197

اقبال اور ہمارا تعلیمی نظام !

لارڈ میکالے نے دو فروری 1835ء کو برٹش پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا

“میں نے پورے بر صغیر کا سفر کیا، میں نے ایسی دولت اس ملک میں دیکھی ہے، میں نے ایک بھی شخص نہیں دیکھا جو بھکاری ہو، جو چور ہو۔ ایسی اعلیٰ اخلاقی اقدار اور اچھی خاصیت کے لوگ ہیں کہ مجھے نہیں لگتا کہ ہم کبھی اس ملک کو فتح کر پائیں گے جب تک ہم اس قوم کی کمر نہیں توڑ دیتے جو کہ اس کی روحانی اور تہذیبی ورثہ ہے۔ اس لیے میں تجویز دیتا ہوں کہ ہم اس کے پرانے اور قدیم تعلیمی نظام اور تہذیب بدل دیں تاکہ ہندوستانی سوچیں کہ وہ سب کچھ ان سے اچھا اور بہتر ہے جو بیرونی اور انگریزی ہے۔ وہ اپنا احترام نفس اور تہذیب کھو دیں گے اور وہ وہی بن جائیں گے جو ہم انھیں بنانا چاہتے ہیں، ایک مکمل مغلوب قوم”

چنانچہ میکالے ایک ایسا منصوبہ پیش کرگیا جو برصغیر کے لیے انتہائی خطر ناک تھا، نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ ہندوؤں کے لیے بھی۔ اس کی تقریر سے یہ بھی واضح ہوا کہ اس منصوبے سے انگریزوں کا اصل مقصد بر صغیر کو فتح کرنا تھا اور اس مقصد کے لیے انھوں نے وہی طریقۂ کار اپنایا جس کا ذکر اکبر الہ آبادی نے یوں کیا ہے،

مشرقی تو سر دشمن کا کچل دیتے ہیں

مغربی اس کی طبیعت کو بدل دیتے ہیں

اقبال جیسے نابغہ اس صورت حال سے بے خبر نہ تھے۔ لہٰذا انھوں نے اپنی شاعری میں اس قسم کی تعلیمی نظام کی تباہ کاریوں سے اہل ہندوستان کوخبردار کرنا شروع کردیا۔ انھوں نے ہر زاویے سے اس مسئلے پر قلم اٹھایا۔ اقبال نے ایک نظم “نصیحت” میں ایک انگریز کا اپنے بیٹے کو نصیحت نقل کرتے ہوئے لکھا ہے

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو ہو

جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر

تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب

سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر

یعنی محکوم کو تیغوں سے زیر کرنا تو مشکل ہے لیکن اگراس کی خودی کو تعلیم کے تیزاب میں ڈالا جائے تو وہ ملائم ہو جائے گی اور پھر یہ خود ہمارے لیے کام کرے گا۔ اس اکسیر سے بڑے بڑے کام کیے جا سکتے ہیں۔اقبال نے ایک دوسرے زاویے سے اس مسئلے پر کہ اس تعلیمی نظام کا سارا فائدہ فرنگیوں کو پہنچتا ہے، یوں تبصرہ کیا ہے

یہ مدرسہ، یہ جواں، یہ سرور و رعنائی

انھی کے دم سے ہے میخانۂ فرنگ آباد

تعلیم کا مقصد ہوتا ہے اعلیٰ کردار،اعلی اخلاق اور بہترین صلاحیتوں کے انسان پیدا کرنا، معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا، ایسے شہری پیدا کرنا جو ملک و قوم کے کام آسکیں، انسانیت کی بھلائی کے لیے کچھ کرنے والے ہوں۔ لیکن ماہرین تعلیم کے نزدیک ہمارے تعلیم کا بنیادی مقصد شکم سیری ہے۔ اقبال ایسے علم کو زہر سے تعبیر کرتے ہیں

وہ علم نہیں، زہر ہے احرار کے حق میں

جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف جو

اقبال کہتے ہیں کہ ایسی تعلیمی اداروں اور ایسی تعلیم پر کیا نازاں ہے جس نے مسلمان نوجوان کے سینے سے عشق کو چھین لیا، مسلمان کے خون سے سوز کہن اڑا لے گیا، اس کے ہتھیلی میں روٹی تو تھمائی نہیں الٹا اس کے تن کی جان کو اڑا لے گئی؟

نوا از سینۂ مرغ چمن برد

ز خون لالہ آن سوز کہن برد

بہ این مکتب، بہ این دانش چہ نازی

کہ نان در کف نداد و جان ز تن برد

ایک صحت مند معاشرے میں تعلیم کے مقاصد میں سے یہ بھی ہوتا ہے کہ اس معاشرے کے نظریات و عقائد، ثقافت اور رسوم و رواج کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔ مثلاً پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اس کے باشندوں کے عقائد و نظریات قرآن و سنت پر مبنی ہیں ان کو اگلی نسل تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایسا نظام تعلیم رائج کریں جو ہماری نوجوان نسل کو الحاد و زندقہ سے بچانے میں کامیاب ہو۔ اقبال کہتے ہیں کہ ہم یہ سمجھے تھے کہ اس تعلیم سے فارغ البالی آجائے گی لیکن ساتھ ساتھ الحاد بھی آگیا

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

“فردوس میں ایک مکالمہ” اقبال کی نظم ہے۔ اس میں شیخ سعدی، مولانا الطاف حسین حالی سے پوچھتے ہیں کہ ہندی مسلمانوں کا کیا حال ہے، منزل کی طرف گامزن ہیں؟ مذہب کی حرارت ان میں باقی ہے؟ تو حالی رو رو کر جواب دیتے ہیں

جب پیر فلک نے ورق ایام کا الٹا

آئی یہ صدا، پاؤگے تعلیم سے اعزاز

آیا ہے مگر اس سے عقیدوں میں تزلزل

دنیا تو ملی، طائر دیں کر گیا پرواز

دیں ہو تو مقاصد میں بھی پیدا ہو بلندی

فطرت ہے جوانوں کی زمیں گیر زمیں تاز

مذہب سے ہم آہنگی افراد ہے باقی

دیں زخمہ ہے، جمعیت ملت ہے اگر ساز

بنیاد لرز جائے جو دیوار چمن کی

ظاہر ہے کہ انجام گلستاں کا ہے آغاز

پانی نہ ملا زمزم ملت سے جو اس کو

پیدا ہیں نئی پود میں الحاد کے انداز

اقبال اپنی نظم “مذہب” میں بھی مغربی تعلیم کو مذہب کے لیے مضر تصور کرتے ہوئے کہتے ہیں

تعلیم پیر فلسفۂ مغربی ہے یہ

ناداں ہیں جن کو ہستی غائب کی ہے تلاش

پیکر اگر نظر سے نہ ہو آشنا تو کیا

ہے شیخ بھی مثال برہمن صنم تراش

محسوس پر بنا ہے علوم جدید کی

اس دور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش

مذہب ہے جس کا نام، وہ ہے اک جنون خام

ہے جس سے آدمی کے تخیل کو انتعاش

میکالے نے ہندوستان کے جس پرانے تعلیمی نظام کے ختم کرنے کی بات کی تھی وہ نظام تعلیم مسلمانوں میں ایک ایسا جنون پیدا کرتا تھا جو عقل کے مکرو فریب سے بے نیاز ہوتا تھا، جو ملک و دین کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے میدان میں چلانگ لگاتا تھا۔ لیکن میکالے کے تعلیمی منصوبے نے اس جنون سے بیگانا بنایا

اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا

جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش

جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس حقیقت کا ادراک ہوتا ہے کہ مسلمان جب بھی غالب آئے ہیں اس کی وجہ مضبوط یقین ہے۔ لیکن جہاں تک ہمارے تعلیمی ادارے ہیں ان میں اس چیز کا فقدان ہے۔

مختلف فلاسفروں اور مفکرین کے نظریات پڑھ پڑھ کر اور ان کی تردید نہ کر ہمارا یقین متزلزل ہوتا چلا جارہا ہے۔ حالانکہ زندگي کے ضمیر میں سوز صہبائے یقین ہی سے ہے۔

مئے یقیں سے ضمیر حیات ہے پرسوز

نصیب مدرسہ یا رب یہ آب آتش ناک

مادے کی تسخیر اور اس کو بروئے کار لانا قرآنی تعلیمات کا اہم نقطہ ہے قرآن بار بار غور و فکر کرنے پر زور دیتا ہے۔ آدم علیہ السلام کوبھی پہلی تعلیم اشیاء ہی کی دی گئی تھی، علم الاشیاء سائنسی علم ہی کو کہتے ہیں۔ لیکن مادے کو سب کچھ سمجھنا اور عشق و روحانیات کو نظر انداز کرنا سنگین غلطی ہے جو کہ ہمارے اداروں کا وطیرہ رہا ہے۔ ہمارے تعلیم ادارے مادیات کو اصل جوہر سمجھے ہوئے ہیں۔ اقبال اس پر ایک کاری ضرب لگاتے ہیں

تب و تابے کہ باشد جاوِدانہ

سمندِ زندگی را تازیانہ

بہ فرزنداں بیا موز ایں تب و تاب

کتاب و مکتب افسون و فسانہ

یعنی وہ تب و تاب کہ ہمیشہ برقرار رہے، زندگی کے گھوڑے کے لیے تازیانہ ہے۔ تو اپنے بیٹوں کو یہ تب و تاب سکھا کیونکہ کتاب اور مکتب یعنی موجودہ تعلیمی نظام محض ایک افسانہ ہے۔

اگر چہ اقبال خود سائنسی ذہن لے کر اس جہان مرغ و ماہی میں وارد ہوئے تھے اور انھوں نے آئن سٹائن وغیرہ بڑے بڑے سائنس دانوں کی تعریف کی ہے لیکن روحانیت سے دور رہنے والے سائنس دان جو کہ ستاروں اور سیاروں کے گرد گھومتے ہیں، فلکیات کے ماہر ہیں، اقبال کے نزدیک محض آوارہ گرد ہیں۔ ان کی مثال ابر کے اس ٹکڑے کی طرح ہے جس کو ہوا اڑاتا رہے۔

ازاں فکر فلک پیما چہ حاصل؟ کہ گرد ثابت و سیارہ گردد

مثال پارۂ ابرے کہ از باد بہ پہنائے فلک آوارہ گردد

گویا کہ اقبال کے نزدیک خود شناسی، خدا شناسی اور انسانیت شناسی اصل جوہر ہے۔

موجودہ تعلیمی نظام کے نقصانات کو دیکھنے کے لیے چشم بینا کی ضرورت ہے۔ اقبال اس پر نظر رکھے ہوئے تھے انھوں نے بتا دیا ہے کہ اس تعلیمی نظام سے دین کو نقصان پہنچتا ہے۔

چشم بینا سے ہے جاری جوئے خوں

علم حاضر سے ہے دیں زار و زبوں

خاص کر مدرسۂ زن پر اس کے برے اثرات کا تو اندازہ کرنا ہی مشکل ہے کیونکہ ارباب نظر اس علم کو عورت کے حق میں موت تصور کرتے ہیں جس کی تاثیر سے زن نازن بن جائیں اور امومت سے ڈرنے لگیں۔ صنف نازک کی کافی ذمہ داریاں ہیں اگر وہ دین سے بیگانہ رہی تو تربیت اولاد اور شوہر سے عشق و محبت اس علم وہنر کی بدولت ناممکن ہے۔

نظام تعلیم کو صحیح ڈگر پر استوار کرنے کے سلسلے میں اساتذہ بہت اہم رول ادا کرسکتے ہیں لیکن ان کی تگ و دو بھی روایت پرستی کی حد تک محدود رہا ہے۔ وہ بھی مغرب کی اندھی تقلید میں صرف مادی ترقی کے گیت گا رہے ہیں، روحانیت کے بجائے مادہ پرستی کے شرک میں مبتلا ہونے سے لاالہ الا اللہ کی صدا کیسے آسکتی ہے۔

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا

کہاں سے آئے صدا ‘لا الہ الا اللہ”

ادب و فلسفہ پڑھنے پڑھانے کے ساتھ ساتھ اسباب ہنر کے لیے عملی اقدام بھی ضروری ہے۔ علم کو نقوش سے نکال کر نفوس میں لے آنا بھی ضروری ہے۔ دوسری اقوام عملی سائنس و ہنر کی بنا پر ہی ترقی کر گئی ہیں۔ ایسے علم و ہنر کے فتنے پر افسوس ہے جس کو حاصل کرنے سے شیطان ارزان اور یزدان دیریاب ہو جائے

اے مسلمانان فغان از فتنہ ہاے علم و فن

اہرمن اندر جھان ارزان و یزدان دیریاب

مغربی تعلیمی نظام نے مسلمان نوجوانوں کو دانش تو دے دی، پر ادب نہ دیا۔ حالانکہ ادب نادان و دانا سب کا زیور ہے۔ اس تعلیم نے مسلمان کی اولاد کو بے ادب کر دیا۔ اگر ایک بینا شخص غلط بینی سے کام لیتا رہے تو اس سے نابینا بہتر ہے۔ ایک اچھی فطرت والا نادان ایک بے دین تعلیم یافتہ اور دانش مند سے بہتر ہے۔

زمن گیر ایں کہ نادانے نکو کیش

زدانش مند بے دینے نکوتر!

تعلیم کے بغیر انسان جاہل ہے، دنیا و ما فیھا سے نا بلد ہے، دوراندیش نہیں ہے وغیرہ لیکن ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسے بت بن رہے ہیں جن میں نہ ادائے کافرانہ ہے اور نہ تراش آزرانہ۔ ان میں ڈاکٹر، انجینیئر، جج، سیاست دان، پروفیسر، سائنس دان وغیرہ تو بنتے ہیں لیکن ان میں عمر فاروق و سلمان فارسی کے صفات کا فقدان ہوتا ہے۔ ان اداروں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ عقل کو تو آزاد کرتا ہے مگر چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام۔ ان اداروں میں نہ زندگی ہے، نہ معرفت اور نہ نگاہ۔ خلاصہ یہ کہ اقبال اہل کلیسا کے اس نظام تعلیم دین و مروت کے خلاف ایک سازش خیال کرتے ہیں

اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

مغربی طرز تعلیم کی ان تمام خامیوں کے باوجود اقبال اس کے افادی پہلوؤں پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے انھوں نے سائنسی علوم کو بہت اہمیت دی ہے۔ وہ ان نوجوانوں سے محبت رکھتے ہیں جو ستاروں پر کمند ڈالتے ہیں

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

اقبال نے پیام مشرق میں “حکیم آئنستائن” کے عنوان سے جو نظم لکھی ہے اس میں اس عظیم سائنسدان کی تعریف کی ہے اور اس کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس پر تبصرہ کیا ہے۔ انھوں نے مغربی علوم حاصل کرنے پر زور دیا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ مغرب نے علم و فن ہی کے بدولت قوت حاصل کی ہوئی ہے

قوتِ افرنگ از علم و فن است

از ہمیں آتش چراغش روشن است

مطلب یہ کہ مغربی ملکوں کی قوّت علم و فن سے ہی ہے۔ اور ان کا چراغ اسی آگ سے روشن ہے۔

اقبال “جاوید سے” کے عنوان سے مسلمان نوجوان سے کہتا ہے کہ اگر تیرے جوہر میں `لا الہ الا اللہ ` اور تو فرنگی علوم پڑھتے رہو تو کوئی خوف نہیں ہے

جوہر میں ہو ` لا الہ` تو کیا خوف

تعلیم ہو گو فرنگیانہ

اس سے معلوم ہوا کہ بحیثیت ایک مسلمان پہلے اپنے آپ کو اسلامی رنگ میں رنگا جائے، اپنے عقائد و نظریات کو عقیدۂ توحید کے مطابق بنایا جائے، یقین کی اساس کو مضبوط کیا جائے تو پھر ہر قسم کے علوم کو حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں۔ لیکن اگر مسلمان نوجوان کے بدن میں سوز لا الہ نہ ہو تو ان علوم تازہ میں اس کی موت بھی پوشیدہ ہے

کھلے ہیں سب کے لیے غربیوں کے میخانے

علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں

اسی سرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تری

ترے بدن میں اگر سوز ‘لاالہ’ نہیں

اگر چہ پاکستان بننے کے بعد ہمارے نظام تعلیم میں کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور مختلف حکمرانوں نے اس کو اسلام کے سانچے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس نظام تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ وہی ہے جو انگریزوں کے زمانے میں تھا۔ اقبال نے مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے جو نصاب بنایا تھا اس کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ اس میں قرآن و سنت کی تعلیم آٹے میں نمک سے بھی کم ہے بلکہ بقول اکبر

نئی تہذیب میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہے

مگر یوں ہے کہ گویا آب زم زم مے میں داخل ہے

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا نظام تعلیم رائج کیا جائے جو مکمل طور پر خود مختار ہو اور ایسے نصاب پر مشتمل ہو جواچھے کردار والے مسلمان، سائنسدان، باعمل لیڈر اور نظام عالم کو مسخر کرنے والے مرد قلندر پیدا کردے۔

(تحریر شہباز بیابانی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.