116

سیاسی وسماجی زوال

آج دنیا میں جو حالت انسانوں نے اپنی کرلی ہے اس کے وہ خود ذمہ دار ہے، نہ ملک کے قانون کا کچھ خیال رہ گیا ہے اور نہ روداری کے کوئی معنی رہ گئے ہیں، اوپر سے لے کر نیچے تک پورا سسٹم کرپٹ ہوچکا ہے، ذہن پراگندہ ہوگئے ہیں، حس واحساس ختم ہوگیا ہے۔

ہاں اس گئے گزرے دور میں بھی کچھ رب کو ماننے والے اور اس کا خوف اپنے دل میں رکھنے والے ہیں جو اصولوں اور ضابطوں کا پاس ولحاظ رکھتے ہیں، ورنہ تو ملک کا وزیر اعظم ہو یا وزیر اعلیٰ یاچھوٹے بڑے سیاسی وسماجی لیڈران سب حمام میں ننگے نظر آتے ہیں، الیکشن کے دور میں سب ایک جیسے ہوجاتے ہیں، جس کے من میں جو کچھ آتا ہے وہ بولتا ہے۔

ملک کی وزارتِ عظمی کا عہدہ ایسا مقدس عہدہ ہے جس کا ملک کے ہر فرد کو پاس ولحاظ رکھنا چاہے اور اس کے تئیں سب کے دلوں میں ہمدردی رہنی چاہیے اور ملک کے وزیر اعظم کو بھی پوری عوام کو اپنا سمجھنا چاہیے، ان کے حقوق کا جو ان کو قانون نے عطا کئے ان کا محافظ بننا چاہیے لیکن وہ بھی اپنے کام میں منافق ثابت ہوتا ہے اور اس کے رد عمل میں عوام بھی کہنے میں کسر نہیں چھوڑتی۔

مجھے نہیں معلوم ملک کا قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے، لیکن مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے اس بات پر کہ جب ایک فرد کو ملک کی اکثریت نے چن کر ملک کی ایک بڑی عزت کی کرسی پر بٹھادیا، تو اس کے لیے کیسے جائز ہے کہ جب ملک کے کسی صوبے میں الیکشن ہو تو وہ اس میں شمولیت اختیار کرے، اور عوام کو مخاطب کرکے ایسی بات کہے تو اس عہدہ کے وقار کے خلاف ہے، ملک کا وزیر اعظم ایسے فرد پر تبصرہ کرے جو کسی دوسری جمہوری پارٹی سے تعلق رکھتا ہے، جو یقیناًموجودہ وقت میں اس کے ہم پلہ نہیں ہے، وزیر اعظم پورے ملک کی عزت ہوتا ہے، ہرفرد کی عزت وذلت اس سے جڑی ہوئی ہے، دنیا کے کسی کونہ میں اگر وزیر اعظم کی خفت ہوتی ہے تو اس کا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک کا وزیر اعظم بننے کے بعد اب وہ کسی سیاسی اجلاس میں شریک نہ ہوتا، وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو،لیکن وزیر اعظم بن جانے کے بعد اب اس کا تعلق اپنی پارٹی سے کم اور ملک کی عوام سے زیادہ ہو۔وزیر اعظم کا کام تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ:وہ اپنے عہدہ پر بنے رہتے ہوے ملک کے قانون کو صحیح طور پر ملک میں نافذ کرتا اور سب کو ایک نظر سے دیکھتا ، کون کس کا ووٹر ہے یہ بات الیکشن کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے لیکن جب الیکشن اپنے اختتام کو پہنچ گیا اور عوام نے کسی ایک فرد کے حق میں فیصلہ کردیا تو اب وہ صرف اس عوام کا وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ، ممبرپارلیامینٹ، ممبر اسمبلی یادیگر عہدے دار نہیں رہ گیا ہے بلکہ پوری عوام سے ان کا گہرا ، حاکمانہ ، ومشفقانہ تعلق ہوگیا ہے، وہ اگر کسی کے حق میں ناانصافی کرتاہے تو آج نہیں تو کل وہ اپنے کیے کی سزا ضرور بھگتے گا، لیکن پوری دنیا میں اور خاص طور سے ہمارے ملک میں سیاسی پارٹیوں میں ایسا اخلاقی زوال آیا ہے جس کو دیکھ کر ایک سنجیدہ انسان اچنبھے میں پڑ جاتا ہے، اور وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں، جن کے پاس اخلاق نام کی کوئی چیز ہی نہیں رہ گئی ہے، مذہب کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ دوسرے کی عزت کو اپنی عزت مانا جائے اس کے عصمت وعفت کا خیال رکھا جائے، اس کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آیا جائے، آخری دور کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک مرد کو اپنی بیوی کو مارتے ہوے دیکھا تھا تو فرمایا تھا کہ: کیسے لوگ ہیں کہ صبح میں اپنی بیوی کو مارتے اور پیٹتے ہیں اور شام کو اسی سے حاجت پوری کرنا چاہتے ہیں، مطلب صاف ہے کہ ابھی تو اسٹیج پر پارٹی کو کوس رہے تھے اور ذاتی شخصیت کو موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے، اس پر کیچڑ اچھال رہے تھے، طعن وتشنیع کررہے تھے۔ اور پھر وقت گزرتے اسی کے ساتھ ایک بینچ اور ہال میں دعوت اڑاتے ہیں، اور وہاں ایسے ملتے ہیں جیسے ان کے بہت دیرینہ تعلقات ہوں، اسٹیج پر جو کچھ کہا گیا وہ بھی محفوظ ہوتا ہے اور جو کچھ ہال میں یا بینچ پر ہورہا ہے وہ بھی محفوظ ہوتا ہے، عوام ان کو دیکھ کر کیا فیصلہ کرے، ظاہرہے کہ عوام ان سیاسی لوگوں کے ہاتھوں میں یرغمال بن رہے ہیں اور یہ ان کو جتنا جس کا جی چاہ رہا ہے بے وقوف بنارہے ہیں۔ اور ان کے یہ سب داؤں پیچ طاقت وحکومت کے حصول کے لیے ہے، اور وہ یہ سب ڈرامہ کرتے ہیں ۔

ایک اچھے معاشرے میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کسی کی ذات کو موردِ الزام ٹھہرایاجائے اس کی عزت کو پامال کیا جائے، حکومت اس لیے ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے کام بنائے، ملک کو خوشحال بنائے، ایسے طریقے اختیار کرے جس سے عوام کو فائدے پہنچے، اور ان کی پریشانیوں کا ازالہ ہو، حکومت کا کام یہ ہوتا ہے کہ ملک کی عوام کے حقوق کی حفاظت کرے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، مذہبیات سے اوپر اٹھ کر قوم کی خدمت کرے، یہی وجہ ہے کہ کہا گیا کہ : ’’قوم کا سردار ان کا خادم ہوتاہے‘‘ اور خدمت کے لیے اس کو چناجاتا ہے، لیکن دنیا میں ایک ایسا نظام نافذ کیا گیا ہے اور اس کو مضبوط سے مضبوط تر کیا جارہا ہے کہ جو غریب ہے وہ غربت کی چکی میں پستا جارہا ہے، اور جو امیر ہے وہ امیرتر ہوتا جا رہا ہے، حکومت مالداروں کا ساتھ دیتی ہے، غریبوں کے اوپر جیسے امیر ظلم کرتے ہیں ایسے ہی حکومت ظلم کرتی ہے، ان کے حقوق غصب کرتی ہے، ان کے نظامِ معیشت کو اچکتی ہے، ان کی زندگی کو اجیرن بناتی ہے، ایک اچھے معاشرے کے افراد رفاہی حکومت قائم کرتے ہیں جس میں محبت ورواداری پائی جاتی ہے، جس میں انسانوں کو اپنا بھائی سمجھاجاتا ہے، ان کے ساتھ بھلائی اوراُخوت کا معاملہ کیا جاتا ہے، اگر ملک کے کسی بھی حصہ میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا فرد پریشان ہوتا ہے تو ملک کا سربراہ بے چین ہوجاتا ہے، وہ اپنے لیے اچھا دستر خوان اس وقت تک نہیں چنتا جب تک اس کی عوام کو دو وقت کی روٹی اچھی طرح سے نہ مل جائے، وہ اپنے عوام کو خوشحال بنانے میں رات ودن ایک کیے رہتا ہے، اپنے دماغ کو ملک کی خدمت میں تھکادیتا ہے، اس کے یہاں ذات پات کا نظام نہیں ہوتا، وہ انسان ہوتا ہے اور انسانیت کی خدمت کرتا ہے، کوئی کسی بھی مذہب یا جماعت سے تعلق رکھتا ہو، اس کے نزدیک وہ اس کا بھائی ہوتا ہے، اسے کسی جماعت سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، سب جماعتوں کے افراد کی وہ خدمت کرتا ہے۔

لیکن ہم اپنے ملک میں ایک عرصہ سے دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کے حصول میں اخلاق کا ماتم ہوتا ہے، کسی کی عزت محفوظ نہیں رہتی، وزیر اعظم سے لے کر ایک عام فرد تک کچھ سنجیدہ لوگوں کو الگ کرتے ہوے سب ننگے بن جاتے ہیں، اور حکومت کے قائم ہوجانے کے بعد پھر تعصب کی، فرقہ بندی کی، ذات پات کی ایسی، آندھی چلتی ہے، کہ اللہ کی پناہ! (حالانکہ یہ آندھی الیکشن کے دور میں ہی کچھ کم نہیں ہوتی) حکومت لوگوں کا خون چوستی ہے، ان کو رہنے کی صحیح فضا تک نہیں دے پاتی، غریبوں کے لیے پہلے تو کوئی فلاحی اسکیم نہیں لاتی اور اگر لاتی ہے تو اس کو اتنا مشکل بنادیا جاتا ہے کہ عوام اس کو حاصل نہیں کرپاتی، پہلے تو ملک کی عوام کو عوام سے لڑاکراقتدار حاصل کیا جاتا ہے، لوگوں کو آپس میں بانٹا جاتا ہے، ان کے ذہنوں کو مسموم کیاجاتا ہے، ان کے ذہنوں میں دشمنی بسائی جاتی ہے، اور یہ آندھی اور دشمنی اقتدار کے بعد مزید بڑھتی چلی جاتی ہے۔

آج ملک میں جو کچھ دکھ رہا ہے، وہ ایک عرصہ کی محنتوں کا ثمرہ اور پھل ہے، اور ملک آج آگ کے ڈھیر پر کھڑا ہے، ایک چنگاری پورے ملک کو جلاکر رکھ دیگی، محبت ویگانگت لوگوں کے ذہنوں سے کھرچ لی گئی ہے، ان کو ایک دوسرے کا دشمن بنادیا گیا ہے، اگر ملک اسی طرح چلتا رہا اور سنجیدہ افراد نے اس میں کوئی محنت نہیں کی، اور ملک کو غلط رُخ سے ہٹاکر صحیح رُخ پر نہیں ڈالا تو ملک اپنی اصل حالت پر باقی نہیں رہ پائے گا، جولوگ ایسا سمجھ رہے ہیں کہ ہم بچ جائیں گے وہ ان کی بھول اور کم فہمی ہے، وہ لوگ حقیقت میں ملک سے محبت کرنے والے نہیں ہے، جو ملک سے محبت کرتا ہے وہ ملک کی پوری عوام سے محبت کرتا ہے۔ اللہ کرے کہ دماغ درست ہو،سیاسی وسماجی صورتِ حال سنورے اور فکر صحیح ہو اور ملک اپنی خوشحالی کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم مفتی خلیل احمد راضی قاسمی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.