222

استقبالِ آمد رمضان

شب و روز گردش ہوتی رہی، دن مہینوں میں ڈھلتے رہے، اور ہمارے پاس ایک اور رمضان آگیا، ذرا ہم اپنی حالت کا جائزہ تو لیں، کیا اس سال ہمارے لیے رمضان کی کوئی خاص اہمیت ہے؟ یا یہ بھی گزرے ہوئے رمضانوں جیسا ہی ایک رمضان ہو گا․ آج امت کے حالات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں: ہم مسلمان ہیں۔ ایسے مسلمان۔ جنہوں نے اپنے نفوس کو خوب ڈھیل دی، اور نفس ِ شریرہ نے نہ صرف ہمارا گھیراؤ کر لیا بلکہ وہ ہمارے سر پر چڑھ بیٹھا، نفس ِ امارہ تو برائی پر ہی اکساتا، اور خواہشات اور شہوات کی بندگی کرواتا ہے!! وہ حساب، پوچھ گچھ، یا جزاء کی تیاری نہیں کرواتا، اور نہ اللہ عزّوجل کی نگرانی محسوس ہونے دیتا ہے، جس طرح اسے محسوس کرنا مطلوب ہے․

رشوت کا بازار گرم ہے، اس میں غریب اور امیر ممالک میں کوئی فرق نہیں، اور حدیث میں ہے: ’’اللہ نے رشوت دینے والے، رشوت لینے والے اور ان کے درمیان واسطے کا کام کرنے والے پرلعنت فرمائی ہے‘‘․ رائش دونوں کا درمیانی واسطہ ہے، اور یہ تینوں قسم کے لوگ اللہ کی رحمت سے دور پھینک دیے جاتے ہیں․

حرام کھانا عام ہو گیا ہے، اور جدھر قدم اٹھائیں سود کے گھر (سود دینے والے ادارے) موجود ہیں، حالانکہ حدیث میں ہے: ’’اللہ نے لعنت فرمائی ہے سود کھانے والے، اس کے وکیل، اس کے کاتب، اس کے دو نوں گواہوں پر‘‘ یہ ہیں سود کے سبب ملعونوں کی پانچ اقسام، جو اللہ عزّوجل کی رحمت سے دور پھینک دیے جاتے ہیں، ذرا سوچئے، اسے کھانے والے اور دوسروں کو سود کھانے میں مدد دینے والے، اسے لکھنے والے، مدون کرنے والے اور گواہ، سب سود خور!!

نفرت، حسد، عداوت اور بغض نے ہم میں دوسری اقوام کی بیماریاں بھی منتقل کر دی ہیں، حدیث مبارکہ میں ہے: ’’تم سے پہلی قوموں کے امراض رینگتے ہوئے تمہاری جانب آ جائیں گے، حسد، اور بغض۔ ۔۔۔‘‘ جیسا کہ فرمان رسولﷺ ہے․

گناہوں سے پاک ہونا
ایسے میں جب رمضان آ جاتا ہے اور نفس بے کاری اور بربادی میں پڑا ہوتا ہے، اور نفس شہوات اور لذتوں کا اسیر بنا ہوتا ہے، اور نفس اللہ کی نگاہ کو محسوس نہیں کرتا، اور نہ عاقبت اور انجام کی پرواہ کرتاہے!! تو اس کی بڑی اہمیت ہے، کیونکہ شیطان اس نفس کو ورغلاتا ہے اور اسے اللہ کے راستے سے بہت دور لے جاتا ہے، اور وہ اللہ کو چھوڑ کر اس کو ولی بنا لیتا ہے استحوذ علیہم الشیطان فأنساھم ذکر ﷲ اولئک حزب الشیطان ألا ان حزب الشیطان ھم الخاسرون (المجادلہ ۱۹) (ترجمہ: شیطان ان پر مسلط ہو چکا ہے، اور اس نے خدا کی یاد ان کے دلوں سے بھلا دی ہے، وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو، شیطان کی پارٹی کے لوگ ہی خسارے میں رہنے والے ہیں) اور رمضان اپنی فطرت کے اعتبار سے عیوب سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد گار ہے، کیا یہی کافی نہیں ہے کہ وہ دوسری اطاعتوں کی ماننداللہ کے احکام کے سامنے ہمیں جھکنا اورفرمانبرداری کرنا سکھاتا ہے، اگرچہ ہم اس کی حکمت اور سبب بھی نہ جانتے ہوں، اللہ تعالی فرماتا ہے: فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ(البقرہ ۱۸۵) ’’لہذا تم میں سے جو اس مہینے کو پائے وہ اس کے روزے رکھے‘‘، تو آپ یہ نہیں کہتے کہ کیوں؟ لوگوں کو بھوکا رکھ کر رب العزت کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟ یا ان کو ان کی بیویوں سے دور رکھ کر؟ اور اللہ کو اپنے رسول ﷺ کی زبان سے یہ کہلوا کر کیا فائدہ حاصل ہو گا کہ ہم راتوں کو قیام کریں گے، اور ہم نیکی اور بھلائی کے اعمال بڑھائیں گے؟ ہم کبھی بھی یہ نہیں کہتے کہ اس سے اللہ کو فائدہ ہوگا، ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ ’’سمعنا وأطعنا‘‘ یعنی ہم نے سنا اور اطاعت کی، اور جس روز اس امت نے سمعنا وأطعنا کہنا شروع کر دیا تو یہی اس کی کامیابی اور کامرانی کی ابتدا ہو گی․

یہی بات ہم روزے، زکوۃ اور نماز اور ہر خیر اور معروف کے کام کے لیے کہتے ہیں، ہم شراب کیوں نہیں پیتے؟ اس کے جواب میں ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ نقصان دہ ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے․ ہم سود کیوں نہیں کھاتے؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ گھروں کو برباد کر دیتا ہے، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ کیونکہ اسے اللہ نے حرام کیا ہے․

عمل میں اخلاص
صرف رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں انسان اپنے اعمال پر نظر رکھنا سیکھتا ہے، اور اللہ تعالی خوب آگاہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کی کس قدر نگہبانی کرتا ہے، کیونکہ اللہ ہر وقت اس کے ساتھ ہوتا ہے، حتی کہ اگر کوئی پولیس بھی تفتیش کرنا چاہے کہ سارا دن اس نے کچھ کھایا ہے یا نہیں؟ تو وہ نہیں جان سکتا، اور اس کی خبر صرف اس کے مالک کو ہے، اسی لیے اس (روزے) کی قیمت بھی یہ ہے کہ: ’’ابن ِ آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے، کیونکہ وہ (خالص) میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا‘‘ اللہ عزوجل کی نگاہ محسوس کرنا تاکہ اس کا ثمر واضح ہو جائے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’پس جس روز تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے، تو اس روز نہ شہوت کی کوئی بات کرے اور نہ شور و غل کرے، اور اگر اسے کوئی شخص گالی دے یا اس سے لڑائی کرے، تو وہ اس سے کہ دے، کہ میں تو روزے سے ہوں‘‘ میں کسی کمزوری کی بنا پر تمہیں جواب دینے سے نہیں رک رہا، اور نہ مجھے تم سے کوئی خوف لاحق ہے،بلکہ میں تو اس جدوجہد کی حفاظت کر رہا ہوں کہ کہیں وہ رائیگاں نہ چلی جائے، اور میں تو اس پھل کی حفاظت کر رہا ہوں جو مجھے ملنے والا ہے۔ ۔میں اللہ کے حکم کا پابند ہوں، میں اپنے اعصاب کو کنٹرول کرنے حریص ہوں، اور نفس ِ امارہ پر قابو پانے کا، جو برائی پر اکساتا رہتا ہے، جو نفس ِ شریرہ ہے․

’’پس جس روز تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے، تو اس روز نہ شہوت کی کوئی بات کرے اور نہ شور و غل کرے، اور اگر اسے کوئی شخص گالی دے یا اس سے لڑائی کرے، تو وہ اس سے کہ دے، کہ میں تو روزے سے ہوں‘‘ جیسا کہ فرمان ِ رسول اللہ ﷺ ہے․

نیکی اور خیر کے دروازے
ہمیں مزید کس چیز کی ضرورت ہے؟ نیکی اور خیر کے دروازوں کی۔ ۔ ہم قیام اللیل کر سکتے ہیں، صبح وشام کے اذکار کر سکتے ہیں، اور ہمارے پاس تلاوت ِ قرآن مجید کرنے کا موقع ہے، ہم زکوۃ ادا کر سکتے ہیں، اور اگر اس وقت ہم اپنی زکوۃ نکالتے ہیں، تو ہمارے پاس لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کا موقع ہے، ہم اعتکاف بیٹھ سکتے ہیں، اور مزید۔ ۔ مزید۔ ۔ ہمارے لیے بہت سے اعمال ہیں، جو کس چیز کا سبب بن سکتے ہیں؟! یہ ہمارے لیے دعا کی قبولیت کا سبب بن سکتے ہیں، پس اللہ تعالی فرماتا ہے: فاذکرونی أذکرکم واشکرولی ولا تکفرون۱۵۲ (البقرہ) (پس تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو کفران ِ نعمت نہ کرو۔) اور نبی اکرم ﷺ نے ابن ِ عباسؓ سے فرمایا:’’اے لڑکے، اللہ کو یاد رکھو، وہ تمہیں یاد رکھے گا‘‘ ہم رمضان میں آگے بڑھ کر اللہ کی حدود، اور اس کی شریعت کی حفاظت کا اہتمام کرتے ہیں، اور جب ہمارا مولی سبحانہ وتعالی ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے جب ہم اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں، وہ ہماری ہر پکار کو قبولیت بخشتا ہے، وہ مظلوموں کے حق میں ہماری دعائیں سن لیتا ہے، اور ان لوگوں کو نصرت عطا کرنے کی دعاؤں کو بھی شرف ِ قبولیت عطا فرماتا ہے، جن پر اہل ِ زمین ٹوٹ پڑے ہیں، اور ان کو کچا چبا جانا چاہتے ہیں، اور دوسروں کو رسوا کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ وہ انہیں زیر نہ کر سکیں گے، اللہ تعالی فرماتا ہے، اگر تمام انسان بھی تم سے منہ موڑ لیں؛ تو میں تمہاری ضرور مدد کروں گا، اور بندوں کی مدد کرنا میرے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے: سألقی فی قلوب الذین کفروا الرعب (الانفال ۱۲) (میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں)، اور میں فرشتے اتاروں گا․

خصوصی عنایات
رمضان کے بہت سے معانی ہیں، رب العزت نے اس میں ہمارے لیے یہ معانی بھی رکھے ہیں کہ وہ جنت کے دروازے کھول دیتا ہے، اور کوئی بھی عمل آپ کو جنت میں داخل کروا دے گا، اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور یوں جہنم میں داخل ہونا مشکل ہو جاتا ہے، اور شیاطین جکڑ اور دھتکار دیے جاتے ہیں، اب صرف شیاطین ِ انس رہ جاتے ہیں، اور تم ان سے کبھی نہ ڈرو: فلا تخافوھم وخافون ان کنتم مؤمنین (آل عمران ۱۷۵) (تم انسانوں سے نہ ڈرنا، اور مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ِ ایمان ہو۔) اس طرح اللہ تعالی ہمیں ماہ ِ رمضان کی خصوصی عنایات گنواتا ہے تاکہ ہم اس مہینے کی فرصت کو غنیمت جانیں، اور جو کچھ چوک گیا اس کا بدل لانے کی کوشش کریں، ہم اپنی سیرت پر توجہ دیں، جسے فطرت ِ سلیمہ کی سیرت ہونا چاہیے: فأقم وجہک للدین حنیفاً فطرت ﷲ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق ﷲ ذلک ال،یک القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون (الروم ۳۰) (پس (اے نبی اور اس کے پیروو) یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جما دو، قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔)

ہم اسی حدیثِ رسول ﷺ کو دہراتے ہیں: ’’پس جس روز تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے، تو اس روز نہ شہوت کی کوئی بات کرے اور نہ شور و غل کرے، اور اگر اسے کوئی شخص گالی دے یا اس سے لڑائی کرے، تو وہ اس سے کہ دے، کہ میں تو روزے سے ہوں‘‘۔

رمضان آیا ہی چاہتا ہے، ہمیں اس کے استقبال کی تیاری کرنی چاہیے، اور اس تیاری کا آغاز توبہ سے ہونا چاہیے، محاسبہء نفس کی استعداد پیدا کرنی چاہیے، اور برائیوں، گناہوں اور نافرمانیوں سے ہاتھ کھینچ لینے کی استعداد پیدا کرنی چاہیے، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، ظاہری ہوں یا پوشیدہ، اور غلط کاریوں کو جس قدر ممکن ہو ترک کر دینا چاہیے۔ ۔ اور پکا عزم کر لیں کہ ان نافرمانیوں کی جانب پھر نہ پلٹیں گے، اگرچہ ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے۔

دوسرا قدم: ٹھنڈی سانس لے لیں، ہم انشا ء اللہ اس رمضان سے بھر پور فائدہ اٹھائیں گے، اور فائدہ ہماری عمر کے ہر لمحہ میں جاری رہے گا، ہمیں اللہ عزوجل نے جتنے بھی وسائل دیے ہیں اور جو مال عطا کیا ہے ہمیں اس کے ذریعے فائدہ اٹھائیں گے، اس طرح ہمیں امید ہے کہ ہم رمضان سے بہترین نفع پا سکیں گے۔

محاسبہ کے نکات
ہمیں اس ماہ ِ کریم میں داخل ہونے سے قبل محاسبے کے کچھ نکات طے کرنا چاہیے، اور کچھ امور کا جائزہ لے لینا چاہیے:

پہلا نکتہ: روزہ، نماز، قرآن کریم، صبح و شام کے اذکار، استغفار اور توبہ۔

دوسرا نکتہ: نفس کے حقوق، ذرا دیکھیے آپ بقدر ِ ضرورت ہی کھاتے ہیں، یا ہر قسم کے کھانے اور پینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

تیسرا نکتہ: والدین کے حقوق، ذرا جھانکیے، آپ کے نامہء اعمال میں فرمانبرداری ہے یا نافرمانی؟! اگر یہاں پر نافرمانی ہے تو آپ اس کا تدارک کیسے کریں گے؟!

چوتھا نکتہ: گھر والوں اور اولاد کے حقوق، آپ اپنی اولاد کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں یا نہیں؟! اور آپ اپنی بیوی (یا شوہر) کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں یا نہیں؟!

پانچواں نکتہ: رشتہ دار اور رحم کے رشتے، کیا آپ ان سے صلہ رحمی اور نیکی کرتے ہیں یا نہیں؟!

چھٹا نکتہ: مسلمان یا غیر مسلم پڑوسی، کیا آپ ان کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ اور کہیں ان سے زیادتی تو نہیں کرتے یا انہیں تنگ تو نہیں کرتے؟

ساتواں نکتہ: ہمارے دشمنوں کا بھی ہم پر حق ہے کہ ہم انہیں نصیحت کریں، اور اگر وہ ہم سے لڑائی نہیں کر رہے لیکن دشمنی پر قائم ہیں تو بھی ہم انہیں تکلیف نہ دیں، اور اگر وہ ہمیں اذیت دیتے ہیں تو ہم اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں، اور ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔

آٹھواں نکتہ: جمادات کا حق، اپنی گاڑی اور دوسری چیزوں کا حق۔۔ آپ ان کا خیال رکھتے ہیں، گاڑی میں ’’پٹرول ‘‘ بھروا کر رکھتے ہیں، اس کی مرمت بروقت کرواتے ہیں، کیا آپ اپنے گھر کی صفائی اور دیگر معاملات کا خیال رکھتے ہیں یا نہیں؟!

نواں نکتہ: آپ پر اسلام کا حق، کیا آپ اسلام کا اسی طرح خیال رکھتے ہیں جیسے اپنی اولاد کا خیال رکھتے ہیں؟ اللہ کی قسم اگر ہم اسلام کا خیال بھی اپنی اولاد کی طرح رکھیں گے تو اسلام کی شان بہت عظیم ہو جائے گی۔

دسواں نکتہ: ہر اس شخص کا حق ادا کرنا جس کا ہم پر حق ہے، نبی اکرم ﷺ کا ہم پر حق کہ ہم ان کی سنت کا اتباع کریں، اور ان کی سیرت کے بارے میں جانیں، اور ان کے پیچھے چلیں ﷺ۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر محترم ڈاکٹر سید نوح)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ اپنے قیمتی تجزیے و تبصرئے کے ساتھ ساتھ اپنی قیمتی آراء و تجاویز سے بھی ہم سب کو رہنمائی و آگاہی فراہم کریں۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.