149

رئیل اسٹیٹ کا کاروبار اور اس کے معاشی اثرات‌ !

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس، اسلام آباد جدید معاشیات کی تاریخ اقتصادی بحرانوں سے بھری پڑی ہے، اگر آپ ویکیپیڈیا پر اقتصادی بحرانوں کی تاریخ ملاحظہ فرمائیں تو کوئی ڈیرھ سو کے قریب بڑے بڑے اقتصادی بحران ایسے ملتے ہیں جنہوں نے اقوام عالم کو ہلا کر رکھ دیا، کئی ایک بحران ایسے ہیں جن کی لپیٹ میں ایک آدھ ملک نہیں آیا، بلکہ بیسیوں ملک متاثر ہوئے۔ ہر بحران کے بعد اقتصادی ماہرین کی ٹیمیں سر جوڑ کر بیٹھتی ہیں اور بحران کے اسباب کی چھان بین کرتی ہیں۔ اگر آپ ان اسباب کا مطالعہ کریں تو آپ کومعلوم ہوگا کہ پراپرٹی یا رئیل اسٹیٹ کا کاروبارتقریبا ہرتیسرے بحران کے اسباب میں شامل ہے، شاید یہ وہ واحد عامل ہے جسے سب سے زیادہ بحرانوں کی وجہ گردانا گیا۔ 1929 کا عالمی اقتصادی بحران ہو یا 1990 کا مشرق بعید کا بحران یا 2008 کا عالمی اقتصادی بحران یا دبئی اور مشرق وسطی کا بحران، ان کی ایک سے زیادہ وجوہات آپ کو تلاش کرنے پر مل جائیں گی۔ لیکن وہ وجہ جو ان سب میں مشترک ہے، وہ ہے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار۔

اگر رئیل اسٹیٹ کاکاروبار بحرانوں کا سبب بنتا ہے تو معاشی استحکام سے متعلقہ کورسز میں سب سے پہلا کورس رئیل اسٹیٹ سے متعلق ہونا چاہئے، کیونکہ اس کو غلط طرح سے ہینڈل کرنا بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن اقتصاد کے طالبعلم جانتے ہیں، اس نام کا کوئی کورس معاشیات کے مقبول عام سلیبس کا حصہ نہیں۔اور معاشیات کا عام طالب علم بغیر رئیل اسٹیٹ پڑھے گریجوایشن کر لیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ رئیل اسٹیٹ پر ریسرچ نہیں ہورہی، بلکہ عالمی سطح پر کئی یونیورسٹیاں رئیل اسٹیٹ میں ماسٹر ڈگری آفر کرتی ہیں۔ کئی ریسرچ جرنل صرف رئیل اسٹیٹ پر تحقیق کیلئے مختص ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ ساری تحقیق رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے متعلقہ ہے تاکہ سرمایہ کار کو یہ بتایا جاسکے کہ کتنی رقم کونسی زمین میں انویسٹ کرنی ہے تاکہ منافع زیادہ سے زیادہ کمایا جاسکے۔ رئیل اسٹیٹ اور اقتصادی بحران کے باہمی تعلق اور رئیل اسٹیٹ کے عام زندگی پر اثرات پر بحث اقتصادی ماہرین کے ہاں نہ ہونے کے برابر ہے۔

رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کے کچھ بہت ہی سادہ اور عام فہم سے اقتصادی پہلو بھی ہیں، جنہیں سمجھنے کیلئے ماہر معاشیات ہونا ضروری نہیں، لیکن یہ پہلو بھی ماہرین معاشیات کی نظروں سے ایسے ہی اوجھل ہیں، جیسے کسی کے اپنے چہرے پہ لگا داغ۔ مثلا، عئیل اسٹیٹ کے ملازمت شکن اثرات۔ فرض کریں میرے پاس ۱۰ کروڑ کی رقم قابل استعمال ہے اور میں اس سے کوئی کاروبار کرنا چاہتا ہوں، میں اس سرمایہ کو کسی صنعت یا زراعت میں صرف کروں تو مجھے اتنے بڑے کاروبار کو چلانے کیلئے بیسیوں یا شاید سیکڑوں ملازمین رکھنے پڑیں ، اس طرح روزگار کے بہت سے مواقع پیدا ہونگے۔اس کاروبار سے مجھے نفع بعد میں حاصل ہوگا، پہلے میں نے بیسیوں لوگوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ میرا کاروبار متعدد گھروں کا چولھا جلانے کا سبب بن جائے گا۔ لیکن اگر میں یہی سرمایہ پلاٹ خریدنے پہ صرف کروں تو عین ممکن ہے کہ مجھے کچھ عرصہ بعد اتنا نفع مل جائے جو میرے لئے زراعت سے ممکن نہ تھا، لیکن مجھے اس کاروبار پر کسی ایک کو بھی ملازم رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس طرح میرا یہ منافع روزگار کے سیکڑوں مواقع کو ختم کرکے حاصل ہوا۔

پراپرٹی کے کاروبار میں لگایا گیا سرمایہ کتنا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ 2010کے اعدادوشمار کے مطابق بحریہ ٹاؤن اسلام آباد کا رقبہ 55000ایکڑ تھا۔ اگر اس رقبہ میں سے پارک اور سڑکیں وغیرہ نکال دئے جائیں اور صرف 40فیصد رقبہ کوقابل فروخت تصور کیا جائے تو قابل فروخت رقبہ تقریبا ایک لاکھ 76 ہزار کنال بنتا ہے، جس کو بحریہ ٹاؤن کی کم از کم قیمت یعنی ایک کروڑ فی کنال کے حساب سے ضرب دی جائے تو کم ازکم 1760 ارب روپے کی رقم بنتی ہے۔ یہ رقم پاک فوج کی تنخواہوں کے سالنہ بجٹ سے تقریبا 500 فیصد زیادہ ہے۔ یعنی اگر اتنی رقم سے پاکستان فوج کی تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے تو تقریبا 6 سال کی تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہے۔ اگر بحریہ ٹاؤن میں 2010کے بعد ہونے والی ترقی کو شامل کیا جائے، اور بحریہ ٹاؤن کے کراچی، لاہور، نواب شاہ اور دیگر شہروں کے پروجیکٹ بھی ساتھ شامل کئے جائیں تو حساب کہاں پہنچے گا؟ اگر بحریہ ٹاؤن میں ہونے والی تعمیرات کی قیمت کو بھی شمار کیا جائے تو بحریہ ٹاؤن کی کل مالیت کتنی بنے گی؟ اگر ملک صاحب اس بات پر خوش ہوں کہ انہوں نے 25000 یا ایک لاکھ لوگوں کو اپنے پروجیکٹ میں ملازمت دے رکھی ہے تو انہوں نے کون سا کمال کر دیا۔ میرے خیال میں بحریہ ٹاؤن میں لگایا گیا مجموعی سرمایہ اس رقم سے کہیں زیادہ ہوگا، جتنی پاکستان کے ہر نوجوان کو سالانہ تنخواہ دینے کیلئے درکار ہوگی۔

قارئین سے التماس ہے، اپنے قریبی رشتہ داروں کی فہرست پر نظر دوڑائیں، ان میں سے کتنے لوگ ہیں، جنہوں نے پلاٹوں میں ’’سرمایہ کاری‘‘ کر رکھی ہے، اور اگر یہ سرمایہ کاری پلاٹ کی بجائے زراعت میں کی ہوتی تو کتنے لوگوں کیلئے روزگار کا حصول ممکن تھا۔ مجھے یقین ہے آپ کے اس غور و فکر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ زیادہ تر برادری و قبیلے کے لوگوں کی رئیل اسٹیٹ میں کی گئی سرمایہ کاری، اس خاندان کے تمام بیروزگاروں کو روزگار دینے کیلئے کافی ہے۔ بدقسمتی سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں اس طرح کا معاشی نظام ترتیب دے دیا گیا ہے جو رئیل اسٹیٹ کو پرکشش ترین کاروبار بناتا ہے۔ اور وسیع پیمانے پر ملازمت کے مواقع مہیا کرنے والے تمام کاروباروں کو رئیل اسٹیٹ کی نسبت بہت کم سہولیات میسر ہیں۔ جس ملک میں 32 لاکھ لوگ بیروزگار پھر رہے ہوں، اور آئندہ دس سال میں مزید چار کروڑ لوگ روزگار کے متوقع امیدوار ہوں، تو کیا اس قوم کیلئے یہ مناسب ہے کہ اپنا سرمایہ لاکھوں پلاٹوں میں لگائے جن میں سے ہر پلاٹ کی قیمت کروڑوں میں ہو؟

میرے نزدیک یہی کاروبار وہ نحوست ہے جو اس ملک میں بیروزگاری، معاشی عدم مساوات اور صنعتی شعبہ کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ میرے نزدیک جتنا نقصان اس ملک کو کرپشن نے پہنچایا ہے، وہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے پہنچے والے نقصان کا 2 فیصد بھی نہیں یہاں بعض احباب میری گذارشات کو یہ کہہ کر رد کریں گے کہ تعمیرات بھی رئیل اسٹیٹ کا حصہ ہیں، اور تعمیرات کی بدولت 40صنعتیں ترقی کرتی ہیں۔ مجھے اس بات سے اتفاق ہیکہ تعمیرات سے روزگار کے مواقع مہیا ہوتے ہیں، لیکن اگر آپ بیجا تعمیرات کی بجائے کسی دیگر کاروبار میں سرمایہ کاری کریں تب بھی بہت ساری صنعتوں اور کاروبار کو بالواسطہ فائدہ ہوتا ہے۔ مثلا اگر آپ آلو کاشت کریں تو اس سے آپ کا اپنا کاروبار تو چلے گا ہی، اس کے ساتھ پکوڑے، سموسے، چپس، کوکنگ آئل، بیسن، وغیرہ سبھی کے کاروبار کو فائدہ ہوگا۔جبکہ تعمیرات سے اتفق فاؤنڈری کو فائدہ ہوگا۔ اور ہمیں گراس روٹ لیول کے فائدے کے بارے میں زیادہ دلچسپی ہونی چاہئے ناکہ اتفاق فاؤنڈری کے فائدے کی۔ تو اس چیز کو رئیل اسٹیٹ کی حمایت کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا کہ تعمیراتی شعبہ سے کئی صنعتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ کسی بھی قسم کا کاروبار کئی دوسری صنعتوں کو سپورٹ کرتا ہے۔ میرے نزدیک تعمیرات ضرور ہانی چاہییں لیکن ایسا نہ ہو کہ تعمیرات سرمایہ کو ایک ہی اندھے غار میں منتقل کرنے کا سبب بنتی جائیں۔ ایک فرد کی ملکیتی تعمیرات پر کوئی نہ کوئی حد مقرر ہونی چاہئے۔

تعمیرات کی حد تک میری رائے سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے، لیکن اگر تعمیرات کی بجائے بات صرف پلاٹ کی خرید و فروخت تک محدود ہوتومیرے خیال میں تمام قارئین اس بات سے اتفاق کریں گے کہ بلاضرورت صرف سرمایہ کاری کی غرض سے پلاٹ خریدنا، کاروبار کے سیکڑوں مواقع کے قتل کے مترادف ہے۔ اگر کوئی فرد درجنوں پلاٹ اس حوالے سے خرید کر ذخیرہ کرتا ہیکہ وہ مستقبل میں فروخت کرکے کروڑوں کمائے گا، تو اس نے سیکڑوں ہموطنوں کے روزگار کے مواقع کا قتل عام کیا، اور وہ اس ملک کے بگاڑ میں برابر کا شریک ہے۔

آخر میں میں ایک حدیث مبارکہ سے اختتام کرتا ہوں؛ حدثنا نصر بن على الجهضمي حدثنا أبو أحمد حدثنا إسرائيل عن على بن سالم بن ثوبان عن على بن زيد بن جدعان عن سعيد بن المسيب عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الجالب مرزوق والمحتكر ملعون ). ترجہ: سیدنا عمر ابن الخطاب سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا، کاروباری کو رزق دیا جائے گا، جبکہ ذخیرہ اندوز لعنتی ہے۔ذخیرہ اندوزی سے مراد اشد ضرورت کی اشیاء کو اس غرض سے ذخیرہ کرنا کہ ان کی قیمت بڑھے تو ان کو فروخت کیا جائے گا۔ میرے نزدیک مکان ہر فرد کی بنیادی ضرورت ہے اور لاکھوں بے گھر افراد کی موجودگی میں پلاٹ محض اس غرض سے خرید کر ذخیرہ کرنا کے ان کی قیمت بڑھ جائے، احتکار یا زخیرہ اندوزی کی زمرے میں آتا ہے۔

نوٹ: اس مضمون میں بہت ساری باتیں میری اپنی رائے پر مبنی ہیں، جن کا درست نہ ہونا بھی ممکن ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ میں کسی مقام پر غلط ہوں تو برائےمہربانی دلیل کے ساتھ واضح فرمائیں۔ راقم اپنی غلطی کی درستگی میں فخر محسوس کرتا ہے۔

(تحریر ڈاکٹر عتیق الرحمن)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.