدید بحران ہے اس سے چھٹکارا مل جائے گا اور تقریباً4000میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ پاکستان سےلوڈ شیڈنگ ختم ہوجائےگی،بجلی انتہائی سستی ہوگی جو تقریباً ایک روپےفی یونٹ تک آجائےگی جبکہ اب پچیس روپےفی یونٹ تک چارج کیا جارہا ہے۔

کہ کالا باغ ڈیم کا سب سے زیادہ فائدہ خیبر پی کے اور سندھ کو ہوگا۔انکے بقول یہ ڈیم نہ بننے کے باعث اس وقت سندھ کو سالانہ 30 ارب خیبر پی کے کو سالانہ 22 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ اگر وقت پر ڈیم بن جاتا تو ہم ابتک ایک کھرب ڈالر کا منافع کما چکے ہوتے۔

ڈیم کیوں نہیں بن رہا؟
دنیا کے ماہرین چیخ چیخ کر کہہ رہے ڈٰیم چاروں صوبوں سمیت پورے پاکستان کیلئے فائدہ مند ہے پھر کیا وجہ ہے رکاوٹ کہاں پر ہے اور کون لوگ رکاوٹ ہے، انڈین ایجنسی را کیوں ہر سال اربوں روپے کالا پاغ ڈیم نامنظور پر خرچ کر رہا ہے اور کہاں کر رہا ہے یہ سوال آپ سب پر چھوڑے جا رہا ہوں، جواب زیادہ مشکل نہیں، ارد گرد نظر دوڑائیئے سب واضح ہو جائے گا!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.