184

امت مسلمہ کا مذہبی و تاریخی ورثہ !

خاندانی لوگ اور مہذب قومیں اپنے بزرگوں اور قومی ہیروز سے جڑی یادیں سنبھال کر اور سینے سے لگا کر رکھتی ہیں۔ انہی کے سہارے وہ اپنی نئی نویلی نسل کو جینے کا خواب اور آگے بڑھنے کی لگن دیتے ہیں۔ انہی یادوں کی بنا پر ماضی کے دھندلکے آئینے میں سہانے مستقبل کے خواب بُنے جاتے ہیں۔ نوجوانوں کو عزم، ہمت اور استقلال کی راہ پر گامزن کیا جاتا ہے اور جو قومیں اپنے بڑوں کی اور ان سے جڑی چیزوں کی نا قدری کرتی ہیں، وہ زیادہ دیر تک اپنی شناخت قائم نہیں رکھ سکتیں،ان کی اپنی کوئی پہچان نہیں ہوتی، بھیڑ کی طرح انہیں جس جانب ہانکا جائے سر جھکائے اور بغیر چوں چراں کیے چل پڑتی ہیں۔اس کےلیے آپ مغلیہ سلطنت کے آخری ادوار کی تاریخ پڑھ لیں تو آسانی سے آپ کو ساری بات سمجھ آجائے گی۔

القدس اور مسجد اقصیٰ ہمارے بلکہ پوری امت مسلمہ کے عظیم تاریخی اور مذہبی ورثے ہیں، جن کی حفاظت کا عظیم اور خدمت کا سنہری موقع خداوند قدوس نے ہمیں عطاء فرمایا۔ ہم سے پہلے یہود کو یہ منصب عطاء کیا گیا تھا مگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی اور اپنے گناہوں کے بارِ گراں سے اس مقدس دھرتی کو بوجھل کرتے رہےتو ان سے یہ منصب چھین لیا گیا۔جب سے صحابہ کرام نے اس کو فتح کیا اس کے بعد سے مسلمانوں کےلیے اس کی اہميت اور زیادہ ہوگئی۔ اس کی حفاظت کے اب ہم امین ہیں۔ اللہ نہ کرے اگر اس کے تقدس میں ہم ناکام رہے تو کہیں ہم سے یہ منصب چھن جائے۔یہود سے جب یہ چھینا گیا اسی وقت سے وہ اس کے درپے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے اس شہر نے ازل سے ہی بڑے اتار چڑھاؤ دیکھے۔638ء میں 3000 صحابہ کرام نے اسے فتح کیا، یہاں کے پادری صفرونیوس نے شہر کی چابیاں حضرت عمر بن خطابؓ کے حوالے کیں۔ 1099ء صلیبیوں نے یہاں پر پھر قبضہ کر لیا، 1187 ءمیں معرکہ حطین میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کو شکست دی اور القدس کو پھر فتح کیا۔ 1260ء میں معرکہ عین جالوت ہوا جس میں القدس کو تاتاریوں سے آزاد کرایا گیا۔ 1516ء میں عثمانی خلافت نے اسے اپنا حصہ بنا لیا۔ 1917 ءمیں پہلی جنگ عظیم ہوئی جس کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ ختم کر دی گئی اور القدس انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا۔ پھر 1917ء میں بالفور معاہدہ ہوا جس کے تحت یہاں یہودی ریاست قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ 1948ء میں فلسطین کے 78 فیصد علاقے میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ 1967ء میں یہود نے فلسطین کے بقیہ علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا اور یوں وہاں کے باسیوں پر انہی کی زمین تنگ کر دی گئی۔

اصل میں یہودیوں کا یہ دعویٰ کہ مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام نے کی لہٰذا اس پر ہمارا حق ہے، بالکل بے بنیاد ہے۔ احادیث مبارکہ کے مطابق بیت اللہ اور مسجد اقصیٰ کی تعمیر میں چالیس سال کا فرق ہے۔ بیت اللہ کی پہلی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام نے بحکم تعالیٰ کی پھر اسی بنیادوں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر نو کی۔ اسی حساب کے مطابق مسجد اقصیٰ (ہیکل) کی پہلی تعمیر حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام سے بہت پہلے ہو چکی تھی البتہ انہوں نے اس کی تعمیر نو ضرور کی، حالانکہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے صدیوں قبل ہیکل موجود تھا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد کئی مرتبہ زلزلوں اور حملوں کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو جاتا،طویل عرصہ تک تو یہ بالکل منہدم رہا۔ اب بھلا کوئی ان سے سوال کرے کہ تم کس حق کا دعویٰ کرتے ہو؟ اب تو امریکہ نے بھی القدس(یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کرکے القدس کو یہودیوں کی جھولی میں میں ڈالنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔ جس پر امت مسلمہ سراپا احتجاج ہے جو کہ اچھی بات ہے،لیکن آخر کب تک ہم صرف احتجاج پر اکتفاء کریں گے؟

اس وقت تمام اسلامی ممالک ایک متفقہ موقف پر جمع نہیں ہو رہے۔ اگر القدس سمیت مسلمانوں کے مشترکہ مفاد کا تحفظ کرنا ہے تو اس کےلیے سوچنا پڑے گا، متحد ہونا پڑے گا۔ یہودیوں کے اسکولوں میں یہودی بچوں کی ذہن سازی بڑے منظم انداز میں کی جا رہی ہے۔ بریک کے دوران بچے ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں کہ یروشلم کیا ہے؟ دوسرے بچے جواب دیتے ہیں کہ ہمارا دارالحکومت ہے۔ ٹیچر سوال کرتا ہے کہ دس سال بعد فلسطین کی حالت کیا ہوگی؟بچے جواب دیتے ہیں کہ ہماری حکومت ہوگی، عرب ہمارے غلام ہوں گے۔ سوچیے کہ ابھی سے ان کے ننھے دماغوں میں جو لاوا بھرا جا رہا ہے بڑے ہو کر وہ ہمیں کیا سمجھیں گے؟ ہمیں قرآنی حکم کے مطابق عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔ اپنی نسل نوع کی ذہن سازی کرنی ہوگی ۔ اگر ہم نے اپنی نسل نوع کو اسی طرح لا پروائی میں چھوڑ دیا تو بعید از قیاس نہیں کہ ہمارا نام بھی نہ ہو ناموں میں ۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم محمد فیصل ضیاء)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ اپنے قیمتی تجزیے و تبصرئے کے ساتھ ساتھ اپنی قیمتی آراء و تجاویز سے بھی ہم سب کو رہنمائی و آگاہی فراہم کریں۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.