141

زوال پذیرمعاشرتی قدروں کا ذمہ دار کون؟ والدین، اساتذہ یا ہمارا تعلیمی نظام ؟

مسلم معاشرہ مثالی معاشرہ تصور کیا جاتا ہے؛ جس کے کئی اسباب ہیں۔ رسول کریم ﷺ کی آمد سے قبل انسانی اقدار زوال پذیر تھیں۔ ظلم و جور کا دور دورہ تھا۔ معاشرتی اعتدال،توازن، انصاف و دیانت اور مروت کے معاملات مفقود تھے۔رسول کریم ﷺ نے ان ناہمواریوں کا علاج فرمایا۔ برائیاں دور کیں۔ دیانت و انصاف قائم فرمایا۔ معاشرے میں منصفانہ قدریں قائم کیں۔ علم عطا فرمایا۔ علم کا معیار عنایت کیا جس میں اخلاقی اقدار کا مکمل خیال رکھا گیا۔ علم کو وجہ طمانیت و سکونِ انسانیت بنایا۔ علم کے ساتھ تربیت بھی کی جس سے فیضانِ علم عام ہوا۔ اور غیر انسانی رویوں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ فوز و فلاح اور اخوت و محبت کے معاملات پروان چڑھے۔

اِس وقت دُنیا نت نئے مسائل سے دوچار ہے۔ ہر روز تکالیف، درد، کلفت،رنج، مصیبت، غربت، افلاس، اخلاقی تنزلی، فکری منافرت، حسد، کینہ، بغض، جھوٹ، فساد، چوری، ڈاکہ، سینہ زوری، عداوت کا ماحول ہے۔ ان ساری برائیوں کے ذمہ دار کون ہیں؟ اس کے اسباب و محرکات کیا ہیں، ان کے پرورش پانے کے عوامل کیا ہیں؟حضور تاج الشریعہ فرماتے ہیں ؂
ہر روز نت نئی اُلجھن
اُف غمِ روزگار کا عالَم
تربیت کے اولین نقوش: معاشرے کے تنزل کا ایک سبب تربیتی معاملات سے بے توجہی ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ جب تک سکھایا نہ جائے تو ہنر نہیں آتا۔ اسی طرح اگر گھر کا ماحول اچھا بھی ہو تب بھی نئی پود کو اچھی تربیت کی ضرورت موجود ہے۔ کیوں کہ بغیر تدبیر کے جوہر نہیں کھلتا اور بغیر تربیت کے جوہر کا استعمال نہیں ہو سکتا۔اولین تربیت گاہ کا اعزاز گھر ہی کو حاصل ہے۔ اسکول کا نمبر بہت بعد کا ہے۔ معاشرے میں گھر کے ابتدائی کردار کوجب سے فراموش کر دیا گیا ؛ اخلاقی قدریں زوال پذیر ہوتی چلی گئیں۔ اسکولی تربیت پر انحصار خام خیالی ہے۔ گھریلو ماحول میں ذہن وفکر پر جو تربیتی نقوش ثبت ہوتے ہیں؛ ان کے عمدہ اثرات اسکولی ماحول میں ہویدا ہوتے ہیں۔ اسی لیے پہلا مکتب یا اولین درس گاہ ماں کی آغوش کو قرار دیا گیا ہے۔

اخلاقی انحطاط: اسلام مخالف قوتوں نے اسلامی نظام اخلاق کی خوبیوں کے زیر اثر اسلامی کارواں کو مسکنِ کفر کے سِرے پر لنگر انداز دیکھا، پھر کفر کے ایوان کو مٹتا دیکھا۔ پھر ایمان سے دلوں کو نور نور پایا۔

اس طرح انھوں نے جان لیا کہ اگر اخلاق و علم کا چولی دامن کا ساتھ رہا تو تعلیمی نظام میں نتائج ایمان افروز اور اسلامی احکام کے پابند ظاہر ہوں گے؛ اسی لیے نظام تعلیم میں اخلاقی گراوٹ قصداً لا کر اسلامی اثرات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ جس کا اثر معاشرے پر تو منفی ہوا ہی، ملکی تعمیر میں بھی اسی کے نتیجے میں تعمیری سوچ و فکر کے حامل افراد کی جگہ تخریبی عناصر بڑھتے گئے؛ جس سے ترقی کا گراف گھٹتا گیا؛ کرپشن، بے ایمانی، لوٹ کھسوٹ اور دھوکے کو راہ ملی۔

جب کہ اس خلا کا خاتمہ صرف اسلامی نظام اخلاق سے کیا جا سکتا ہے؛ جس کے لیے اربابِ علم کوچاہیے کہ اخلاقی خوبیوں کی شمولیت سے نظام کی درستی کریں تا کہ درمیانی خلا پُر ہو۔ اور اہلِ کلیسا کے نظام کی بالادستی ختم ہو، اقبال ؔ نے کہا تھا ؂
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظام تعلیم
اِک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
اساتذہ میں اخلاص کی ضرورت:اساتذہ کا حلقہ قومی تعمیر کے جذبات رکھتا ہے؛ لیکن اب بھی ان کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو معیار کو فروگذاشت کر دیتی ہے؛ نصابی مواد میں خرابیوں اور خوبیوں کی نشاندہی اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ مغربی دھارے نے پہلے ہی اخلاقی بے راہ روی کو راہ دی ہے۔ ایسے میں نصابی سرگرمیوں میں مضرات کی نشاندہی اور خوبیوں کی افادیت اجاگر کرنا اساتذہ کی ہی ذمہ داری ہے۔ جسم میں جو رتبہ دل کا ہے۔ وہی رتبہ تعلیمی سسٹم میں استاذ کا ہے۔ اسی کے احکام سے نظام کا ڈھانچہ متحرک رہتا ہے۔ اسی کی بیداری سے تعلیمی سرگرمیاں مثبت سمت رواں دواں رہتی ہیں۔

اس لیے موجودہ مادی ماحول میں اساتذہ کو تنخواہ کے معاملات سے پرے اخلاص کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ طلبہ کی رہنمائی کے لیے اپنے قیمتی وقت کی قربانی ضرور دینی چاہیے۔اس کے لیے تجارتی ذہنیت نہیں مخلصانہ فکر کی ضرورت ہے جس پر امید ہے کہ اساتذہ توجہ دیں گے؛ گرچہ بعض اساتذہ اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں کے استعمال میں مخلص ہیں۔ لیکن ان کی تعمیری سوچ کاش اجتماعی بن جائے تو تعلیم کا ایک ستون استاذ بڑا مضبوط اور آئیڈیل ثابت ہوگا۔

حلال کی طرف رجوع: ہمارے موضوع سے نظام رزق کا معاملہ میل نہیں کھاتا؛ لیکن یاد رکھئے؛ رزق کے اثرات پورے معاشرتی ڈھانچے پر پڑتے ہیں۔ رزق حلال برکت لاتا ہے۔ حرام؛ محزبِ اخلاق معاملات کو فروغ دیتا ہے۔ اس لیے تربیتی عناصر میں اول باطن کی اصلاح کی جائے جس کے لیے لامحالہ رزق حلال کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ یہ پہلو سلامت تو بقیہ پہلو بھی بحسن و خوبی طے ہوں گے۔ آیاتِ کریمہ میں رزق حلال کی خوبیاں بیان ہوئیں اور حرام سے اجتناب کی تعلیم دی گئی۔ اس لیے اخلاقی درس گاہ کا پہلا سبق حلال کی طرف رجوع ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ انھیں چند پہلوؤں کا لحاظ رکھ لیا گیا تو معاشرتی اصلاح کے کئی پہلو مکمل ہو جائیں گے؛ اخلاقی خوبیاں دلوں کو متاثر کریں گی۔ اورانھیں کے سہارے ہمارا پورا تعلیمی ڈھانچہ سنورتا چلا جائے گا۔ ضرورت ہے کہ جہاں ہم رزق کا معاملہ محتاط رکھیں؛ وہیں اخلاقی خوبیاں بھی بڑھائیں۔ والدین اپنے کردار کی اہمیت سمجھیں؛ گھر کو ایک تربیت گاہ جانیں؛ اساتذہ قومی تعمیر کے ساتھ اخلاقی خوبیوں کی ترویج کریں۔ ہر فرد جہاں ہے وہیں وہ داعی ہے؛ اس کی دعوت تربیتی جہت سے موثر ہو گی اگر وہ کام کو اہمیت دے تو کئی پیچیدہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ اور ماحول سازی میں بھی تیزی سے ترقی سامنے آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ہر فرد کو اپنے کام کی قدر دانی کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!

(تحریر غلام مصطفی رضوی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.