127

خودشناسی!

زمان و گمان سے پرے کچھ حقائق ہوتے ہیں جو انسان پر کھلتے ہوئے اوقات نہیں دیکھتے۔ انسان کی اوقات…. تم پر اپنے ہونے کا گمان رکھنا بھی ایسی ہی حقیقت ہے۔ جیسے میری دو سہیلیوں کی زندگی کے تجربات ہیں،جن کی تلخیاں الگ ہیں، ذائقے اور نتائج جدا ہیں لیکن ان کا پھل ایک ہی ہے۔

جیسے عنیزہ کہتی ہے: ”میں اس زندگی سے تنگ ہوں جس میں خدا ہوکر بھی نہیں ہے۔ اگر وہ ہے تو اپنے ہونے کا احساس کیوں نہیں دلواتا؟

اور پھر کل شب ہی عنیزہ کو میں نے کہا تھا کہ خدا اپنے ہونے کا احساس آپ کے من چاہے طریقے سے نہیں دلواسکتا اور نا ہی وہ اس بات کا پابند ہے کہ ہمیشہ انسان کی گود میں سکھ کی بارش برساتا رہے۔“

عنیزہ کے دکھ الگ ہیں۔ اسے معاشرتی نا انصافیوں اور ناہمواریوں کا شکوہ ہے۔ وہ شکوہ نا کرنا عیب گردانتی ہے۔ اسے سماج کی ہر اس ریتی رواج سے چڑ ہے جو عورت کا حق غضب کرتی ہے۔ اس کے افسانوں میں بغاوت کی ایسی بو ہے جو انسان کو بغاوت پر اکساتی نہیں مگر افسردہ ضرور کر دیتی ہے۔ اس کی زندگی میں بہت سی تلخیوں کا زہر ہے۔ وہ زہر ہر روز اسے نگلنا چاہتا ہے اور وہ ہر بار تریاق کے چھینٹے ڈھونڈ لیتی ہے۔

دوسری سہیلی مجھ سے دو تین برس چھوٹی ہے۔ حال ہی میں اس پر یہ عقدہ کھلا ہے کہ اس دنیا میں ایک انسان ایسا ہے جس کے بغیر وہ ادھوری ہے اور ہمیشہ رہے گی اور وہ اس کے بغیر ہمیشہ ادھوری ہی رہنا چاہتی جب کہ…. میرے خیال میں ایک کنواری لڑکی کو ایک شادی شدہ مرد سے شادی کبھی نہیں کرنی چاہیے بھلے وہ لڑکی سو جان سے اس مرد پر فریفتہ ہو… اور میرا خیال ہے محبت یا عشق کوئی ایسی شے نہیں ہے جس کا پوسٹر بناکر دیواروں پر آویزاں کیا جائے۔

دو عورتوں کی زندگی کے حالات میرے سامنے ہیں اور ان دونوں کے ماضی و حال میں اگر کچھ فائدہ پہنچا ہے تو ان مردوں کو ہی پہنچا جن پر انھوں نے اپنا حال، بے حال لٹایا ہے۔ تو محبت کسی عورت کو کیا دے سکتی ہے؟ صوفیوں نے، بزرگوں نے، جوگیوں بیراگیوں اور اللہ والوں نے محبت پر بہت کچھ لکھا ہے۔ کر کے دکھایا ہے، سمجھایا ہے عشق کی آخری منزلوں کا پتا بھی دیا ہے مگر عورت کے لیے عشق کی آخری منزل کبھی ایک مرد کی خوشنودی کے علاوہ بھی کچھ رہی ہے؟ اگر رہی ہے تو وہ کیا ہوگی؟ اللہ کی رضا اور اللہ کی رضا پھر اسی میں بتائی گئی ہے کہ تم فلاں رشتے میں باپ، بھائی اور شوہر کو خوش رکھو۔ پھر عورت عشق اور محبت سے کیا حاصل کرتی ہے؟

جب میں عنیزہ کے ان سوالات کے جوابات دینے لگی تو پردہ بصیرت پر ایک جوگی کا تصور لہرایا جو ملکہ ہانس جا رہا تھا۔ ملکہ ہانس کے راستے پر ایک پگڈنڈی ہے جس پر بہت سے قدموں کے نشانات ہیں… وہ نشانات خشک اور لچکیلے ہوچکے چمڑے سے بننے والی جوتی کے نشان ہیں۔ جوتی جو رانجھے کے پاؤں میں پڑی تھی اور وہ ملکہ ہانس چلتا جاتا تھا۔ تمہارا نیلا کوٹ وہی نشان ہے جو اس پگڈنڈی پر ثبت ہو چکا ہے جس پر خمیدہ چلتے ہوئے تم میرے دل میں اترے تھے۔ روپہلی محبت چاند کی پہلی کرن جیسی ٹھنڈی ہوتی ہے اور پھر وہ تاعمر پہلی کرن ہی رہتی ہے اگر درمیان میں ہجر موجود ہو جائے….. ہجر کا وجود کتنا لازم ہے شاید تم نا جان پاؤ اس لیے کہ ایک لمبی مسافت کے بعد مجھے تمہارے ہجر کی قدر معلوم ہوئی ہے اور میرے لیے یہ وہ نعمت خانہ بن چکا ہے جس میں میں اپنی مرضی کی چیزیں ذخیرہ کرسکتی ہوں اور بوقت ضرورت نکال کر دیکھ بھی لیتی ہوں جیسے تمہارے لب… جیسے تمہاری گردن پر بنا تل… جیسے وہ نشان جسے گل کی گانی کہا جاتا ہے وہ تم پر کتنا سجتا ہے…. جسے تمہاری ستواں ناک اور، تمہاری غلافی آنکھیں.. جن کا بدل اس جہان میں تو کم از کم نہیں ہے۔

وہ جون کی گرم دوپہر تھی جب ٹاہلی کی سال خوردہ چوکھٹ پر بیٹھے ہوئے میں نے تمہیں دیکھا تھا۔ پاس ہی گھڑونچی پر دھرے گھڑوں سے شفاف پانی کے قطرے نیچے پھدکتی خاکستری چڑیوں کو بھگو رہے تھے… تمہارے بالوں پر گرم دوپہر چمک رہی تھی اور آنکھیں دوپہر کے دیئے جیسی لو دیتی تھیں… وہ جون کی گرم دوپہر تھی… تب میری روح نے ایک ایسا بار امانت اٹھا لیا جو میری عمر اور میرے حوصلے سے کہیں زیادہ تھا کئی سو گنا بھاری… تم پر کالا رنگ کتنا سجتا ہے اتنا کہ کسی اور پر کالا رنگ ایسے کبھی نہیں کھِلا… تمہیں پسند بھی تو ہے نا اور تم جس چیز کو چھو لیتے ہو وہ امر ہوجاتی ہے۔ آفاق کی وسعتوں میں پھیل کر کائناتی ہالہ بن جاتا ہے۔ پیا رنگ کالا! بن جاتی ہے۔

جون کی گرم دوپہر ڈھلنے لگی تو بڑے دروازے کے اس پار سے وہ ملنگ جو ہر جمعرات کو آتا تھا… آوازہ دینے لگا اور پھر اس نے تان اٹھائی
ہیر آکھدی جوگیا جھوٹھ بولیں
کون گئیاں نوں موڑ لیاؤندا ای…
میرے دھیان کے تکلے پر اس وقت بھی تمہاری آنکھوں اور تمہارے لباس کا کالا رنگ چڑھا تھا. کالے سوت سے بنے خواب دیکھے میں نے۔ جن کی تعبیر بہت اجلی نظر آتی ہے۔

کالے بالوں پر سنہری دھوپ اتری تھی جیسے جہلم کے گدلے پانیوں کے اس پار سنہری خوشوں والی گندم پک رہی تھی۔ اس گندم کا بھی ایک خمار ہے جیسے پہلی چاہت کی بارش کے نشے کا خمار ہے، ایسے ہی سنہری رنگت کا بھی خمار ہے۔ اس فقیر کی آواز میں سوائے درد کے کچھ خوبی نا تھی. تم نے یونہی ذرا سی نظریں گھماکر پوچھا تھا کہ آخر انسان، کسی سے بھی محبت کیوں کرتا ہے؟ اس میں کیا رکھا ہے کہ ہم بلاوجہ جئے جاتے ہیں دکھ، درد اور غم سہے جاتے ہیں، محبت کیے جاتے ہیں؟ کیا کبھی اس محبت نے کسی کو فائدہ بھی پہنچایا ہے؟

کاش میں تمہیں بتاسکوں کہ محبت انسان کو اشرف المخلوق کیسے بنا دیتی ہے۔ کاش! شاید آنے والے دور میں، کوئی یہ کلیہ طے کرنے میں کامیاب ہوسکے کہ وہ صرف محبت ہے جس نے انسان کے اندر موجود انسانیت کو چمکایا اور مہکایا ہے اور یہ اس پالن ہار کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اگر جو یہ نا اترتی تو ملکہ ہانس والا جوگی، ہیر کیسے لکھتا؟ شاہ حسین کی کافیاں روہی کے سینے میں جل تھل کیسے کرتیں؟ شہر بھنبھور کیسے اجڑتا…. قیس کی لیلی کو کون جان سکتا… ریگ زار میں آگ کیسے دھکتی اور حبش کے غلاموں کو آزادی کیسے ملتی… محبت نے اس دنیا پر جتنے احسان کیے ہیں آج تک اتنے انسان دنیا میں پیدا نہیں ہوئے لیکن اس محبت نے آج تک ایک بھی عورت کو بستے دیکھا ہے؟ کسی ایک عورت کی خوشنودی چاہی ہے…؟ عورت کرب کے مستقل سفر میں ہے، کرب جس کی کوکھ سے عشق جنم لیتا ہے اور مرد کو دیوتا کے سنگھاسن پر بٹھاکر اسے وصل یاب کرتا ہے۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر- محترمہ سائرہ ممتاز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.