96

دنیا کے ایک چوتھائی بڑے شہروں کو پانی کی کمی کا سامنا

رب کائنات کا کرہ ارض کو بے پناہ توان کا مقصد انسانی زندگیوں کو خطرات سے محفوظ رکھنا۔حکومتیں فضائی،سوتی،آبی،غذائی آلودگی کے مسئلہ پر باتیں بہت کی جاتی ہیں، عملی میدان میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

اللہ رب العزت نے کائناتِ کرہ ارض کے نظام کو بے پناہ توازن کے ساتھ اس لئے قائم کیا ہے تاکہ انسانی زندگی کو کسی طرح کا خطرہ لا حق نہ ہو۔ کائنات کی ہر چیز میں مکمل توازن ہے۔ سورج سیزمین کا فاصلہ اگر کمی بیشی کا شکار ہوتا تو روئے زمین پر زندگی کا تصور ممکن نہ ہوتا۔ زمین 24گھنٹوں میں اپنے محور کے گرد ایک چکر پورا کرتی ہے۔ اگر یہ وقت24 گھنٹوں کے بجائے 30ہوجائے تو اتنی تیز ہوائیں چلیں کہ لوگوں کو عذاب الٰہی کا خوف ہونے لگے۔

اسی طرح اگر یہ وقت گھٹ کر21 گھنٹے ہوجائے تو نباتات کے لئے خطرہ پیدا ہوجاتا۔ جس طرح کائنات کے سارے نظام میں حقیقی توازن ہے اس طرح ماحولیات میں بھی بھر پور توازن ملحوظ رکھا گیا ہے۔ ماحول اور آب و ہوا قدرت کے دو انمول تحفے ہیں۔ آلودگی سے پاک آب و ہوا اور صاف و شفاف ماحولیات اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔

حیرت ہے کہ جس آب و ہوا کی پاکیزگی اورماحول کی صفائی پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ حضرت انسان اس آب و ہوا اور ماحول کو آلودگی سے دوچار کرکے آفتوں کو دعوت دیتا ہے۔ اس وقت ماحولیاتی آلودگی ایک عالمگیر مسئلہ بن چکی ہے۔ آلودگی کے معاملہ کو لے کرساری دنیا پریشان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے مستقل ایجنڈے میں شامل ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی سنگینی کا اندازہ ان عالمی کانفرنسوں سے کیا جاسکتا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے زیر نگرانی ہوتی رہی ہیں۔

ہندوستان ہی بلکہ دنیاکے کئی ممالک میں آبی مسئلہ بنا ہوا ہے لوگ صاف ستھرا پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنوبی افریقہ کا شہر کیپ ٹاؤن دنیا کا پہلا بڑا شہر بن گیا ہے جہاں سے جدید دور میں پینے کے پانی کی کمی واقع ہو گئی ہے۔یہ وہ مسئلہ ہے جس کی طرف ماہرین ایک عرصے سے توجہ دلا رہے تھے۔بظاہر تو پانی دنیا کے 70 فیصد حصے پر پھیلا ہوا ہے، لیکن اس کا صرف تین فیصد ہی پینے کے قابل ہے جو آبادی بڑھنے، آلودگی اور دوسری وجوہات کی بنا پر ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔دنیا میں کم از کم ایک ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اور 2.7 ارب انسان ایسے ہیں جنھیں سال کے کم از کم ایک مہینے میں پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔2014 میں دنیا کے پانچ سو بڑے شہروں کا سروے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ہر چار میں سے ایک شہر ‘پانی کے دباؤ’ سے دوچار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ وہ صورتِ حال ہے جب پانی کی سالانہ مقدار 1700 مکعب میٹر (17 لاکھ لیٹر) فی کس سے کم ہو جائے۔

(W.H.O) عالمی صحت ادارہ واقوامِ متحدہ (U.N.O.) کی پیش گوئی کے مطابق 2030 کی دنیا میں تازہ پانی کی طلب 40% فیصد تک بڑھ جائے گی، جس کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور انسانی رویوں میں تبدیلی ہے۔اس تمام تر صورتِ حال میں کیپ ٹاؤن آئس برگ کی چوٹی کی مانند ہے جس کا صرف ایک حصہ پانی سے باہر اور نو حصے اندر ہوتے ہیں۔ذیل میں دنیا کے چھ ایسے اہم شہروں کی صورتِ حال بیان کی جا رہی ہے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ کیپ ٹاؤن کی طرح پانی کی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ہندوستان کے بنگلور شہر اور اطراف اکناف کے علاقوں کی جھیلیں بری طرح سے آلودہ ہو رہی ہیں۔۔بنگلوراس انڈین شہر کے ٹیکنالوجی کا مرکز بننے کے بعد وہاں کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جس کا اثر لامحالہ طور پر پانی کی فراہمی اور نکاسی کے نظام پر پڑا ہے۔مزید یہ کہ شہر میں پانی کی ترسیل کا نظام اس قدر خراب ہے کہ مقامی حکومت کے مطابق نصف صاف پانی ضائع ہو جاتا ہے۔صرف کرناٹک کے علاقہ ہی نہیں بلکہ آندھرا پردیش، مہاراشٹرا و تلنگانہ ۔اتر پردیش۔

جھارکھنڈ ۔اترا کھنڈ جیسے ریاستو ں میں عوام صاف سھرے پانی سے محروم ہیں عالمی صحت عامہ کے ادارہ کے مطابق ہندوستان میں قدرتی موت سے مرنے والوں کی تعداد کا تناسب بہت کم ہے۔ ہمارے ملک میں آلودہ پانی ،آلوادہ غذاؤں اور صاف ستھرا ماحول نہ ملنے کے سبب مرنے کی والوں کی تعداد تقریباً ساٹھ فیصد 60%ہے۔جو ایک لمحے فکر ہے۔آلودہ پانی غذاؤں کے استعمال سے مرنے والوں کی تعداد میں شب و روز اظافہ ہی ہوتے جارہا ہے۔ وہیں پر صفائی ستھرائی نہ ہونے کے سبب ہزارؤں کی تعداد میں افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر لقمہ اجل ہو رہے ہیں جو ہماری ملک کی حکومتوں کی کاکردگی پر سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں۔

بیجنگ کے گردونواح کو قحط سالی کا سامنا ہے ۔۔بیجنگ ورلڈ بینک نے پانی کی کمی کی تعریف متعین کر رکھی ہے، یعنی جب فی کس صاف پانی کی مقدار دس لاکھ لیٹر سالانہ سے کم ہو جائے۔2014 میں بیجنگ کے دو کروڑ سے زیادہ باسیوں کو صرف ایک لاکھ 45 ہزار لیٹر پانی سالانہ میسر تھا۔چین کو مجموعی طور پر بھی پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ وہاں دنیا کی کل آبادی کا 20 فیصد حصہ آباد ہے لیکن اس کے حصے میں صرف سات فیصد صاف پانی آیا ہے۔

آلودگی کا مسئلہ اس کے علاوہ ہے۔ 2015 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیجنگ کا 40 فیصد پانی اس قدر آلودہ ہے کہ پینا تو درکنار، زرعی اور صنعتی مقاصد کے لیے بھی کارآمد نہیں۔

مصر کا 97 فیصد تازہ پانی نیل سے آتا ہے۔۔قاہرہ۔۔قاہرہ شہر کے اندر سے بہنے والا دریائے نیل نے ویسے تو ہزاروں برس سے تہذیبوں کی آبیاری کی ہے، لیکن اب اس عظیم دریا کو شدید دباؤ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔نیل مصر کے صاف پانی کا 97 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، لیکن اب یہ رہائشی اور زرعی فضلے سے آلودہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق مصر میں آلودہ پانی سے متعلقہ بیماریوں سے بڑے پیمانے پر اموات ہو رہی ہیں، اور 2025 تک وہاں پانی کی شدید کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے۔

روس میں پانی کی بہتات ہے لیکن یہ پانی آلودہ ہوتا جا رہا ہے،،ماسکو۔۔روس میں مجموعی طور پر تازہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ پایا جاتا ہے، لیکن سوویت دور میں کی جانے والی زرعی توسیع کی وجہ سے اسے بھی آلودگی کا سامنا ہے۔ماسکو کا 70 فیصد پانی زمین کی سطح سے حاصل ہوتا ہے، جو زیادہ آسانی سے آلودہ ہو جاتا ہے۔مقامی ادارے تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کا 35 سے 60 فیصد پانی حفظانِ صحت کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔

استنبول کے قریب واقع ایک جھیل خشک ہو گئی ہے۔۔استنبول۔۔مقامی اعداد و شمار کے مطابق ترکی کو مجموعی طور پر پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ 2030 تک یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر لے گا۔حالیہ مہینوں میں ایک کروڑ 40 لاکھ آبادی والے استنبول میں خشک مہینوں میں پانی کمی ہو جاتی ہے۔ شہر میں پانی کے ذخیرے میں 30 فیصد کی کمی واقع ہو گئی ہے۔

لندن میں بڑے پیمانے پر پانی کا ضیاع ہوتا ہے۔۔لندن بہت سے لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ لندن میں بھی ۔۔پانی کی فراہمی دباؤ کا شکار ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وہاں بہت بارش ہوتی ہے، لیکن دراصل لندن میں بارش کی مقدار پیرس اور نیویارک کے مقابلے پر کم ہے اور یہاں کا 80 فیصد پانی دریاؤں سے آتا ہے۔گریٹر لنڈن اتھارٹی کے مطابق 2025 تک شہر میں پانی کم پڑنا شروع ہو جائے گا اور یہ مسئلہ 2040 تک ’سنگین شکل‘ اختیار کر لے گا۔لگتا ہے کہ لندن میں جلد ہی ربڑ کے پائپوں کے استعمال پر پابندی لگنے والی ہے۔
ترکی ۔استنبول شہر میں۔۔۔مقامی اعداد و شمار کے مطابق ترکی کو مجموعی طور پر پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ 2030 تک یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر لے گا۔حالیہ مہینوں میں ایک کروڑ 40 لاکھ آبادی والے استنبول میں خشک مہینوں میں پانی کمی ہو جاتی ہے۔ شہر میں پانی کے ذخیرے میں 30 فیصد کی کمی واقع ہو گئی ہے۔

دنیا بھر میں 66 کروڑ افراد پینے کے صاف پانی سے محروم۔۔۔۔
پینے کے صاف پانی سے محروم افراد کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔۔۔انڈیا میں دیہی علاقوں میں بسنے والے ایسے افراد کی تعداد دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ ہے جنہیں صاف پانی میسر نہیں ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے یہ صورت حال مزید سنگین ہوتی چلی جا رہی ہے۔واٹر ایڈ نامی ایک غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق چھ کروڑ تیس لاکھ دیہاتیوں کو، جو کہ برطانیہ کی مجموعی آبادی سے زیادہ تعداد ہے، پینے اور روزمرہ کے استعمال کے لیے صاف پانی میسر نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی، انفراسٹرچکر کی عدم دستیابی اور دشوار گزار علاقوں میں آبادی ہے۔

واٹر ایڈ رپورٹ نے مزید کہا ہے کہ چین دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں چار کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کو صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ اس کے بعد تیسرے نمبر پر افریقی ملک اتھوپیا اور نائجیریا ہے جہاں چار کروڑ لوگ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔واٹر ایڈ کی بائیس مارچ کو ورلڈ واٹر ڈے سے ایک دن قبل جاری کی گئی ہے۔واٹر ایڈ انڈیا کے سربراہ وی کے مدہاون نے کہا ہے کہ جو لوگوں کو پانی کی سہولت میسر نہیں ہے ان میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو دیہات میں بستے ہیں اور کسی بھی بڑی ماحولیاتی تبدیلی سے ان لوگوں کی حالتِ زار مزید ابتر ہو جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ بھارت کی 35 میں سے 27 ریاستیں ایسی ہیں جو قدرتی آفات کی زد میں آ سکتی ہیں اور ان میں ایسی ریاستیں جو پسماندہ اور غریب ہیں وہ ماحولیاتی تبدیلی یا شدید موسمی حالت میں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔دنیا بھر میں 66 کروڑ 30 لاکھ افراد ایسے ہیں جو صاف پانی سے محروم ہیں اور ان میں اسی فیصد یعنی 52 کروڑ 20 لاکھ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ان میں سے اکثریت ایسے ملکوں میں بستی ہے جنہیں پہلے ہی شدید موسمی حالات مثلاً سمندری طوفانوں، سیلابوں اور خشک سالی کا سامنا رہتا ہے۔ماحولیاتی تبدیلیوں سے متوقع شدید موسمی حالات کی صورت میں ان افراد کے لیے مشکلات میں کئی گناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیضہ، ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں کے زیادہ پھیلنے کے خطرات بڑھ جائیں گے اور زیادہ لوگ خوراک کی کمی کا شکار ہوں گے۔

مارہین کے مطابق ملک میں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ کسانوں کو خوراک پیدا کرنے اور مال مویشیوں کو پالنے میں مزید مشکلات پیش آئیں گی۔
پانی کا مسئلہ ان ملکوں میں زیادہ شدت اختیار کرتا جا رہا جنہیں ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے
بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت کا شمار ان ملکوں میں بھی ہوتا ہے جن کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔صاف پانی کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن ہندوستان میں کئی سالوں سے بہت سے لوگ اس حق سے محروم ہیں۔ ملک بھر میں مضر صحت پانی کی بڑھتی ہوئی شکایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کو پینے کے لیے صاف پانی مہیا نہیں۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے لئے جہاں پانی کا ایک ایک قطرہ احتیاط و کفایت سے خرچ کرنے پر زور دیا جا رہا ہے وہاں بارش اور سیلاب کے پانی کو حفظان صحت کے تقاضوں کے مطابق ذخیرہ کرنے کی تدابیر بھی کی جا رہی ہیں مگر ہمارے ہاں دریاؤں،، جھیلوں، یہاں تک کہ ساحل سمندر کو بھی صنعتوں کے ضائع کردہ مضر صحت مادوں کا مسکن بنا دیا گیا ہے اور آبی مخلوقات کو مرنے یا نقل مکانی پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ مگر ہماری ملک کی حکومتیں انتخابات کے موقعوں پر عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے وعدے کرتی ہے مگر جب وہ اقتدار میں آجاتی ہیں تو سوائے اپنی ذات کے علاوہ انہیں کسی فکر نہیں ہوتیں ۔۔وی آئی پی۔ V.I.Pسہولتیات سے مکمل استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ اور عوام کو آلودی پانی ۔

گندی بستیوں میں رہنے پر مجبور کردیتے ہیں۔یہ بڑی بڑی بلٹ پروف کارؤں میں گھومنے بیرونی ممالک کے دورے کرنے سے فرست نہیں ملگی ہر روز اپنے مفاد کے پروگرام اور منصوبہ تیار کرتے ہوئے عوامی خزانوں کو لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہتے ہیں۔اپنے مالی مفادات کی اپنے اعلیٰ خرچ اعلیٰ طرزِ زندگی میں مصروف رہتے ہیں عوام کے ساتھ کئے جانے والے وعدوں کی انہیں ذرہ براربر بھی فکر نہیں ہوتی۔۔یہ قیادت کہاں دستور میں دئے گئے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کو کر پائینگے۔

ضرورت اس بات کی ھیکہ عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے سیاسی شعور کو بیدار کریں اور انتخابات کے وقت لالچی نا اہل قیادت کا انتخابات کرنے کے بجائے تعلیم یافتہ بے داغ عوامی قیادت کا انتخاب کرتے ہوئے ملک کو ترقی کی سمت گامزن کریں۔ ووٹ ہماری اس ملک کی بہت بڑی جمہوری طاقت ہے اس کے صحیح استعمال سے ہم اچھی حکومت کی توقعات وابستہ رکھ سکتے ہیں۔ موجودہ حکومتوں کو چاہئے کہ پانی کے موثر ذخائر بنانے سے لے کر دریاؤں، نہروں، جھیلوں اور سمندری پانی کو آلودگی سے بچانے کے لئے اقدامات کرے۔ تاکہ ہر روز آلوادہ پانی کے استعمال سے مرنے والوں کی تعداد میں کمی کیجاکر عوام کو صاف اور ستھرے نظام کے ساتھ محفوظ پینے کے پانی کو سربراہی کو یقینی بنا یا جائے۔۔۔۔آلودگی کے حوالے سے جہاں تک اسلامی نقطہ نظر کی بات ہے کہ وہ بالکل واضح ہے۔

اسلام پاک مذہب ہے پاکی کو آدھا ایمان قرار دیتا ہے۔ احادیث میں گھروں کے صحنوں کو تک پاک صاف رکھنے کی تاکید ہے۔ آبی ذخیروں میں نجاست کرکے انہیں آلودہ کرنے سے روکا گیا ہے۔ اسلام میں شجر کاری کی ترغیب دی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے ’’جو کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیتی کرتا ہے اور اس سے کوئی انسان ، پرندہ یا جانور کھاتا ہے تو یہ لگانے والے کے لئے حصہ ہے۔‘‘

(بخاری) معروف امام اوزاعی کا قول ہے کہ درختوں کا کاٹناگناہ عظیم ہے کیونکہ حضرت صدیق اکبر نے کسی درخت کو کاٹنے خصوصاً پھلدار اور کسی عمارت کو برباد کرنے سے منع فرمایاکہ آپ کے بعد مسلمانوں نے اس پر عمل کیا ( سنن ترمذی) قرآن مجید صاف کہتا ہے کہ خشکی و تری میں فساد و بگاڑ دراصل انسانی کرتوتوں کی وجہ سے آتا ہے۔

قرآن ، زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتا ہے۔ اسلام ہر اس حرکت سے روکتا ہے جس سے صحت انسانی کو خطرات لاحق ہوتے ہوں۔ ایک مسلمان شہری کو آلودگی کے حوالہ سے حساس ہونا چاہئے۔

عالمی سطح پر آلودگی کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے عالمی طاقتوں کو مضر گیسوں کے اخراج میں کمی لانا چاہئے ، نیز جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہئے۔

شجرکاری اور نباتات کی افزائش پر خصوصی توجہ دی جائے، آبی ذخائر کو آلودہ کرنے سے گریز کیا جائے۔

*** ہندوستان کے لئے یہ بات کس قدر تشویشناک ہیکہ آلودگی کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات یہیں ہوئیں۔ صرف ایک سال 2015ء میں52 لاکھ لوگ آلودگی کی بھینٹ چڑھ گئے۔آلودگی سے متعلق برطانوی طبی جریدے کی حالیہ رپورٹ ہندوستان کے لے انتباہ ہے۔ ہندوستان آلودگی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔

آلودگی سے متعلق تازہ رپورٹ بھی اس وقت سامنے آئی جب ملک میں دیوالی کا تہوار منایا جانے والا تھا۔ ماحولیاتی آلودگی کے پیشِ نظر سپریم کورٹ نے پٹاخوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کے باوجود دہلی اور ملک بھر میں پٹاخے پھوڑنے میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ وہیں پر فضائی،سوتی،آبی،غذائی آلودگی کے مسئلہ پر باتیں بہت کی جاتی ہیں، عملی میدان میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی۔

گزشتہ دیوالی کو سب سے پہلے پٹاخے چھوڑنے سے دہلی کی آلودگی میں ۹ فیصد کا اضافہ ہوگیا تھا جوکہ دیوالی کی رات ۲۱?فیصدکو متجاوز کر گیا۔ آلودگی کے معاملہ میں حکومت کی سردمہری افسوسناک ہے۔ انتظامیہ پرانی گاڑیوں کو ہٹانے سے پس و پیش کرتا ہے۔ پولیوشن کنٹرول کے نام پر بنائے گئے دفاتر کا حال یہ ہے کہ شکایت درج کرنے کے لئے عہدیدار تک نہیں ملتے۔اثر و رسوخ رکھنے والی فیکٹریوں کے مالکوں کے خلاف حکومت کچھ کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ ندیوں کی صفائی پر اربوں روپئے بہائے گئے، مگر گندگی میں کمی نہیں آئی۔ سوچھ بھارت کا نعرہ لگاکر کچھ علامتی کام کرلینے سے آلودگی سے نجات ممکن نہیں۔ آلودگی سے متعلق عوامی شعور کی بیداری بھی ضروری ہے۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم رؤف اعظمی،جرنلسٹ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.