157

ارض پاک میں فنِ خطاطی کا سفر…

جب پاکستان بنا تو اس وقت لاہور میں ساٹھ کے قریب خطاطی سیکھنے کے مراکز تھے جن میں الماس رقم کی بیٹھک ، تاج الدین زریں رقم کی بیٹھک ، محمد اعظم منور رقم کی بیٹھک ، محمد بخش جمیل رقم کی بیٹھک اور حاجی دین محمد کی بیٹھک مشہور تھیں۔اس زمانے میں خطاطی مرکز کو بیٹھک کہا جاتا تھا۔ ان مراکز میں سب سے زیادہ مشہور تاج الدین زریں رقم کی بیٹھک تھی۔ تاج الدین زریں رقم کا تحریر کردہ “مرقع زریں” خطِ نستعلیق میں ایک کامل رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ ممتاز خطاط جناب عبدالمجید پروین رقم بانی لاہوری نستعلیق کا پاکستان بننے سے پہلے انتقال ہوچکا تھا ، تا ہم ان مراکز میں انہی کے انداز خط کی تربیت دی جاتی تھی۔تاج الدین زریں رقم سے تربیت حاصل کرنے والوں میں ممتاز خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی مرحوم ، صوفی خورشید عالم مخمور مرحوم جیسے اساتذہ فن شامل تھے۔ انہی دنوں سیالکوٹ سے سید انور حسین نفیس رقم تشریف لائے اور ان کا قیام بھی زریں رقم کی بیٹھک پر رہا۔

لاہور میں خطاطی کی نمائشوں کا آغاز ممتاز خطاط عبدالواحد نادر قلم نے کیا۔ مرحوم نے عبد المجید پروین رقم سے تربیت حاصل کی تھی ۔انہوں نے ہال روڈ پر اسلامک خطاطی گیلری کو قائم کیا۔ فن خطاطی سیکھنے والوں کے لیے یہ ایک بڑا مرکز تھی۔ الماس رقم علامہ اقبال کے منظور نظر خطاطوں میں شامل تھے۔کتبہ نویسی میں محمد بخش جمیل رقم بھی بہت مشہور و معروف تھے۔

حافظ محمد یوسف سدیدی نے لاہور میں عربی خطوط (ثلث ، محقق ، طغرا) کو ایک بار پھر زندہ کیا جو مغلیہ عہد میں لکھے جاتے رہے مگر بعد ازاں آہستہ آہستہ ان کی طرف انگریزی عہد کی وجہ سے رجحان کم ہوگیا۔حافظ محمد یوسف سدیدی کا سب سے کمال یہ تھا کہ انہوں نے ان خطوط کو از خود کتب خطاطی سے سیکھا ، کیونکہ برصغیر پاک و ہند میں ان خطوط کا کوئی استاد موجود نہ تھا۔عالم اسلام کے شانہ بہ شانہ آنے کی لئے ان خطوط ( ثلث ، محقق ، طغرا ) میں کمال حاصل کرنا لازمی تھا۔ حافظ صاحب کے ساتھ سید انور حسین نفیس رقم نے بھی اس طرف خصوصی توجہ دی اور وہ ان عربی خطوط میں اپنا ایک خوبصورت انداز قائم کرنے میں کامیاب رہے۔

کراچی میں یوسف دہلوی کے نستعلیق اندازِ خط کو جناب عبد المجید دہلوی نے خوب تقویت دی اور نستعلیق کے اس انداز کو بہت فروغ بخشا۔ عبد المجید دہلوی بہت مرنجاں مرنج صاحب فن تھے۔ کراچی میں ان کے شاگردوں کی ایک خاصی تعداد موجود ہے۔ عبد المجید دہلوی نے بہت سے کتب کے سرورق اور اخبارات کی الواح لکھیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

پشاور میں ایم ایم شریف آرٹسٹ نے اپنے فن کا لوہا منوایا۔ انہوں نے ایک کتاب ید بیضا کے نام سے تحریر کی جس میں خطاطی کے کئی فن پارے شامل کئے۔ انہوں نے پشاور اور مضافات کے اہل فن کو اعلی فنی تربیت دی اور بہت سے طغرے اور فن پارے یادگار چھوڑے۔پاکستان کے ان تین بڑے شہروں کے علاوہ اور بہت سے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں بھی اس فن کے ماہر پیدا ہوتے رہے۔

سرگودھا میں بشیر صاحب ایک اچھے خوش نویس تھے۔ پوسٹر نویسی میں ان کو کمال حاصل تھا۔ وہاں پر ظہیر الدین ظہیر اور ایم لطیف اس فن میں بہت معروف ہیں۔فیصل آباد میں صدیق صاحب بڑے معروف خطاط تھے ان سے کافی تعداد میں طالبانِ فن نے استفادہ کیا جن میں کئی نامور بھی ہوئے۔ موجودہ عہد میں وہاں پر حافظ انجم ، عبد الستار ، ایم صدیق اچھے صاحبانِ فن ہیں۔

ڈیرہ غازی خان میں اعجاز ڈیروی بہت نامور خطاط تھے۔ اس علاقے میں نامور خطاط جناب سیمیں رقم کے تلامذہ بہت زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔سیمیں رقم کے شاگردوں میں خورشید شمیم مرحوم اچھے خطاط تھے۔

کوئٹہ میں بھی خطاطوں کی اچھی تعداد موجود ہے جن میں حافظ صادق القلم ، حامد سلیم مرزا ، نیاز محمد ، راز محمد ، حنیف شہزاد ، عبد الحمید شاہوانی وغیرہ خاصے معروف ہیں۔ اس شہر میں ماضی میں بھی بہت اچھے اچھے صاحبانِ فن گزرے ہیں جنہوں نے فن خطاطی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

اوکاڑہ میں محمد اصغر اوکاڑوی اور محمد انیس بہت مشہور ہیں۔

فن خطاطی میں لاہور میں دور حاضر کے بڑے بڑے خطاط موجود ہیں جن میں عبد الرحمن ، واجد محمود یاقوت رقم ، شوکت منہاس ، منور اسلام ابن نادر القلم ، محمد علی زاہد ، شیر زماں ، اکرام الحق ، عرفان احمد خان ، احمد علی ، غلام رسول منظر ، بہار مصفطے ، عبد الرشید ، احمد علی بھٹہ ، جمشید احمد ، عامر منظور نمایاں طور پر اس فن میں متحرک ہیں۔

گوجرانوالہ قیام پاکستان سے قبل خطاطی کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس شہر کو قرآنی خطاطی کے حوالے سے نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس ضلع کے قصبے ایمن آباد اور کیلیانوالا قرآنی خطاطی میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سید احمد ایمن آبادی ، عبد اللہ وارثی ، حکیم رفیع اور بہت سے نامور خطاط اس علاقے میں ہو گذرے ہیں۔ یہاں خواتین کی اکثریت نے بھی خطاطی میں نہایت عمدہ نمونے چھوڑے جن میں فاطمۃ الکبرے کو قرآنی خطاطی میں اہم مقام حاصل تھا۔ یہ ممتاز مصور سعید اختر کی پھوپھی تھیں۔

دور حاضر میں خطاطی کے فروغ کے لئے بہت کام ہورہا ہے۔ اس سلسلے میں نجی سطح پر بھی بہت سی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کیلی گراف آرٹسٹ گلڈ نے خطاطی کے فروغ کے لیے چار بین الاقوامی کامیاب نمائشوں کا انعقاد کیا۔ دانشور اطہر طاہر نے اس سلسلہ میں موثر کردار ادا کیا اور اس تنظیم نے پاکستان ٹیکسٹ بک بورڈ کو پانچویں جماعت تک نصاب تیار کر کے دیا۔رشید بٹ صاحب کی صدارت میں ایک اور تنظیم پاکستان کیلی گرافر ایسوسی ایشن کے نام سے اس فن کی خدمت کے لئے متحرک ہے۔ اس تنظیم نے بھی کئی اہم قومی و بین الاقوامی نمائشوں کا اہتمام کیا اور خاص طور پر کئی اہلِ فن کو بیرون ملک تربیت کے لئے بھی بھیجا۔دور حاضر میں نیشنل کالج آف آرٹس میں خطاطی کی تربیت اس فن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ تربیت بشیر احمد صاحب ہیڈ آف فائن آرٹ دیپارٹمنٹ کی کوششوں سے شروع ہوئیں۔ کالج نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے 2006 سے ایک سالہ خطاطی ڈپلومہ کلاس کا آغاز کیا جو کامیابی سے جاری ہے اور طلباء و طالبات کی اکثریت اس فن کی طرف مائل ہے۔ (نیشنل کالج آف آرٹس میں خطاطی کے اجراء اور فروغ میں مضمون نگار خورشید عالم گوہر قلم کی کوششیں قابل قدر ہیں اور وہی این سی اے میں اس شعبہ کے انچارج ہیں)پاکستان میں فن خطاطی پر بہت سی کتب شائع ہوئیں ، جن میں تذکرہ خطاطی ، گلستانِ خطاطی ، تاریخ خط و خطاطاں ، نقش گوہر ، نصاب خطاطی ، اعجاز خطاطی ، مخزن خطاطی ، مرقع گوہر ، مرقع لوح و قلم ، پرل آف کیلی گرافی ، ونڈر آف کیلی گرافی ، مرقع خط وغیرہ شامل ہیں۔

اگرچہ ہائر ایجوکیشن کمشن اسلام آباد نے پاکستان بھر کے فائن آرٹس کے کالجوں کے لئے نصاب کی منظوری دے دی ہے مگر اصل معاملہ اس کو وہاں رائج کرنے کا ہے۔ دیکھیے کہ وہ فن جو قیام پاکستان سے پہلے تعلیم کا لازمی حصہ تھا ، قیام پاکستان کے بعد زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔ وہ فن کہ جس کو آزادی کے بعد چمکنا چاہیے تھا ، آزادی کے بعد غلامی میں کیوں آیا؟ اور ہم سب کا سوال ہے کہ یہ فن کب آزاد ہوگا؟

(تحریر خورشید عالم گوہر)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.