162

امتِ مسلمہ کی زبوں حالی!

1979ٰء کی تدفین کے عنوان سے کالم میں ،میں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو کا اقتباس نقل کیا، جو دلوں کو دہلا دینے کے لیے کافی تھا۔ شہزادے نے کہا:’’ ہم نے مغرب کے اشارے پر کمیونزم کا راستہ روکنے کے لیے دنیا بھر میں عظیم الشان مسجدیں بنائیں اوروہابیت کو پھیلایا‘‘۔ جب مسجدوں کا بناناامریکہ کے اشارے پر ہو تو مسلمانوں کے لیے اس سے بڑی ابتلا کوئی نہیں ہوسکتی، خاص طور پر اس صورت میں کہ حرمین طیبین سے یہ ثقہ شہادت آ رہی ہے۔ آج امتِ مسلمہ کا المیہ یہی ہے، جب ہم کسی کی فرمائش پرکوئی خدمت انجام دیں گے تو اس کا یہ حق بنتا ہے کہ ضرورت پوری ہونے پر وہ کہے:’’بس آپ کا کام ختم‘‘۔ ماضی میں جہادِ افغانستان ہمارا افتخار تھا، لیکن پھر یہ ریاستی کنٹرول سے ماورا ہوگیا اور کسی فکری اور علمی سرپرستی کے بغیر خود رو گھاس کی طرح ہر سُو پھیلتا چلا گیا ۔اب اس کاحال بھی یہی ہے کہ اہلِ مغرب کہتے ہیں : جب جہاد ہماری مدد سے ،ہمارے ایما پر اور ہمارے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے شروع ہوا تھا توپھراب ہمارے اشارے پر اسے روک دو ۔ چنانچہ جب امریکہ اور یورپ میں صوفی ازم کی تحسین شروع ہوئی تو میں نے اپنے دوستوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ کونسا تصوف ہے جس کی پذیرائی اہلِ مغرب کر رہے ہیں اور چوہدری شجاعت حسین صاحب صوفی کونسل کے چیئرمین ہیں ،بعد میں اُس وقت کی امریکی سفیرہ این پیٹرسن نے مسجد وزیر خان لاہور اور کوٹ مٹھن میں بابا فرید کی درگاہ کی تزئین وآرائش کے لیے جب فنڈز دیے تو میں نے کہا تھا: یہ خطرے کی علامت ہے۔

2017ء تک ہم جہاد افغانستان میں سوویت یونین کی شکست وریخت کو اپنا کارنامہ قرار دے رہے تھے اور اس ’’فتحِ مبین‘‘ کا سہرا اپنے سر باندھ رہے تھے تاکہ دنیا ہم سے لرزاں وترساں رہے، ہمیں چھیڑنے سے پہلے سو بار سوچے، لیکن جب امریکہ نے رخ بدلا تو بھارت نے اس کی شہ پاتے ہی ہمیں سفارتی طور پر تنہا کرنے کی مہم شروع کردی ،اس کے بائیکاٹ کے سبب ہمارے ہاں سارک سربراہ کانفرنس اوربعض دوسرے عالمی ایونٹ نہ ہوسکے ، آخر میں عالمی سطح پر اسپورٹس کے شعبے سے بھی ہمیں خارج کرنے کا منصوبہ بنایا۔ہمارے لیے یہ صورتِ حال کیا کم تعجب خیز ہے کہ ہم کئی سالوں سے دوسری ٹیموں کے ساتھ اپنی’’ ہوم سیریز‘‘امارات میں کھیل رہے ہیں ،حتیٰ کہ اپنی قائم کردہ پاکستان سپر لیگ بھی انہی میدانوں میں منعقد کرنے پر مجبور ہیں ۔ ہم انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی منّت سماجت کر کے بمشکل گزشتہ سال کا فائنل لاہور لاسکے اور اس سال آخری چند میچ لاہور میں اور فائنل کراچی میں منعقد کراسکے ۔صرف کراچی کے فائنل اورویسٹ انڈیز کے ساتھ ٹی ٹونٹی سیریزپر ہمارے مالی اور انسانی وسائل کا تخمینہ اربوں روپے بنتاہے ،ہمیں شہر کو کئی دن مفلوج رکھنا پڑا ،کئی علاقوں میں کاروبار متاثر ہوا، کئی سڑکیں بند کرنی پڑیں ۔انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے قدِ آدم پورٹریٹ سڑکوں پر آویزاں کرنے پڑے کہ گویا یہ ہمارے ہیروز ہیں ، ہمارے دلوں میں بستے ہیںاورمیڈیا نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا۔

کہاجاسکتا ہے کہ قوموں اور ملکوں کو اپنے قومی مفاد میںدشمن کے پروپیگنڈے کو زائل کرنے کے لیے ایسی قربانیاں دینی پڑتی ہیں ،اس سے ہمیں سو فیصد اتفاق ہے۔ہم دل وجان سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اب ہم اچھے بچے بن چکے ہیں ،امن کے دلدادہ ہیں ،دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیںاوراُسے کافی حد تک کچل چکے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود دنیاہم پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ، وہ جانتے ہیں کہ یہ انتظامات روایتی نہیں ہیںبلکہ غیر معمولی حساسیت پر مبنی ہیں ،اس قدر احتیاط کے باوجود ایونٹ کے اختتام تک دھڑکا سا لگا رہتا ہے ، ہم دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ یہ میلہ خیریت کے ساتھ اختتام کو پہنچے۔دہشت گردی کے اِکّا دُکّا واقعات تو امریکہ اور مغربی ممالک میں ہوتے ہیں ،لیکن اس کے باوجود وہاں تمام شعبوں میں معمولاتِ زندگی رواں دواں رہتے ہیں اور کوئی ان ممالک کو ’’پُرخطر ‘‘قرار نہیں دیتا ،علامہ اقبال نے کہا ہے:

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

گزشتہ دنوں جرمنی میں ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی ،اس میں ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف نے اپنے خطاب کے دوران کہا:’’ ہماری ریاست نے چالیس برس پہلے جو بیج بویا اَب اُسی کو کاٹنا پڑ رہا ہے، ہم اس دوران کافی تجربات سے گزرکر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان آئندہ اس قسم کی کسی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہے، اگرکسی ریاست میں ماضی سے سبق سیکھنے کا جذبہ موجود ہو تو وہ مستقبل کی راہیں متعین کرنے میںمزید کوتاہیوں سے گریز کرتی ہے،(روزنامہ نوائے وقت، 26فروری )‘‘،اسی کو’’رجعتِ قہقریٰ ‘‘ کہتے ہیں۔

خونِ مسلم کی ارزانی:
لگ بھگ گزشتہ چالیس سال سے خونِ مسلم کی ارزانی دیکھنے میں آرہی ہے، بے قصور مسلمانوں کا خون مسلسل بہہ رہا ہے ، لیکن زمین کی پیاس بجھنے میں نہیں آرہی۔1980میں عراق ایران جنگ شروع ہوئی اور آٹھ سال تک جاری رہی ،دونوں طرف مارنے والے اور مرنے والے مسلمان تھے ۔ اس زمانے میں اسرائیل بظاہر ایران کا مخالف تھا ،لیکن وہ بلیک مارکیٹ کے ذریعے ایران کو اپنا اسلحہ بھی فروخت کر رہا تھا تاکہ دونوں مسلم ممالک باہم قتال کر کے کمزور سے کمزور تر ہوں،دونوں طرف کے مقتولین، مجروحین اور گم شدہ افراد کی تعداد تقریباً نو لاکھ ہے ۔اس جنگ میں عالم عرب صدام حسین کا پشتیبان تھا ، اس کی پراکسی وار ہمارے ملک میں بھی لڑی گئی اور یوں ہمارا وطنِ عزیز بھی اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہ رہا۔ہمارے ملک میں مکاتبِ فکر شروع سے چلے آرہے ہیں ، لیکن مسلکی اختلافات درسگاہوں ، مذہبی جلسوں اور لٹریچر تک محدود تھے ،اُس وقت تک دلیل واستدلال سے بات کرنے کا چلن تھا،پھر مسلکی آویزش کے نتیجے میں مسلّح گروہ وجود میں آئے ،بعض حضرات اس کے تذکرے سے ناخوش ہوتے ہیں ،مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔

اسی دوران کویت پرصدام حسین کی یلغار کے نتیجے میں سعودی عرب ،کویت اور مصر وغیرہ کی آشیرباد سے اُس وقت کے امریکی صدر بش سینیرنے عراق پر حملہ کیا اور صدام حسین کی فوجی قوت اور تعمیر وترقی کے ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، صدام حسین کو ذلت آمیز شرائط کے ساتھ شکست قبول کرنی پڑی۔یہ جنگ دراصل عالمِ عرب اور بحیثیتِ مجموعی اسلامی دنیاپرجابرانہ امریکی تسلّط کی ابتدا تھی ، ستم بالائے ستم یہ کہ مسلم ملک کو تباہ کرنے کی قیمت بھی مسلم ممالک سے وصول کی گئی،بعد میں2003میں صدام حسین کی حکومت کو معزول کردیا گیا ،پھر صدام حسین کو سزائے موت دے دی گئی اور عراق میں امریکہ کے تابع حکومت قائم ہوگئی۔اس میں امریکہ کو بیک وقت سعودی عرب اورایران کی حمایت حاصل تھی۔اس سے قبل نائن الیون ہوا اور اس کی پاداش میں امریکہ نے 2002میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پریلغار کردی جو تاحال جاری ہے۔دریں اثنا 2011میں لیبیا میں پہلے خانہ جنگی برپا کی گئی اور پھر مغربی ممالک نے حملہ کردیا اورتباہی وبربادی کے ساتھ ساتھ صدر قذافی کو بھی قتل کردیا ،لیکن لیبیا میں انتشار اب بھی جاری وساری ہے۔پھر سعودی عرب کی سرپرستی میں شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خلاف تحریک برپاہوئی ،اس میں عالمی قوتیں امریکہ اور روس بھی شامل ہوئے ۔جس طرح جہادِ افغانستان کی بائی پروڈکٹ کے طور پر پاکستان کو افغان مہاجرین کا نہ ختم ہونے والا ورثہ اور ان سے جڑے دیگر مسائل ملے ،اب ترکی اسی تجربے سے گزر رہا ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ یمن میں خانہ جنگی شروع ہوئی ،اس میں بھی سعودی عرب اور ایران کی آویزش عیاں ہے ۔افغانستان ، عراق ،شام، لیبیا اور یمن کے جانی اور مالی نقصانات کا کوئی صحیح تخمینہ دستیاب نہیں ہے۔اسی عرصے میں عرب بہار آئی، جمہوریت کے نعرے لگے ،مصر میں اخوان کی جمہوری حکومت قائم ہوئی،جسے سعودی عرب ،قطر اور امریکہ کے اشتراک سے ختم کردیا گیا اور ملک دوبارہ فوجی حکمران جنرل سیسی کے حوالے ہوگیا۔پاکستان کا جانی نقصان ساٹھ اور ستر ہزار کے درمیان بتایا جاتا ہے اور مالی نقصان سو ارب ڈالر سے زیادہ بتایا جاتا ہے،جوپاکستان کے سالانہ جی ڈی پی کے دگنے سے بھی زائد ہے۔

گزشتہ کئی دنوں سے مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، پرامن مظاہرین کا قتلِ عام کیا جارہا ہے، کشمیر میں چھرے دار بندوق استعمال کر کے لوگوں کو بینائی اور چہرے کے جمال سے محروم کیا جارہا ہے، افغانستان کے شہر قندوز میں ایک دینی مدرسے میں تعلیم پانے والے سوسے زائد بے قصور بچوں کوامریکہ نے فضا سے بمباری کر کے شہید کر دیا، دنیا کا کوئی قانون اس قتلِ عام اور نسل کُشی کی اجازت نہیں دیتا، مسلمان ممالک کوئی موثر آواز بلند کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔ اسلامی کانفرنس کی تنظیم کو کم از کم یہ مطالبہ تو کرنا چاہیے کہ امریکہ ، اسرائیل اور بھارت پر عالمی عدالت میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے اور حقوقِ انسانی کے عالمی اداروں میں ان مظالم کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ لیکن ایسا کون کر پائے گا،اس وقت عالَم یہ ہے کہ دنیا کی پچیس بڑی معیشتوں کے مجموعی دفاعی بجٹ سے بھی امریکہ کا دفاعی بجٹ زیادہ ہے، اور ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ بدمست ہاتھی کی طرح ہے۔ اسی کے رویے نے مودی اور نیتن یاہو کو شہ دی ہے کہ ظلم برپا کرنے کی ہر حد کو عبور کریں، چونکہ اقوامِ متحدہ اور اس کے تمام ذیلی ادارے امریکہ کے اشارۂ ابرو کے محتاج ہیں اور اب تو سعودی ولی عہد محمد بھی ٹرمپ کے ہمنوائوں کی صف میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ شام کو کھنڈرات میں تبدیل کیے جانے اور لاکھوں جانوں کے نقصان کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب اس کی پشتیبانی سے دستبردار ہوگیا ہے اور بشارالاسد کی حکمرانی روس، ترکی اور ایران کے اشتراک سے بحال ہو رہی ہے۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر مفتی منیب الرحمن)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.