91

سیٹھ، محنت اور مزدور

یہ موٹی توند والے
مالک، سیٹھ نکمے، ناکارہ ہوتے ہیں؟
محنت تو صرف مزدور کرتا ہے؟ باقی سب کون ؟

مالک نکما، ناکارہ ہوتا ہے . . . . . محنت تو مزدور کرتا ہے . . . . .یہ ایک اور معاشی جہالت ہے۔ جو مارکسی عام آدمی کے زہنوں میں بٹھا دیتےہیں۔ صنعت کا آغاز کسی ‘مزدور’ نے نہیں کیا تھا۔ بلکہ کسی زہین ٹیکنیکل زہن رکھنے والے آدمی یا انٹرپرنیور آدمیوں نے کیا تھا۔

مزدور یا ورکر کسی صنعت کا ایک پرزہ ہوتا ہے۔ لیکن انڈسٹری، کاروبار، کارپوریٹ کا وجود ‘مالک یا مالکوں کا گروپ’ ہی لاتا ہے۔ جوخدمات یا پراڈکٹس کا پہلے کانسیپٹ لاتے ہیں۔ سرمائے،زمین، کارخانے، مشینری، خام مال کا بندوبست کرتے ہیں۔
پھر تیار مال نے کہاں اور کن کے پاس بکنا ہے۔ وہاں تک اپنے مال کو پہنچاتے ہیں۔ اور فروخت شدہ مال سے پیسے لینے کا انتظام کرتےہیں۔ ورکرز کو وہ متنوع ہنر سکھاتے ہیں۔ جو پراڈکٹ بننے کے پراسس میں کام آتے ہے۔

مارکسیوں کے نزدیک یہ سب “خالہ جی کا کام ہے”۔ ہرچیز کو پیدا اور ساری محنت مزدورکرتا ہے۔ یہ میں عام انڈسٹری کی بات کررہا ہوں۔ ورنہ آج کے دور میں ہائی ٹیک میگا انڈسٹری کی تنظیم، سرمایہ ،ہنر،ٹیکنالوجی، انجنئرز، سائنس دان، چارٹرڈ اکاونٹیٹ، بزنس مینیجمٹ کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ ۔۔ایک لمبا چوڑا پچیدہ سلسلہ نظام سٹاف، اربوں کا سرمایہ درکار ہوتا ہے ۔۔۔

اور ایک مارکسی جس نے کبھی ریڑھی بھی نہیں لگائی۔۔اٹھ کر کہتا ہے۔ کہ ساری محنت تو مزدورکرتا ہے۔۔ ہڈحرام سارا نفع مالک لے جاتا ہے۔ جو’مالک ‘ ہوتے ہیں۔ وہ برین دماغ ہوتےہیں۔ مزدور ہاتھ پاوں لگا لیں۔۔ برین نہ ہوگا۔۔تو ہاتھ پاوں لاغراور ناکارہ ہوتے ہیں۔ مالک گاڑی کا انجن ہوتے ہوتےہیں۔ مزدور ڈھانچہ، ٹائر۔۔۔ سرمایہ گاڑی کے پٹرول کی مانند ہوتا ہے۔ انجن کو بھی نکال لیں، پٹرول بھی ختم کردیں۔۔ بتائے گاڑی نام کی کوئی چیز رہ جائے گی۔

مارکسیوں کا علم معاشیات نہائت پس ماندہ زہنیت پر مبنی ہے۔ ان کے دماغ میں پتھر کے زمانے کی معیشت ہے۔ جب کوئی بچارہ غلام مزدور پتھر کوٹتا ہوگا۔۔۔اور مالک منجھی پر بیٹھا حقہ پی رہا ہوگا۔۔ مارکسی مزدور کو ورغلا کر ناکارہ بنا دیتے ہیں۔ کہ تمہیں مالک ہو، تمھیں سب کچھ ہو۔۔نہ مزدور نے کبھی مالک بننا ہے، نہ سب کچھ اس کا ہونا ہے۔ البتہ مزدور محنت سے ہی نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔

چلتے چلتے ایک اور بات کہہ جاوں۔ کہ ہمارے ہاں جو مزدور کا کم معاوضہ ہے۔ یا اس کے حالات کار بہتر نہیں ہیں۔ اس کا قصورمعاشی نظام نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی معاشی پس ماندگی ہے۔ پاکستان ایک غریب آبادی کا ملک ہے۔

عوام غریب دو باتوں کی وجہ سے ہیں۔ بے کار آبادی کے اضافے کی وجہ سے، دوسرے ترقی کے نہ ہونے کی وجہ سے۔ جو قومیں ترقی کرتی ہیں۔ ان کے مزدوروں کی معاوضے بھی بڑھ جاتے ہیں۔اور ان کے حالات کار بھی بہتر ہوجاتے ہیں۔ ہمارا مزدور کیوں سستا ہے۔میں اس کی وجوہات پر بھی مضمون لکھ دوں گا۔”

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم ارشد محمود)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.