80

پاکستان میں فومک شیٹس آرٹس متعارف کرانے والی محترمہ منور جہاں

پاکستان میں خواتین کے ہنر، صلاحیت، محنت اور ترقی کی شان دار مثالیں موجود ہیں۔ جس ایک مثال محترمہ منور جہاں ہیں، جنہوں نے مختصر مدت میں کام یابی کی بہترین مثال قائم کی ہے اور پاکستان میں فنون کے شعبے میں، ایک نئی جہت کی بنیاد رکھی ہے۔

مسز منور جہاں نے فومک شیٹس سے گھریلو سجاوٹ کی اشیاء اور زیورات کی نئی قسم ایجاد کی ہے جس کو‘ فومک آرٹس ’ کہا جاتا ہے۔دنیا میں اس شعبے میں کم ہی لوگوں نے طبع آزمائی کی ہے۔ پاکستان میں یہ اس شعبے کی بانی ہیں اور ان سے پہلے پاکستان میں فومک شیٹس سے دستکاری سے بنی، سجاوٹ میں کام آنے والی ثقافتی اشیاء بنانے کا تجربہ کسی نے نہیں کیا تھا۔

فومک شیٹس استعمال کرنے کا خیال انہیں کیوں آیا۔ اس بارے میں مسز منور کہتی ہیں کہ، فومک شیٹس پائیدار اور دلکش ہوتی ہیں۔ اس وقت بازار میں ہزارہا قسم کی فومک شیٹس دستیاب ہیں اور ان کی قیمت بھی کم ہے۔ان میں جورنگ، شیڈز، ٹیکسچر اور وزن دستیاب ہیں، وہ کسی اور میٹیریل میں نہیں ہیں۔ اس سے بنی اشیاء میں زیادہ جاذبیت اور ورائٹی پیدا ہوتی ہے۔ فومک شیٹس کو آپ سال ہا سال استعمال کرسکتے ہیں اور ان کے رنگ پھیکے نہیں پڑتے۔ نا ہی یہ تڑختی ہیں اور ان میں کریکس آتے ہیں جیسا کہ موسمیاتی اثر سے دیگر میٹیریلز پر اثر ہوتا ہے۔ فومک شیٹس سے بنی اشیاء کو دھویا بھی جاسکتا ہے اور ہر بار صفائی کے بعد یہ پھر سے نئی نویلی ہوجاتی ہیں۔

یہ اشیاء کم خرچ ہوتی ہیں اور ایک بار خرید کر انہیں بار بار استعمال کیا جاسکتا ہے۔کم آمدنی والی خواتین کے لیے یہ بہترین حل ہے۔ ان تمام فوائد کو مدنظر رکھ کر میں نے فومک شیٹس کو استعمال کرنے کا سوچا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے تجربے کو مقبولیت بخشی اور اب فومک آرٹس کی صنف، پاکستان میں کری ایٹو آرٹس اور ایکسپریشن کی ایک مستند حیثیت حاصل کرگئی ہے۔

مسز منور نے فومک شیٹس سے جو جیولری بنائی ہے، وہ خوبصورتی اور دلکشی میں اپنی مثال آپ ہے۔ ہزاروں رنگوں سے سجی اس جیولری کی خصوصیات کے بارے میں انہوں نے بتایا۔

تازہ پھولوں سے بنی جیولری کے مقابلے میں فومک شیٹس سے بنی جیولری کا استعمال بہت آسان ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ پھولوں کی جیولری چند گھنٹے میں خراب ہوجاتی ہے اور عام طور پر تقریب ختم ہونے سے پہلے ہی اپنی دلکشی کھو دیتی ہے۔ نیز پھولوں سے کپڑے پر داغ بھی لگ جاتے ہیں جو مہنگے سوٹس کو خراب کرتے ہیں۔پھولوں کی پتیاں بالوں اور کپڑوں پر چپکی رہ جاتی ہیں اور ہمارے مہنگے میک اپ یا ڈریسنگ کو تباہ کردیتی ہیں۔

دوسری طرف میٹلز یا دھات (مثلاً چاندی یا آرٹیفیشئیل میٹلز وغیرہ )یا موتی اور نگوں سے بنی ہوئی جیولری کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ پرفیومز یا کسی اور خوشبو سے کالی پڑجاتی ہیں اور بدنما ہوجاتی ہیں۔ہم سب تقریبات میں یا روزمرہ زندگی میں پرفیومز یا باڈی اسپرے وغیرہ استعمال کرتے ہیں، مگر ان کامنفی اثر ہماری مہنگی جیولری پر پڑتا ہے اور ہمیں باربار اس جیولری کو صفائی کے لیے جیولرز کے پاس جاکر کثیر رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔ کچھ جیولری تو استعمال کے قابل ہی نہیں رہتی اور اسے پھینکنا ہی پڑتا ہے۔

تاہم سب سے بڑا مسئلہ، جس کا پاکستان کی لاکھوں خواتین کو سامنا ہے، یہ ہے کہ ان کے علاقے میں پھولوں کی جیولری ، سرے سےملتی ہی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر پاکساقن کے شمالی علاقہ جات میں جہاں سال کے آٹھ مہینے برف رہتی ہے، وہاں کی خواتین کو پھولوں کی جیولری نہیں ملتی اور اس کے نتیجے میں انہیں کاغذ یا پلاسٹک کی نہایت بدرنگ، بدشکل اور مصنوعی نظر آنے والی جیولری پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا ہی مسئلہ جنوبی پنجاب کے گرم علاقوں اور سندھ کے وسیع ریگستانی علاقوں میں رہنے والی خواتین کو بھی درپیش ہے۔ ان علاقوں میں چند موسمی پھول ہی کھلتے ہیں اور موسم کی شدت کی وجہ سے وہ بھی تروتازہ نہیں رہتے اور فوراً ہی مرجھا جاتے ہیں۔

آپ نے پاکستانی ائیرپورٹس کے باہر اکثر دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ پلاسٹک کے نہایت بھدے اور بدرنگ قسم کے ہار بیچ رہے ہوتے ہیں جو باہر سے آنے والے مسافروں خاص طور پر حجاج کرام کوپہنائے جاتے ہیں۔ پلاسٹک کے ان بدصورت ہاروں کو استعمال کرنے کی وجہ صرف یہی ہے کہ ان مقامات پر قدرتی پھول دستیاب نہیں ہیں اور قدرتی پھولوں کے ہاروں کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ دوسری طرف، اگر فلائٹ لیٹ ہوجائے، جیسا کہ پاکستان میں معمول کی بات ہے، تو خریدا گیا ہار مسافر کے آنے تک سوکھی پتیوں کا ڈھیر رہ جاتا ہے اور پہنانے والے کے لیے فخر سے زیادہ شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔

ان مشکلات کو دیکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ کسی ایسے میٹیریل سے جیولری بنائی جائے جو دیکھنے میں بالکل قدرتی پھولوں کی طرح ہو مگر پہننے والی خاتون کے لیے کسی قسم کے مسائل پیدا نہ کرے۔

فومک شیٹس کی جیولری ان تمام مسائل کا حل ہے۔ یہ دیکھنے میں پھولوں کی جیولری سے زیادہ پُر کشش، وزن میں ہلکی اور استعمال میں آسان ہیں۔فومک شیٹس کی جیولری سے آپ کو ان تمام مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جن کا میں نے اوپر ذکر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں جو جیولری فومک شیٹس سے بنا رہی ہوں وہ نوجوان لڑکیوں میں زیادہ مقبول ہورہی ہے کیونکہ وہ اسے بہ آسانی کالج اور یونیورسٹی کی تقریبات اور گھریلو شادی بیاہ میں پہن سکتی ہیں۔

فومک شیٹس کی جیولری کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی میچنگ ہمارے کپڑوں کے ساتھ بہ آسانی ہوجاتی ہے۔ ہمارے کپڑوں کا رنگ چاہے کیسا بھی ہو، ہمیں اس سے میچنگ جیولری مل جائے گی۔

مسز منور نے جیولری کی ڈیزائننگ میں نئے نقش و نگار اور پھولوں کی نئی تراش خراش پیش کی ہے۔ مزے دار بات یہ ہے کہ انہوں نے اس کام کی ٹریننگ کہیں حاصل نہیں کی ہے بلکہ اپنی خداداد صلاحیت اور محنت کے ذریعے، گھر بیٹھے اس فن میں کمال حاصل کیا ہے۔

مسز منور نے فومک شیٹس سے ہار، بندے، کنگن، انگوٹھیاں، ہئیر بینڈ، گلوبند اور نجانے کتنی ہی دلکش اشیاء تیار کی ہیں۔ آپ کو ساتھ منسلک تصاویر سے ان اشیاء کے معیار اور فن کی نفاست کا اندازہ ہوجائے گا۔

اس کے علاوہ انہوں نے گھریلو سجاوٹ کے لیے فلورل ارینج منٹس، گلدستے، فوٹو فریمز اور دیگر آرائشی اشیاء بھی بنائی ہیں جو ایک نظر میں ہی دیکھنے والوں کو متاثر کرتی ہیں۔
اب وہ دلہا دلہن کے کمروں کی سجاوٹ، بارات کی گاڑیوں کی آرائش اور شادی ہالز میں اسٹیج کی سجاوٹ کے کے لیے وسیع پیمانے پر فومک شیٹس سے بنے پھولوں کی اشیاء بنا رہی ہیں۔کئی ٹی وی اسٹیشنز نے ان سے اپنے سیٹس کی سجاوٹ کی لئے رابطہ کیا ہے۔ جبکہ متعدد ہوٹلوں میں سرکاری و تجارتی تقریبات کے لیے اسٹیج کی سجاوٹ میں بھی ان کی خدمات سے استفادہ کیا جارہا ہے۔محدود مدت میں ہی انہوں نے اپنے شعبے کی افادیت سے بڑے طبقے کو قائل کیا ہے اور اسی بنا پر سارے پاکستان سے ان کو اس سلسلے میں بڑے آرڈرز مل رہے ہیں اور عوام میں اس شعبے کی اہمیت کا جوں جوں ادراک بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے بڑے کاروباری گروپس اور آرٹس اینڈ کرافٹس کے تعلیمی ادارے ان سے رجوع کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ، میں نے اپنی پہلی پوتی کی پیدائش اور زندگی کی تمام ذمے داریوں سے فراغت کے بعد، اس کام کا آغاز کیاتھا۔ اگرچہ میں بچپن سے کشیدہ کاری اور سلائی کڑھائی میں ماہر تھی اور ہمیشہ سے اپنے فن کو سامنے لانا چاہتی تھی تاہم زندگی کی بھاگ دوڑ اور مصروفیات نے کبھی اس کی مہلت ہی نہیں دی۔ میرے پاس آج بھی کروشیا سے بنا ہوا ، ڈائننگ ٹیبل کا ایک کور موجود ہے جو میں نے گیارہ سال کی عمر میں 1958ءمیں اپنے ہاتھوں سےبنایا تھا۔جب میں نے فومک آرٹس کا آغاز کیا، تب میری عمر زیادہ ہوگئی تھی اور نظر بھی کم آتا تھا جس کے لیےاب مجھے قریب کی نظر کا چشمہ بھی لگانا پڑتا ہے۔ تاہم میں نے فرصت ملتے ہی اپنے شوق کو آواز دی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے، میرا گھر پھولوں، رنگوں اور نقش و نگار سے بھر گیا۔

مسز منور نے پاکستان کے معروف ٹیلی وژن چینلز پر لائیو پروگرامز بھی کیے ہیں اور مارننگ شوز میں لاکھوں خواتین کو اس فن کے رموز سکھائے ہیں۔

ان کی تیارکردہ اشیاء کو ساری دنیا میں پسند کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ نوجوان بچیوں میں اس فن کو سیکھنے کا بہت شوق ہے اور ان سے بے شمار لڑکیوں نے یہ فن سکھانے کی درخواست کی ہے۔تاہم میری عمر اب اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں باقاعدہ طور پر اس فن کو سکھاؤں اور کلاسز لوں۔ البتہ میں جلد ہی اس کی ویڈیوز یو ٹیوب پر اپ لوڈ کروں گی تاکہ ساری دنیا میں بچیاں اس فن سے استفادہ کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.