205

ابدی خواب دے کر ابدی نیند سو گئے!

ابدی خواب دے کر ابدی نیند سو گئے

آج علامہ اقبال کی 77ویں برسی ہے. جس کے بارئے میں کچھ کو یاد ہے اور کچھ کو نہیں. پر سوچنے کی بات یہ کہ،

وہ ابدی دے کر ابدی نیند سو گئے کہ ہم بحثیت قوم جاگتے ہوئے اور آگے سے آگے نئی منزلوں کی جانب گامزن ہونگے ۔ ۔ ۔

پر وائے افسوس!

ہم آخر کیوں بھول چکے ہیں کہ بقول علامہ اقبال،

یہ سَحَر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز،
نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا۔۔۔

وہ سَحَر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وُجود،
ہوتی ہے بندہء مومن کی اذاں سے پیدا۔۔۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر محترم محمد شیراز جاوید اعوان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.