73

علم کا حصول‌ !

امی دادی گاؤں کب واپس جائیں گی؟
فاریہ نے دودھ کا گلاس نفیسہ بیگم سے پکڑتے ہوئے آہستہ سے پوچھا۔
کیوں تم کیوں پوچھ رہی ہو؟
انہوں نے بیٹی کو گھورا تمہارے ابو نہیں چاہتے کہ وہ واپس جائیں اور میری بھی یہی رائے ہے۔انہوں نے فاریہ کو تفصیل بتائی۔
“اور ہاں، تم ان سے ذرا ذرا سی بات پر نہ الجھا کرو۔ وہ بزرگ ہیں،ان کا ادب و احترام ہم پر لازم ہے۔
فاریہ جوابا کہنے لگی۔
ادب و احترام تو میں کرتی ہوں،وہ مجھے اچھی بھی لگتی ہیں، پر ٹوکتی بہت ہیں۔

فاریہ چائے کا کپ پکڑانا!
صبح ناشتے پر دادی جان نے پیار سے فاریہ کو پکارا۔فاریہ نے بھی جلدی سے کپ پکڑانا چاہا۔ لیکن دادی جان نے ناراضگی سے منہ پھیر لیا۔
فاریہ حیرانی سے انہیں دیکھنے لگی۔
وہ تو ادب سے پیش آرہی تھی۔ پھر ان کو کیا ہوا؟

کیا ہوا ہے؟ اس نے حیرت سے پوچھا۔
کسی کو چیز بائیں ہاتھ کے بجائے دائیں ہاتھ سے پکڑانی چاہیے۔دادی نے خفگی سے کہا۔

آپ نے چائے پکڑنی ہے میرے دائیں یا بائیں سے آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ جھنجھلائی۔

ارے سنت طریقے سیکھو۔ ہم مسلمان ہیں۔ ہماری اپنی تہذیب، اپنا تشخص ہے۔ رات دیر تک کمپیوٹر اور کتابوں میں سر دیے بیٹھی رہیں۔ فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی۔ وہ مزید خفا ہوئیں۔
عشاء پڑھ کر سوئی تھی، صبح آنکھ دیر سے کھلی۔ کچھ شرمندگی سے فاریہ نے اپنی صفائی پیش کی۔

نفیسہ کیا سکھا رہی ہو بیٹی کو؟ سسرال جا کر کیا کرے گی؟ نہ زردہ پکانا آتا ہے نہ نہاری۔ دادی نے تنقید کا ایک نیا باب کھولتے ہوئے بہو کو مخاطب کیا۔
سسرال والوں نے ایشین کھانوں کا ہوٹل چلوانا ہے مجھ سے۔فاریہ نے سوچا۔

پھر دادی براہ راست فاریہ سے مخاطب ہوئیں۔ نہ کھانا پکانا آتا ہے نہ سینا پرونا، تم یونیورسٹی کیا سیکھنے جاتی ہو؟
فاریہ بولی۔ آئی ٹی میں ماسٹرز کر رہی ہوں، ہوم اکنامکس میں نہیں۔
دادی جان کی مسلسل نکتہ چینی نے اسے زچ کر دیا تھا۔ نفیسہ بیگم نے بے بسی سے دادی پوتی کو دیکھا۔ وہ خود جس قدر خاموش طبعیت کی مالک تھیں۔ یہ دونوں اتنا ہی بولتی تھیں۔
اگر اپنا موقف ان کو درست معلوم ہوتا تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو خاموش نہیں کروا سکتی تھی۔

ہوں آئی ٹی، انگریزوں کی نقالی، شیطانی چالیں، ابلیسی ہتھکنڈے۔ دادی جان پتا نہیں کیا کچھ بڑبڑانے لگیں۔

جی نہیں، علم حاصل کرنا فرض ہے، جس کے بدلے فلاح و کامیابی کے وعدے ہیں اور اجر وثواب کی امید ہے۔فریحہ نے مذہبی حوالے سے انہیں زیر کرنا چاہا۔

جہاں لڑکے لڑکیاں اکھٹے آزادانہ ماحول میں انگریزی بولتے ہیں۔ اس پر ثواب تو کیا مجھے الٹا عذاب کا اندیشہ ہے۔ کیوں نفیسہ بیگم؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جہاں نا محرم لڑکے لڑکیاں آزادانہ ماحول میں ملیں گے وہاں شیطان موجود ہوگا۔ لعنت برسے گی۔تنقید تو وہ پہلے بھی کر رہی تھیں مگر اب انداز جارحانہ ہو چلا تھا۔

اسے لگا، کو ایجوکیشن کا حوالہ دیکر دادی جان نے اس کے کردار پر انگلی اٹھائی ہے۔ اس پر مستزاد عذاب کا موضوع اور لعنت جیسے الفاظ، فاریہ جو اب تک اپنی غلطی جاننے کی کوشش میں تھی۔ بری طرح مشتعل ہوچکی تھی اور اب وہ کوئی ادھار رکھنے کے لیے تیار نہ تھی۔

آپ جو قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہیں۔ اس کے معانی و مطالب سے واقف ہیں؟ جب نماز پڑھتی ہیں، تو پہلی رکعت میں چولہے پر رکھی ہنڈیا آپ کے دل و دماغ میں بسی ہوتی ہے، دوسری میں گھر کی سٹینگ تبدیل کرنے کے منصوبے، تیسری تک آتے آتے آپ کو یاد نہیں رہتا کہ فرض ادا کررہی ہیں یا سنت۔ میں اکیلی نہیں آنے والی عذاب کی زد میں، آپ بھی میرے ساتھ ہی ہوں گی۔فریحہ نے بھڑک کر کہا۔ چائے کی پیالی سے بات کہاں سے کہاں جا پہنچی تھی۔

نفیسہ بیگم کو اور تو کچھ سمجھ نہ آیا، فاریہ کا بازو پکڑ کر اسے گھسیٹتی باہر لے آئیں۔ کس طرح پیش آرہی ہو تم؟ انہوں نے اسے سختی سے گھورا۔ دیر ہو رہی ہے تمہیں، یونیورسٹی جاؤ اب، وہ اسے منظر سے ہٹانا چاہتی تھیں۔ اگر یہ یونیورسٹی جانا شیطانی جال میں جکڑے جانا ہے تو میں نہیں جاتی یونیورسٹی۔ دادی جان کے جملوں نے اسے دلی تکلیف پہنچائی تھی۔

خاموشی سے یونیورسٹی جاؤ۔ اس کے سوال کا جواب ان کے پاس نہیں تھا۔ فاریہ نے بوجھل دل کے ساتھ بیگ اٹھایا اور دروازے سے قدم باہر رکھ دیا۔ وہ سڑک سے بالکل ایک طرف کنارے کنارے چل رہی تھی۔ لڑکے لڑکیوں کا اکھٹے آزادانہ ماحول میں انگریزی بولنا، شیطان کا ساتھ، اللہ کی لعنت، دادی جان کے جملے اس کے کانوں سے ٹکرائے۔ مجھے تو پراجیکٹس اور اسائنمنٹس سے ہی فرصت نہیں ہوتی ان لڑکوں سے میرا کیا لینا دینا؟یہ سوچ کر اس نے ناپسندیدگی سے سر جھٹکا۔مگر دادی جان کے الفاظ ہتھوڑے کی مانند اس کے دل و دماغ پر پڑ رہے تھے۔

ابھی کل ہی تو وہ غیر مسلم سکالر ٹموتھی فیرس کی کتاب “کمنگ آف ایج ان دی ملکی وے” میں پڑھ رہی تھی کہ”سائنس کی ترقی اسلام کے دامن میں ممکن ہوئی۔ قرآن تفکر کی مشق یعنی فطرت کا مطالعہ اور تسخیر یعنی فطرت پر عبور حاصل کرنے کی بہت حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلمان اسکالرز نے گراں قدر مطالعات کیے اور یونانی سائنس اور فلاسفی کی درجہ بندی کر کے اسے متعارف کرایا۔ مسلمان فلکیاتی محققین نے ستاروں کے نام رکھے۔ اسی طرح الجبرا کا نام الجبران نامی مسلم سائنس دان نے تجویز کیا۔”

یہ حقائق پڑھ کر وہ بہت پرجوش ہو رہی تھی۔ اور خواہش کر رہی تھی کہ اپنے اسلاف کی مانند وہ بھی سائنس کے میدان میں کچھ خاص کر سکے۔وہ سوچنے لگی یہ ہمارا دین اسلام ہی ہے جو تحقیق و جستجو کی حوصلہ افزائی کرتا ہے وگرنہ کون نہیں جانتا کہ اسلام سے پہلے یہود و نصاری کی تاریخ سائنس کا نام لینے والوں اور تحقیق و جستجو کرنے والوں کے خون سے رنگی ہوئی ہے۔

لیکن پھر ہم بھی علم و آگہی کے دروازے خود پر بند کرکے ظلم عظیم کے مرتکب ہوئے۔ اس کی ذہنی رو شیخ محمد اکرام کی کتاب “موج کوثر” میں تحریر کردہ واقع کی طرف مڑ گئی۔ وہ تحریر کرتے ہیں۔”اٹھارویں صدی کے آخر میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو مراد بک نے جامعۃ الازہر کے علما کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے؟ علما نے متفقہ طور پر یہ رائے دی کہ جامعۃ الازہر میں صحیح بخاری کا درس شروع کر دینا چاہیے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ لیکن ابھی درس پورا نہیں ہوا تھا کہ نپولین کی فوج نے مصری حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ ”

یہ ناداں سجدے میں گرگئے،جب وقت قیام آیا۔اس نے تلخی سے سوچا۔ دادی جان آئی ٹی نہیں سیکھتے ہم، ہندوستان اور اسرائیل کو اس میدان کا بے تاج بادشاہ بنا رہنے دیتے ہیں۔ بس جائے نمازوں پر کھڑے شام و فلسطین اور کشمیری مسلمانوں کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔

علم کا حصول باعث اجر و ثواب ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی اسلام کی میراث ہے۔

لڑکے لڑکیاں اکھٹے، آئی ٹی، انگریزی، شیطانی چالیں، علم، عمل، عذاب، ثواب، اس کی سوچیں بے نتیجہ چہار جانب بکھر گئیں۔ اسے لگا خوفناک چہروں والے عذاب کے فرشتے بڑے بڑے ہنٹر لیے اسے ڈھونڈ رہے ہیں اور دادی جان انہیں اس کا پتہ بتا رہی ہیں۔ اضطراب و بے قراری میں اس کے دل سے دعا نکلی اور لبوں پر مچلنے لگی۔

“یا رب العالمین! مجھےسیدھی راہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا، ان لوگوں کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی۔ ” آنسو ڈھلک کر پلکوں کا بند توڑ رہے تھے۔ اسے خبر بھی نہیں ہوئی کہ کس طرح تمام راستہ طے کرکے وہ یو نیورسٹی کے گیٹ تک پہنچی تھی۔ اس نے ہتھیلیوں سے رگڑ کر آنکھیں صاف کیں اور یونیورسٹی کے احاطے میں قدم رکھ دیا۔

نفیسہ بیگم نے میز سے برتن اٹھاتے ہوئے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ دادی پوتی کے جھگڑے نے گھر کی فضا کو مکدر کر دیا تھا۔ اور ایسے مباحثوں سے تو وہ سخت گھبراتی تھیں۔ جذبات کی شدت میں انسان جانے کیا سے کیا بول جاتا ہے۔ وہ سب بھی جو دنیا اور آخرت میں خسارے کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے جھرجھری لی۔ برتن دھونے اور گھر کی صفائی کے دوران بھی ان کی سوچیں اسی جھگڑے کے گرد گھومتی رہیں۔ فاریہ کے دل میں دادی جان کے لیے ادب و احترام کے جذبات ہیں۔ دادی بھی اس سے محبت کرتی ہیں۔ پھر یہ دونوں لڑتی کیوں ہیں؟ اس الجھن کو سلجھانے میں ان کا ذہن بری طرح الجھ رہا تھا۔کام ختم کر کے وہ نڈھال سی صوفے پر ڈھے گئیں۔

جب ان کی سوچیں کوئی حل نہ نکال سکیں تو وہ بے بسی کے عالم میں دعا مانگنے لگیں۔

“یا اللہ! ہمارے دلوں میں الفت ڈال دے اور ہماری اصلاح فرما۔ ہمیں سلامتی کے راستے دکھا۔ ہمیں اندھیروں سے نجات عطا کر۔ آمین یا رب العالمین۔ “خلوص دل سے دعا مانگتے ہوئے ان کی نظر قریب ہی میز پر پڑے ہوئے لفافے پر پڑی۔ یہ کسی درس میں شمولیت کا دعوت نامہ تھا۔انہوں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ درس شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا۔ گھر کی بوجھل فضا میں ان کا دل نہیں لگ رہا تھا۔ انہوں نے درس میں جانے کا فیصلہ کیا۔ باہر چمن میں ہولے سے ہوا چلی اور گلاب کی خوشبو سے فضا کو معطر کرگئی۔

یہ دادی جان کے نوافل ادا کرنے کا وقت تھا۔ وضو کر کے وہ جیسے ہی جائے نماز پر کھڑی ہوئیں۔ فاریہ کے جملے ان کے دماغ پر تازیانہ بن کر برسنے لگے۔”یہ جو مجہول تلاوت کرتی ہیں ناں آپ۔ پہلی رکعت میں دھیان۔ میں اکیلی نہیں آنے والی عذاب کی زد میں”۔ انہیں لگا دو کرخت چہروں والے فرشتے ہاتھ میں بڑے بڑے ہنٹر لیے انہیں گھور رہے ہیں۔ اور فاریہ ان کی غلطیوں کی لسٹ ان کے ہاتھ میں تھما رہی ہے۔ انہوں نے عجیب گھبراہٹ میں سلام پھیر دیا اور جائے نماز سے اٹھ کر باہر لان میں آگئیں۔

پھر ایک کیاری کے کنارے بیٹھ کر مٹی کریدنے لگیں۔ طبعیت بہت مضطرب اور بے چین تھی۔ یا الٰہی! میں نے تو ہمیشہ تیری رضا کے لیے قرآن پڑھا۔ تیری خوشنودی کے لیے جائے نماز پر کھڑی ہوئی۔ سنت طریقوں پر عمل کیا۔ اب جبکہ مجھے لگتا ہے کہ میں نے میدان مار لیا ہے، جنت میں اپنی سیٹ مخصوص کروا لی ہے۔ تو یہ فاریہ نے کون سا آئینہ میرے سامنے رکھ دیا ہے؟ وہ امتحان میں فیل ہو جانے والے کسی محنتی بچے کی مانند بلک بلک کر رونے لگیں اور ایک ہی دعا تھی جو وہ بلکتے ہوئے مانگ رہی تھیں۔”یا رب العالمین! مجھے سیدھی راہ دکھا۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا۔ ان لوگوں کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی۔” آنسو ان کی آنکھوں سے گر کر مٹی میں جذب ہونے لگے تھے۔کچھ عرصہ پہلے جو بیج اس مٹی میں بوئے تھے۔ ان میں سے ایک کونپل مٹی کو چیرتی ہوئی باہر آ کھڑی ہوئی تھی اور پلکیں جھپکائے بنا اس کائنات کو دیکھنے لگی تھی۔

نفیسہ بیگم جب درس میں پہنچیں تو کوئی خاتون معلمہ کے سامنے اپنا مسئلہ بیان کر رہی تھیں۔”میرے بیٹے نے میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا ہے۔ میں چاہتی ہوں وہ قرآن و حدیث کا علم حاصل کر کے دین کی خدمت کرے۔ لیکن وہ بضد ہے مجھے سائنس دان بننا ہے، فزکس پڑھنی ہے۔ ہم کئی نسلوں سے قرآن پڑھنے والے، مساجد میں امامت کے فرائض سرانجام دینے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ہم فزکس کیوں پڑھیں؟ ہم سائنس دان کیوں بنیں؟ وہ رو دینے کو تھیں کہ جیسے اس کی متاعِ حیات بس اب لٹنے والی تھی۔”

معلمہ نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ لمحہ بھر کا سکوت اختیار کیا۔ پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنی بات کا آغاز کیا۔میری پیاری بہنو! اسلام کیا ہے؟

قرآن پاک میں علوم طبعی کی مدد سے کائنات پر غور و فکر کی دعوت دینے کے لیے 750 آیتیں موجود ہیں۔ ان آیات کو اللہ نے اپنی نشانی قرار دیا ہے۔ مختلف شعبوں میں تحقیق و جستجو کے ذریعے جو نتائج سامنے آئے ہیں، جن ایجادات نے سارے عالم کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ کیا یہ انسان کی اپنی ایجاد یا اس کی ذاتی تخلیق ہیں؟ یا کائنات میں اس غور و فکر کا نتیجہ ہیں۔ جس کی دعوت قرآن مجید دیتا ہے۔آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش، زبانوں کا فرق، رنگتوں کا فرق اللہٰ کی آیات میں بیان ہے۔

اے سیدہ عائشہؓ کی بیٹیو! کیا جب آسمانوں اور زمین کی پیدائش پر غور و فکر کیا جائے گا تو علم کائنات cosmology، علم ارضیات geology اور طبعی علوم physical sciences جنم نہ لیں گے؟ جب زبانوں اور رنگتوں کے فرق کو سمجھنے کی کاوشیں کی جائیں گی تو Social sciences کا علم وجود میں نہ آئے گا؟اے سیدۃ عائشہؓ کی بیٹیو! اپنے بچوں کو عبادات سکھانے کے ساتھ ساتھ ان عبادات کی روح اور حکمت سکھانے پر بھی توجہ دو۔ مسلمان بچوں کو دنیا کے امور اور معاملات میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پروان چڑھاؤ۔ مسلم قوم آج غیر مسلم اقوام کی دست نگر اور محتاج ہو گئی ہے، اس محتاجی سے نکلنے کے لیے اپنے بچوں کو جدید علوم میں آگے بڑھاؤ۔ اپنے بچوں کو رات اور دن کے بدلنے پر، زمین و آسمان کی پیدائش پر، مردہ زمین کو زندگی بخشنے والے آسمان سے اترنے والے پانی پر، قسم قسم کے جانوروں پر، ہواؤں کی گردش اور بادلوں پر تفکر کرنے پر اکساؤ۔ تحقیق پر آمادہ کرو۔یاد رکھو کہ اس قوم کی تقدیر تمہارے ہاتھ میں ہے۔ انہیں سائنس دان بننے دو۔انہیں فزکس پڑھنے دو۔ انہیں آئی ٹی سیکھنے دو۔

نفیسہ بیگم نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ کہاں تھیں فاریہ کی دادی جان۔ وہ گھر جا کر یہ سب انہیں کیسے سمجھا پائیں گی؟لیکن باجی، وہ خاتون جھجکتے ہوئے کچھ کہنا چاہ رہی تھیں۔ جی کہیے، معلمہ نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ باجی اس تعیلم کے ساتھ بچوں کا جو کردار پروان چڑھ رہا ہے اس کی وجہ سے ہم دنیا و آخرت میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ بات کے اختتام تک پہنچتے خاتون کی آواز بھرا چکی تھی۔ شاید وہ چشم تصور میں اپنے بیٹے کو کسی غلط رستے پر چلتا دیکھ رہی تھیں۔

یہ دوسرا سوال پہلے سوال سے زیادہ اہم اور جواب طلب تھا۔ لمحہ بھر کو معلمہ نے اپنے حاضرین کا جائزہ لیا پھر آہستگی سے گویا ہوئییں۔ میری کلمہ گو بہنو۔اے سیدۃ فاطمہؓ کی بہنو! اپنے بچوں کے لیے، اپنی بچیوں کے لیے کچھ اصول اپنے سامنے واضح کر لو اور یہ اصول میں اور آپ وضع نہیں کریں گی، یہ اصول و ضوابط 14 سو برس قبل ہمارے خالق و مالک نے ہمیں صاف صاف بتا دیے ہیں۔اور نبیؐ نے ہم تک پہنچا دیے ہیں۔

روز محشر جوانی کے بارے میں سوال ہوگا۔ جوانی فضول سوچوں، فضول کاموں میں ضائع کرنے کے لیے نہیں ہے۔ ہمارے بچے علم ضرور حاصل کریں یہ ان پر فرض قرار دیا گیا ہے لیکن مقصد اور ویژن کے ساتھ، اپنے نظریات کو بھولے بغیر، ترقی کے نام پر دھوکا کھائے بغیر۔ اس ادراک کے ساتھ کہ ان کا رول ماڈل فلموں اور کرکٹ کی دنیا میں نہیں ہے۔ ان کے رول ماڈل پیارے نبی محمدؐ ہیں، عمر فاروقؓ ہیں، عبداللہ بن مسعودؓ، معاذ بن جبلؓ اور حذیفہ الیمانؓ جیسے جلیل القدر نوجوان صحابی ہیں۔ ہمارے بچوں کا وقت بہت قیمتی ہے۔ ان کی جوانی بہت قیمتی ہے۔ اس جوانی میں نیک اعمال کے بدلے ہم روز محشر عرش کے سائے کے آرزو مند ہیں۔ ہماری بچیاں بھی بہت قیمتی ہیں۔ انہیں بتائیے کہ وہ اس احساس کے ساتھ فخر سے جئیں۔

میں حکم رب پر نازاں ہوں، مجھے مسرور رہنے دو

ردا ہے یہ تحفظ کی، مجھے مستور رہنے دو

مثال سیپ میں موتی مجھے رب قیمتی سمجھے

مجھے اپنی قدر افزائی پر مغرور رہنے دو

زمانے کی نظر گہنا نہ دے پاکیزگی میری

حیا کے لعل و گہر سے مجھے پر نور رہنے دو

میں اپنے دیں پر شیدا ہوں یہ میرا تاج ہے گویا

میرے اس دیں کی کرنوں کو میرا منشور رہنے دو

دعا ہے ناز کی آقا کہ اس امت کو غیرت دے

میں اس امت کا مرکز ہوں، مجھے غیور رہنے دو

نظم پڑھتے ہوئے معلمہ دھیرے سے مسکرائیں۔ذرا ٹھہر کر درس میں موجود خواتین پر نگاہ دوڑائی جو ان کے انداز و آواز اور پیغام سے بے حد متاثر لگ رہی تھیں۔اور پھر سے سلسلہ کلام جوڑا۔

میری بہنو! اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں، کیا انگلش سیکھنے اور بولنے کے لیے بے حجاب ہونا ضروری ہے؟ کیا آئی ٹی سیکھنے کے لیے لڑکے اور لڑکیوں کا آپس میں بے تکلف ہونا ضروری ہے؟ کیا فزکس پڑھنے والوں کے راستے میں داڑھی رکاوٹ بن جاتی ہے؟ کیا کیمسٹری پڑھنے کے لیے فجر اور عشاء کی نمازیں چھوڑنا ضروری ہے؟ کیا جب تک ہم والدین سے بدتمیزی نہ کریں، اپنے سے کمزوروں کے لیے فرعون نہ بن جائیں ہم بائیو ٹکنالوجی نہیں سیکھ سکتے؟بتائیں کون سا علم ہمیں آخرت کی یاد یا فکر کرنے سے روکتا ہے؟ کون سا علم ہم سے شرم و حیا کازیور چھینتا ہے؟ اور کون سا علم ہم سے حفظ مراتب کی تہذیب چھینتا ہے؟

بخدا یہ سب کچھ ہم سے علم نہیں چھینتا مغرب سے مرعوبیت کی نفسیات چھینتی ہے۔اہل ہنود و یہود کی اندھی تقلید چھینتی ہے۔

پیاری بہنو! اب آپ سب کو ایک آسان مثال سے سمجھاتی ہوں، جب آپ اپنے بچوں کو بازار سبزی یا پھل خریدنے بھیجتی ہیں تو کیا ہدایت کرتی ہیں؟ “دیکھ بھال کر، چن کر صاف ستھری چیز لانا۔ خبردار گندی اور گلی سڑی خریداری نہیں کرنی۔” بس یہی ہدایت اس میدان میں بھی آپ کو دینی ہے۔ صاف شفاف علم گھر لے آؤ۔ گلی سڑی مغربی تہذیب سے اپنا دامن بچا کر”۔

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

تہذیب و ثقافت ہماری اپنی ہو اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے ہتھیار سے ہم آراستہ ہوں تو دنیا بھی ہماری اور آخرت بھی ہماری۔ معلمہ سہولت سے مسکرا دیں کہ اس رستے پر چلنا اگر مشکل تھا بھی تو ناممکن ہرگز نہ تھا۔

فاریہ میری بچی تمہیں حکمت سے یہ باتیں سمجھائی جائیں تو انشاللہ تمہارا ذہن یہ سب قبول کرلے گا۔ نفیسہ بیگم نے محبت سے بیٹی کے بارے میں سوچا۔ درس کے اختتام پر وہ واپسی کے لیے مڑیں تو معلمہ نے مسکراتے ہوئے مدرسے کا تعارفی کارڈ ان کے ہاتھ میں تھمایا۔ انہوں نے سرسری نظر دوڑائی لکھا تھا۔

•قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

•رب زدنی علما۔

•حصول علم اور خواتین۔

•رسول اللہؐ سے میرا تعلق۔

•قرآن مجید کیسے پڑھیں؟ کیسے سمجھیں؟

•میری نمازیں۔

نفیسہ بیگم اطمینان سے مسکرا دیں۔

رو رو کر فاریہ کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔صبح اسے اپنی سہیلی کی منگنی پر بھی جانا تھا۔ سب سہیلیوں نے ایک جیسے کپڑے بنوائے تھے۔ اور درزی کے سلے سوٹ میں اسے کئی خامیاں نظر آرہی تھیں۔اور تو اور دوپٹہ بھی پیکو نہیں تھا۔ مارکیٹ میں کسی وجہ سے ہڑتال ہو گئی تھی۔ درزی اور پیکو سینٹر دونوں دکانوں پر تالا پڑا تھا۔ کوئی اور لباس پہن جاؤ۔ نفیسہ بیگم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ میری سب سہیلیوں کے ساتھ اسی ڈریس کی کمٹمنٹ ہے۔ مجھے بہت شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔ وہ پھر بچوں کی طرح منہ بسورنے لگی تھی۔

دادی جان کمرے میں آئیں تو ان کے دل پر تو جیسے سخت چوٹ پڑی۔ ہر وقت مسکراتی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر انہوں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ وجہ جاننے پر بولیں، اتنی سی بات پر اتنا رونا دھونا۔ جھٹ سلائی مشین نکال کر لائیں۔ غور سے قمیض کو دیکھا، کچھ قینچی سے تراشا، کچھ سلائی کی اور پھر جو فاریہ نے پہن کر دیکھا تو وہ خوشی سے ہنسنے لگی۔

پھر دوبارہ منہ بنا کر بولی، دوپٹے کا کیا ہوگا؟

دوپٹے کا بھی کیے دیتی ہوں۔ دادی جان اپنا چھوٹا سا ڈبہ نکال لائیں۔ ڈھکن اتارا تو فاریہ نے دیکھا کئی طرح کے دھاگے سوئیاں اور چند ایک اور چیزیں بڑی ترتیب سے ڈبے میں بند تھیں۔ انہوں نے کروشیے کی مدد سے تھوڑی سی دیر میں نہایت نفیس اور نازک بیل بنا دی تھی۔ جسے دیکھ کر فاریہ دنگ رہ گئی۔ میری پیاری دادی جان، دوپٹہ لہراتے ہوئے وہ دادی سے لپٹ گئی۔

فاریہ میری بچی، یہ بچیوں کے سیکھنے کے کام ہیں۔تو مجھ سے سیکھ۔ انہوں نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ دادی یہ بھی اور نہاری پکانا بھی سکھا دیں۔ آپ کے ہاتھ کی نہاری بہت مزے دار ہوتی ہے۔ وہ ابھی تک ان سے لپٹی ہوئی تھی۔ کیوں نہیں ایک منٹ میں سکھا دوں گی۔ انہوں نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔ ایک بات کہوں، فارو کسی سے کہنا نہیں۔ دادی جان نے فاریہ کو خود سے الگ کیا۔ کیا بات دادو؟ فاریہ حیران ہوئی۔

وہ مجھے کمپیوٹر استعمال کرنا تو سکھا دو؟ ہائیں، فاریہ کی آنکھیں مارے حیرت کے پھٹ سی گئیں۔ وہ اس دن میں گھر میں اکیلی تھی۔ سورۃ الرحمٰن کی تلاوت سننے کو دل چاہ رہا تھا۔ کوئی گھر میں تھا نہیں کہ لگا کر دیتا۔ میں کتنی دیر بے بسی سے کمپیوٹر کے پاس کھڑی رہی۔ وہ جھجھکتے ہوئے شرمندگی سے مدھم آواز میں بولیں۔

کیوں نہیں ایک منٹ میں سکھا دوں گی۔ وہ انہی کے انداز میں چٹکی بجاتے ہوئے ہنسی تو وہ بھی ہنس پڑیں۔

واہ جی لڑائیوں میں تو مجھے گھسیٹتے ہو اور دوستی میرے بغیر، یہ تو بے ایمانی ہے۔ نفیسہ بیگم چائے کی ٹرے تھامے اندر آرہی تھیں۔دونوں کو ہنستے دیکھ کر بشاشت سے بولیں۔

ارے واہ! آپ تو اس تکون کا لازمی حصہ ہیں۔ آپ کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ فاریہ نے لاڈ سے ماں کے ہاتھ سے ٹرے پکڑی تو دادی جان کی محبت بھری نگاہوں نے بھی اس کے جملوں کی تصدیق کر دی۔

اب سیکھنے سکھانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے تو میری بات بھی آپ کو ماننا پڑے گی۔ وہ قطعیت سے بولیں۔ وہ کیا؟ دونوں نے یک زبان ہو کر پوچھا۔ اب ہم تینوں فہم القرآن کا کورس کریں گی۔ تجوید سے قرآن پاک پڑھنے کے لیے، قرآن پاک کو سمجھنے، اس پر غور و فکر کے لیے اور سب سے بڑھ کر قرآن و حدیث پر عمل کرنے کے لیے۔ آئیں دعا کریں۔ انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔

“اللھم انفعنی بما علمتنی و علمنی ما ینفعنی و زدنی علما۔ ” (سنن ابن ماجہ:3833)

“اے اللہ! مجھے فائدہ دے اس کے ساتھ جو تو نے مجھے سکھایا ہے اور مجھے سکھا جو میرے لیے فائدہ مند ہے اور میرے علم میں اضافہ فرما۔ آمین۔ ”

آج کل نفیسہ بیگم بہت خوش ہیں کہ ان کے گھر کا ماحول بہت پرسکون ہو چکا ہے۔ دادی جان بہت خوش ہیں کہ فاریہ “کو ایجوکیشن” یونیورسٹی کو خیر آباد کہہ کر خواتین یونیورسٹی میں داخلہ لے چکی ہے۔ فاریہ بہت خوش ہے کہ دادی جان کمپیوٹر کو نہایت سہولت سے استعمال کرنے لگی ہیں۔اور جب وہ تینوں تجوید، ترجمے اور تفسیر کے ساتھ قرآن پاک کو پڑھنے کے لیے مدرسے جاتی ہیں تو گویا جنت کی راہ پر چلتی ہیں اور فرشتے اپنے پر ان کی خوشنودی کے لیے بچھا دیتے ہیں۔

(تحریر ام محمد عبداللہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.