141

بلاسودی بینک کاری کی حوصلہ افزائی کیوں ضروری ؟

اسلام محض ایک طریقہ عبادت نہیں ایک مکمل ضابطہ حیات بھی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کتاب اور پیغمبر اسلام نے اپنی شریعت کے ذریعہ زندگی گزارنے کا جو دستور العمل انسانوں کو دیا ہے۔ وہ حکمت وافادیت سے پر ہے حالانکہ بعض کوتاہ نظر اس کو موجودہ سائنس اور ٹکنالوجی کے دور سے ہم آہنگ نہیں پاتے جبکہ صاف ذہن اور انصاف پسندوں نے اکثر اعتراف کیا ہے کہ اس میں ہر دور کے انسانی جذبات اور ضروریات کی رعایت رکھی گئی ہے۔

اسلام کے ان اعلیٰ اصولوں میں سے ایک بلاسودی بینک کاری بھی ہے جس کا تجربہ دنیا کے کئی مسلم ممالک میں کامیابی سے سرانجام دیاجارہا ہے خاص طور پر سعودی عرب، کویت، عرب امارات اور پاکستان کے بعد ملیشیا میں بھی یہ نظام تیزی سے برگ وبار لارہا ہے اسی طرح ہندوستان میں بھی گذشتہ تین دہائیوں کے دوران خدمتِ خلق کا جذبہ رکھنے والے بعض مسلم اداروں نے ملک کے مختلف حصوں میں بلاسودی سوسائٹیاں چلا رکھی ہیں جن سے نہ صرف غریب مسلمان بلکہ غیرمسلم بھی استفادہ کررہے ہیں اور یہ سوسائٹیاں ضرورت مندوں کے لئے ایک طرح سے نعمت ثابت ہوئی ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ زیورات یا دوسری قیمتی اشیاء کی ضمانت پر چھوٹے چھوٹے بلاسودی قرض فراہم کردےئے جاتے ہیں اور مالی ضرورت کے لئے قیمتی اشیاء سے محروم ہونے کا خدشہ بھی نہیں رہتا۔

اگر چہ سوسائٹیاں اپنے معاشرہ کی اہم خدمت انجام دے رہی ہیں اور ان میں نام ونمود یا دنیاوی منفعت کا کوئی پہلو حاوی نہیں، نہ یہ سیاسی سرگرمیوں سے آلود ہیں اور نہ ہی حکومت سے امداد طلب کرنا ان کے دائرہ کار میں شامل ہے لیکن اس سب کے باوجود ان کو آج تک اس بات کا حق نہیں دیاگیا کہ وہ خود کو سرکاری طور پر رجسٹرڈ کرالیں یا ریزرو بینک آف انڈیا اور دیگر مالیاتی اداروں کا تحفظ انہیں حاصل ہوسکے۔ حالانکہ ایک جمہوری حکومت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ اس طرح کے فلاحی اداروں کی مدد اور حوصلہ افزائی کرے لیکن تعجب کا مقام یہ ہے کہ ملک کی جمہوری حکومت ان کو امداد فراہم کرنے کے بجائے ان کو فروغ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

جب کہ دوسری طرف یہ بات بھی کم حیران کن نہیں کہ یہی حکومت بیراربانڈوں، لاٹریوں، شراب کی صنعت وفروخت اور قمار خانوں کی حوصلہ افزائی کرکے سیاہ دولت کو سفید دولت میں بدلنے کے مواقع خوب فراہم کرتی رہی ہے مگر اسی کے ساتھ وہ ایسے اداروں کی حوصلہ شکنی کی راہ پر گامزن ہے جو خدمتِ خلق کے جذبہ کے تحت سرگرمِ عمل ہیں اور جن کا مقصد اپنی مدد آپ یا غریبوں کی مدد کرنا ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ سماج کے ان کمزور لوگوں کو سرکاری ایجنسیوں سے بھی مدد نہیں ملتی اور معاشرہ کے ان غریبوں کی داد رسی کوئی نہیں کرتا اور نہ ہی ان کو قرض دیاجاتا ہے اور اگر ملتا بھی تو اس کا کافی سود وصول کرلیاجاتا ہے۔ رقم کی جتنی ضرورت ہوتی ہے سود کی شرح اتنی ہی بڑھ جاتی ہے چنانچہ ایسے ضرورت مندوں کی جو ادارے مدد کرتے ہیں ان کو تو اعزاز واکرام سے نوازا جانا چاہئے۔

مزید برآمداں خود مسلمانوں کے درد مند افراد اور تنظیموں کو اس جانب متوجہ ہوکر بلاسودی بینکوں اور سوسائٹیوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے تاکہ وہ مسلمان جو سود کے لین دین کو مذہبی اعتمار سے غلط اور ناجائز تصور کرتے ہیں۔ خاص طور پر دوکاندار، مزدور، ڈرائیور ، خوانچہ فروش اور دوسرے اسی طرح کے کام کرنے والے ان سے فائدہ اٹھاسکیں اگر حکومت بھی نفع ونقصان میں حصہ کی بنیاد پر ان بلاسودی بینکنگ نظام کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو کہ بعض مسلم ممالک اور خود ہندوستان میں کام کررہی ہیں تو یہاں بھی اس نظام کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے اور اس کے ذریعہ مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم عارف عزیز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.