219

مرتد کی سزا – ایک مختلف نکتہ نظر!

جرمن فلاسفر ہیگل نے کہا تھا میں دینِ یہود کو نہیں مانتا کیونکہ یہودی علما کے بقول خدا اور انسان کے درمیان آقا اور غلام کا تعلق ہے اور ایسا تعلق انسان کی تعلیم و تربیت پر کوئی اثر نہیں رکھتا۔مغربی فلاسفروں کی الہی ادیان سے مخالفت اس اور اس جیسی دلیلوں کی بنا پر ہے۔ اسے یہودی علما کی غلط تشریحات کا ہی نام دیا جا سکتا ہے ورنہ ہر الہی دین اپنے زمانے کے لوگوں کے شعور کے مطابق مکمل تعلیمات لیکرآیا ہے اور الہی ادیان کی حقیقی تعلیمات میں خدا اور انسان کے درمیان مولی ٰ اور عبد کا تعلق ہے کہ جس کا لازمہ عشق، محبت اور ولایت ہے اور یہ تعلق انسان کی تعلیم و تربیت پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔عصر حاضر میں بھی دین یا دینی احکامات کی مخالفت کی جہاں متعدد وجوہات ہیں وہیں مغربی سوچ کا مذکورہ بالا سانچہ بھی اثرانداز ہے۔ جب کوئی فرد مغربی سوچ و فکرکے سانچے میں دین اسلام کی تعلیمات اور احکامات کے بارے رائے قائم کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے تمام دینی احکامات غیر انسانی اور ظلم پر مبنی ہی نظر آئیں گے کیونکہ کوہن کے بقول ہر موضوع کا درست فہم صرف تب ممکن ہے جب اس کے اپنے پیراڈائم میں جاکر دیکھا جائے۔دین اسلام ایک الگ پیراڈائم ہے۔ اس پیراڈائم کے اپنے الگ مفاہیم اور اس دنیا کے بارے اپنا الگ زاویہ نگاہ ہے کہ جو مکمل طور پر عقلی اور منطقی دلیلوں پر مبنی ہے۔ اس مخصوص اور ممتاز زاویہ نگاہ کو تسلیم کئے بغیر دینی تعلیمات اور احکامات کو کسی غیر دینی پیراڈائم میں رکھ کر دیکھنے سے ان تعلیمات و احکامات کا درست فہم ایک ناممکن امر ہے۔ دینی تعلیمات اور احکامات پر کیے جانے والے بہت سارے اعتراضات اس فنی غلطی سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن دینی احکامات کو بہت آسانی اور تسلسل کے ساتھ نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ان میں سے ایک اسلام کا نظامِ جزا و سزا ہے۔ نظامِ جزا و سزا کے تصورات میں سے ارتداد ایک ایسا تصور ہے کہ جس کو متنازعہ اور عقیدے کے انتخاب کی آزادی سے متعارض قرار دینے کی مسلسل کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس مقدمے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ضرورت محسوس کی کہ ارتداد کے تصور پر فقہائے امامیہ کی آرا کا ایک اختصار محترم قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے۔

ہر اسلامی تصور اور حکم کی طرح ارتداد کے تصور اور حکم کے لیے بھی سب سے پہلا ماخذ خود قرآن ہے۔ خدا وند متعال نے قرآن حکیم کی سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۱۷ میں فرمایا ہے (وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ وَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ)۔ ترجمہ: اور جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے گا اور کفر کی حالت میں مر جائے گا اس کے سارے اعمال برباد ہوجائیں گئے اور وہ جہنمی ہوگا اور وہیں ہمیشہ رہے گا۔ اسی طرح خدا وند متعال نے سورہ زمر کی آیت نمبر ۶۵ سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵ سورہ عمران کی آیات نمبر۸۶،۸۸ اور ۹۰ میں بھی اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ان تمام آیاتِ قرآن میں جو چیز مشترک ہے وہ دین مبین اسلام سے روگردانی یا انکار اور اس کی اخروی سزا کی وعید ہے۔قرآن حکیم میں دین مبین کے کس حصے سے انکار یعنی ارتداد کے دائرہ کار اور اس کی دنیاوی سزا کے بارے صراحت بیان نہیں کی گئی ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے افساد اور محاربے سے متعلق آیاتِ قران اورخصوصا سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۵۴ کو ارتداد کی دنیاوی سزا کے لیے دلیل بنایا ہے۔ تفسیرِ درمنثور کے مصنف نے سورہ بقری کی آیت نمبر ۵۴ کے ذیل میں حضرت علی علیہ السلام سے ایک قول نقل کیا ہے جس کے مطابق اس آیت کے مطابق بنی اسرائیل کوقتل ِنفس کا حکم ان کی نفسانی خواہشات کے قتل کا حکم نہیں بلکہ حقیقی قتل کا حکم تھا اور اس واقعہ میں بچھڑے کی پوجا کی وجہ سے حضرت موسی کے توسط سے حکمِ خدا کے ابلاغ کے بعد بچھڑے کی پوجا کرنے والوں نے اس امرِ خدا کے مطابق حقیقی معنوں میں ایکدوسرے کو قتل کیا تھا جو کہ اجتماعی طور پر ارتداد کے مرتکب ہوئے تھے۔ اس تشریح کے باوجود قرآن میں ارتداد کی دنیاوی سزا یعنی مرتد کاقتل اور اس کے دائرہ کار کی طرف صریح اشارے کے بارے اتفاق نظر نہیں پایا جاتا لہذا اس امر میں سنت محمد و آل محمد علیہم السلام کی طرف رجوع ناگزیر ہے۔

جہاں تک ارتداد کے مفہوم اور دائرہ کار کا تعلق ہے تو سنت معصومین سے ماخوذ فقہائے امامیہ کی آرا کے مطابق دین مبین اسلام کے انکار سے مراد اصول دین یعنی خدا کی وحدانیت، پیغمبر گرامی اسلام کی نبوت و رسالت، قیامت اور موت کے بعد دوبارہ زندگی کا انکار ہے؛ “و ھو الذی یکفر بعد الاسلام سواء کان الکفر سبق اسلامہ ام لا” (محمد حسن نجفی علیہ الرحمہ، جواہر الکلام)۔ دین کے بنیادی اصولوں میں سے کسی ایک یا تمام کے انکار کے علاوہ فقہائے امامیہ کے نزدیک ضروریات دین کا انکار بھی ارتداد کے زمرے میں آتا ہے “وجحد ما یعلم من الدین ضرورۃ”۔ضروریات دین سے یہاں مراد دین اسلام کے بدیہی احکام جیسے پانچ وقت کی نماز وغیرہ ہیں۔ (محمد حسن نجفی علیہ الرحمہ کے بقول اس امر میں کوئی مخالف رائے نہیں پائی جاتی)۔ البتہ بعض فقہا کے نزدیک ضروریات دین کے انکار کا لازمہ اگر توحید و نبوت کا انکار ہو تو یہ ارتداد کے زمرے میں شامل ہوگا ورنہ صرف ضروریات دین کا انکار ارتداد کے زمرے میں شامل نہیں ہو گا (محقق اردبیلی، فاضل ہندی، کاشف الغطا اور امام خمینی علیہم الرحمہ نے اس رائے کو اختیار کیا ہے)۔

فقہائے احناف کے برعکس فقہائے امامیہ نے ارتداد کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے(فقہائے امامیہ کی مشہور رائے ماسوائے ابن جنید علیہ الرحمہ کہ جو ارتداد کی ایک ہی قسم کے قائل ہیں اور فرماتے ہیں کہ مرتد کو توبہ کرنے کاکہا جائے گا اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی اور اس توبہ کے لیے ۳ دن کی مہلت دی جائے گی)۔ مشہور رائے کے مطابق پہلی قسم کے مرتد کو فطری مرتدکہا گیا ہے کہ جس سے مراد ایسے شخص کا دین مبین اسلام سے انکار ہے جس کے انعقاد ِنطفہ یا بعض فقہا کے مطابق ولادت کے وقت ماں یا باپ میں سے کوئی ایک مسلمان ہو۔ دوسری قسم کے مرتد کو ملی مرتد کہا گیا ہے کہ جس سے مراد ایسے شخص کا دین قبول کر لینے کے بعد انکار کہ انعقادِ نطفہ یا ولادت کے وقت اس کے ماں باپ میں سے کوئی بھی مسلمان نہ ہو بلکہ یہ شخص بعد میں کسی دوسرے دین سے دینِ مبین اسلام میں داخل ہوا ہواور پھر دین مبین ِاسلام کو ترک کر دے۔ اس تقسیم کے اثرات مرتد کے بارے احکامات میں ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ فطری مرتد کے مال کی اس کے شرعی ورثا میں تقسیم اور ملی مرتد کے مال کی عدم تقسیم یا بعض فقہا کے نزدیک فطری مرتد کو توبہ کی مہلت کا نہ دیا جانا اور ملی مرتد کو توبہ کی مہلت دی جانا اور توبہ کی صورت میں اس کی توبہ کو قبول کر لیا جانا اور بعض فقہا کے نزدیک فطری مرتد کی توبہ کو قبول نہ کیا جانا وغیرہ۔ فقہائے امامیہ کے نزدیک نطفے کے انعقاد کے وقت ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے مسلمان ہونےیا ولادت کے وقت ماں باپ میں سے کسی ایک کے مسلمان ہونے کے باوجود شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ بالغ ہونے کے بعد ایک دفعہ دین مبین اسلام کو قبول کرنے کااپنے قول یا فعل سے اظہار کرے(تحریر الوسیلہ، امام خمینی علیہ الرحمہ) اگر کوئی شخص بالغ ہونے کے بعد دین مبین اسلام کے قبول کرنے کا اپنے قول یا فعل سے اظہار نہ کرے تو اس شخص کا بعد کا کوئی انکار ارتداد کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ فطری مرتد کے حوالے سے شہید ثانی اور محمد حسن نجفی علیہما الرحمہ وغیرہ نے انعقادِ نطفہ کے وقت جبکہ علامہ حلی علیہ الرحمہ و چند دیگر نے ولادت کے وقت ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے مسلمان ہونے کی رائے کو اختیار کیا ہے۔

ارتداد کی شرائط کے بارے فقہائے امامیہ کا ایک دوسرا گروہ ایک نادر لیکن قابل توجہ رائے کو اختیار کیے ہے کہ جن میں فاضل ہندی اور محقق اردبیلی علیہما الرحمہ جیسے عظیم فقہائے امامیہ شامل ہیں۔ عصر حاضر کے معروف مفسر قرآن اور برجستہ فقیہ اور دانشور حضرت آیت اللہ العظمی جوادی آملی حفظہ اللہ بھی اسی رائے کو اختیار کیے ہوئے اور فرماتےہیں کہ( ارتداد یہ ہے کہ کوئی شخص تحقیق کے ساتھ دین مبین اسلام کو قبول کرے پھر اس کے بعد دین کا انکار کردے۔ ارتداد میں ایک چیز جو اہم ہے وہ یہ کہ اس شخص نے دین کے انکار سے پہلے ایک منطقی دلیل کی بنیاد پر دین مبین اسلام کو قبول کر رکھا ہو لیکن اگر کوئی واقعا شک میں مبتلا ہے باوجود اس کے کہ مسلمان گھر میں پیدا ہوا اور وہیں تربیت پائی ہےلیکن وہ جس اسلام کو مانتا ہے وہ معرفت اور منطقی یقین پر مبنی اسلام کی بجائے زیادہ تر نفسیاتی طرز کا اسلام ہے اور یہ کہ کیونکہ اس کے ماں اور باپ مسلمان تھے لہذا وہ بھی مسلمان ہو گیا اس نے نہ تو اس اسلام کے بارے کسی معصوم سے کچھ سنا نہ کسی دانشور سے معلوم کیابلکہ اس کا اسلام موروثی اسلام ہے اور اگر اسے اسلام پر یقین بھی ہے تو ایسا یقین ایک منطقی یقین کی بجائے ایک نفسیاتی یقین ہے۔ اگر ایساشخص دین مبین اسلام پر باقی رہتا ہے تو ممکن ہے خدا اس پر احسان فرمائے اور اس کے اس دین کو قبول کر لے لیکن اگر وہ اس دین میں شک کرےیا اس سے منحرف ہوجائے تو اس پر ارتداد کے احکام کا لاگو ہونا ثابت نہیں ہےلہذا ارتداد یہ ہے کہ کوئی معرفت کا حامل ہونے کے باوجود دین کے ساتھ کھلواڑ کرے اور اس سے بیزاری کا اعلان کرے ـتفسیر تسنیم، ج۱۲، ص ۱۸۳ـ)۔

فقہائے امامیہ کے نزدیک ارتداد کی سزا تین طرح کی ہے۔مرتد کا قتل، مرتد کے نکاح کا فسق ہوجانا اورمرتد کے اموال کی تقسیم۔ مذکورہ موارد میں سے قتل کو بطور خاص سزا جبکہ بقیہ دو موارد کو ارتداد کے حکم کے اثرات کے طور پردیکھا جا سکتا ہے۔ البتہ فقہائے امامیہ کا اجماع ہے کہ مرتد عورت کو قتل نہیں بلکہ تادم مرگ یا توبہ قید کر دیا جائے گا۔ فقہائے امامیہ کے نزدیک فطری یا ملی ہر دو کے ارتداد کے اثبات کی صورت میں ان کا نکاح باطل ہوجائے گا اور فطری مرتدکے اموال اس کے شرعی ورثا میں تقسیم جبکہ ملی مرتد کے اموال کو محفوظ رکھا جائے گا یہاں تک کہ ملی مرتد توبہ کر لے یا توبہ کی مہلت گزر جائے اور وہ اپنے کیفر کو پہنچ جائے۔ حدیث کی امامیہ کتب اربعہ میں سے اصول کافی کے مصنف شیخ محمد ابن یعقوب کلینی علیہ الرحمہ نے باب حد المرتد کے ذیل میں ۲۳ احادیث معصومین علیہم السلام کو جمع فرمایا ہے کہ جن میں سے پانچ اس موضوع کے حکم یعنی مرتد کےقتل کے بارے ہیں اور طول تاریخ کے فقہائے امامیہ نے انہی صحیح اور موثق روایات کی بنیاد پر ہمیشہ مرتد کی دنیوی سزا یعنی قتل کی رائے ہی اختیار کی ہے۔ مثال کے طور پر جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے مرتد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا “من رغب عن الاسلام و کفر بما انزل اللہ علی محمد (ص) بعد اسلامہ فلا توبۃ لہ و قد وجب قتلہ و بانب منہ امراتہ ویقسم ما ترکہ علی ولدہ” (کافی باب حد المرتد، ح۱)۔ اسی طرح امام باقر علیہ السلام نے فرمایا “فی رجل رجع عن الاسلام قال یستتاب فان تاب و الا قتل” (ایضا، ح۵)۔ ایک اور موقع پر امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ” کل مسلم بین المسلمین ارتدعن الاسلام وجحد محمد انبوتہ وکذبہ فان دمہ مباح لکل من سمع ذلک منہ” (ایضا، ح۱۱)۔

مرتد کے قتل کی سزا ہی وہ جنجال بر انگیز موضوع اور نکتہ ہے کہ جس کیوجہ سے اس اسلامی تصور پر حملہ کیا جاتا اوراسے عقیدے کے انتخاب میں آزادی کے خلاف تصور کیا جاتا ہے۔ عقیدے کی آزادی کے بارے ہم اوپر کی سطور میں اس جرم کی نوعیت میں بعض اجمالی نکات بیان کر چکے ہیں کہ اگر ارتداد کے تصور کو اس کی نوعیت اور دائرہ کار کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ کوئی ناقابل فہم اور غیر انسانی تصور بالکل نہیں ہے۔ ا س عنوان سے ہم نے عرض کیا کہ بلوغ کے بعد دین مبین اسلام کو عملا اختیار کرنا حتی بعض مفسرین و فقہائے امامیہ کے نزدیک تحقیق اور عقلی و منطقی دلائل کی بنیاد پر قبول کرنا ارتداد کے لیے پہلی شرط ہے تو ایسے میں یہ امر عقیدے کے آزادانہ انتخاب کے کیسے خلاف قرار دیا جا سکتا ہے؟۔ دین مبین اسلام معاشرے کے مادی و معنوی ہر دو امور کا خود کو ذمہ دار قرار دیتا اور معاشرے میں رہنے والوں کے مادی و معنوی مفادات کے تحفظ کا اہتمام کرتا ہے۔ ہر معاشرہ اپنے وضع شدہ اصولوں کی بنیاد پر معاشرے کے وسیع مادی مفادات کے خلاف اقدامات پر سخت سے سخت سزا کا معتقد ہے جیسے ملکی سلامتی وغیرہ کو خطرے میں ڈالنے پر ہر معاشرہ اور اس کا قانون سخت ترین سزا دیتا ہے۔ مرتد شخص قرآن کے مطابق جہاں اپنے دنیاوی اعمال کے زیاں اور اخروی عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے وہیں اپنے ارتداد پر مبنی اظہارات سے اسلامی معاشرے کی معنوی سلامتی کو متزلزل کرتا، اپنے عقیدے کے پرچار سے اسلامی معاشرے میں تذبذب اور تردید ایجاد کرتاہے۔ دین مبین اسلام معاشرے کے معنوی مفادات جیسے عقیدے کا تزلزل اور عقیدتی سلامتی کو خطرے میں دیکھ کر کیسے خاموش رہ سکتا ہے؟ لہذا ارتداد کے تصور سے معاشرے کی معنوی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کے لیے سخت سزا کا قائل ہے۔

فقہاے امامیہ مرتد کے قتل کے بارے بعض تفاصیل کے قائل ہیں۔ بعض فقہائے امامیہ کے نزدیک فطری مرتد کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اسے توبہ یا عدم توبہ ہر دوصورت میں قتل کر دیا جائے گا جبکہ ملی مرتد کی توبہ قبول اور اسے توبہ کی مہلت دی جائے گی۔بعض فقہائے امامیہ کے نزدیک فطری و ملی ہر دو طرح کے مرتد کو توبہ کرنے پر معاف جبکہ توبہ نہ کرنے کی صورت میں قتل کیا جائے گا، مرحوم اسکافی اور شہید ثانی علیہما الرحمہ نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔بعض فقہائے امامیہ نے ضروریات دین کے انکار میں ان ضروریات کے علم وجہل کو بھی موثر قرار دیا ہے۔ محمد حسن نجفی، محقق حلی، مقدس اردبیلی اور فاضل ہندی علیہم الرحمہ وغیرہ نے اس رائے کو اختیار کیا ہے۔ ابوالصلاح حلبی علیہ الرحمہ وغیرہ نے ارتداد کی سزا کے نافذ کرنے میں آشکار اور غیر آشکار ارتداد میں فرق کو بیان کیا ہے۔بعض فقہائے امامیہ عناد پر مبنی ارتداد اور عقیدے کے ارتداد میں فرق کے قائل ہیں ان کے بقول مرتد دو طرح کا ہے ایک وہ جو اسلام سے دشمنی کی بنا پر اسلام کا انکار کرتا اور اپنی اس دشمنی کو آشکار کرتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ جو اسلام سے روگردانی کے بعد اسلام سے دشمنی نہیں کرتا۔معاند و غیر معاند مرتد کی اس تقسیم و مذکورہ بالا تقسیمات کا اثر ارتداد کے احکامات میں ظاہر ہوتا ہے کہ جس کی تفصیل اس تحریر کی مجال سے خارج ہے۔

ارتداد کے تصور کے بارے فقہائے امامیہ کے نکتہ نظرات کے اس اجمالی بیان کے بعد عرض ہے کہ فقہ چونکہ ایک ایسا ضابطہ ہے جس میں کئی فقہا قرآن و سنت سے ضابطہ مند فہم کی بنا پر اظہار نظر کرتے اور کسی ایک رائے کواختیار کرتے ہیں لہذا فقہ میں کثرت آرا کوئی غیر معمولی امر نہیں ہے۔ فقہی آرا کو جب ہم کسی ملک کے رسمی قانون کا جامہ پہنانا چاہتے ہیں تو یہ قانون ساز ادارے کا اختیار ہے کہ وہ کسی ایک فقیہ کی رائے کو اختیار کرے جو اس زمانے کے تقاضوں اور دیگر اصولوں جیسے تنفیر (دین کے بارے نفرت کا وجود میں آنا) کے اصول وغیرہ سے مطابقت رکھتی ہو مگر یہ کہ اسے ملک کے اعلی قانون جیسے آئین نے کسی مخصوص رائے کو اختیار کرنے کاپابند بنایا ہو جبکہ پاکستان کے آئین نے قانون ساز ادارے کو کسی ایسی قید کا پابند نہیں بنایا کہ وہ اسلام کے کسی خاص مکتب یا مذہب یا مخصوص رائے کو اختیار کرے۔ اسی امر کے پیش نظر آج کے اس مضمون میں ہم نے ارتداد کے مسئلے میں امامیہ فقہا کی اس نادر رائے کی طرف اشارہ کیا۔ فقہائے امامیہ کے نزدیک ارتداد ایک مستمر اور دائم حکم کا حامل موضوع ہے۔ متعدد ایسی روایات کہ جن کی تعداد کسی صورت تواتر سے کم نہیں میں مرتد کے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔

ممکن ہے تنفیر کے اصول یا دیگر اجتماعی مصلحتوں اور جوانب کے پیش نظر جرم سازی کے مرحلے میں عدم جرم سازی یا اجرا کے مرحلے میں سزا میں تخفیف کے اصول کو اپنایا جائے اور اس امر پر معصومین علیہم السلام کی عملی سیرت کو دلیل بنا لیا جائے کہ جس میں ان حضرات نے یا توبہ کی تشویق دلائی اور توبہ قبول فرمائی یا مرتدین کو دیگر عناوین کے تحت سزا دی یا اس جرم کی ماہیت اور نوعیت کے دروازے سے داخل ہوا اور اس جرم کے دائرہ کار کو بہت محدود یا تعزیر کے باب میں لا کر یا ارتداد کی دیگر مذکورہ بالا تقسیمات جیسے معاند و غیر معاند وغیرہ کی بنا پر تخفیف کے اصول پر عمل پیرا ہوا جائے لیکن ارتداد کی دنیاوی سزا یعنی مرتد کے قتل کو مستمر و دائم حکم تصور نہ کرنا اور اسے کسی خاص عہد سے متعلق گرداننا بہرحال قانع کنندہ عقلی و نقلی استدلال طلب کرتا ہے جو کہ اب تک سامنے نہیں آیا۔ امامیہ کتبِ حدیث میں نقل روایات اس تواتر اور تسلسل کے ساتھ ہیں کہ اس حکم کو دائم اور مستمر حکم سمجھنے کے علاوہ چارہ نہیں ہے۔ (فاللہ اعلم)

(تحریر سید ابن حسن)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ اپنے قیمتی تجزیے و تبصرئے کے ساتھ ساتھ اپنی قیمتی آراء و تجاویز سے بھی ہم سب کو رہنمائی و آگاہی فراہم کریں۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.