52

قرآن پاک کی مخصوص سورتوں اور آیات کے فضائل !

سورۂ فاتحہ
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ کیا تمہاری خواہش ہے کہ میں تم کو قرآن کی وہ سورت سکھاؤں جس کے مرتبہ کی کوئی سورت نہ تو توریت میں نازل ہوئی اور نہ انجیل میں اور نہ زبور میں۔ ابی بن کعب نے عرض کیا کہ ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وہ سورت بتادیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم نماز میں قرأت کس طرح کرتے ہو؟ حضرت ابی بن کعب نے آپؐ کو سورۂ فاتحہ پڑھ کر سنائی (کہ میں نماز میں یہ سورت پڑھتا ہوں اور اس طرح پڑھتا ہوں) آپؐ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ توریت، انجیل اور زبور میں اور خود قرآن میں بھی اس جیسی کوئی سورت نازل نہیں ہوئی، یہی وہ سبعاً من المثانی والقرآن العظیم ہے جو مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ (جامع ترمذی، معارف الحدیث)

ایک بار جب حضرت جبرائیل علیہ السلام حضورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، یکایک انہوں نے اوپر سے ایک آواز سن کر اور سر اٹھا کر فرمایا یہ ایک فرشتہ زمین پر اترا ہے، جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا تھا پھر اس فرشتہ نے سلام کیا اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو! لیجیے یہ دو نور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیے گئے ہیں، ایک سورۂ فاتحہ اور دوسرا سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں، ان میں سے جو بھی آپ پڑھیں گے اس کا ثواب آپ کو ملے گا۔ (حصن حصین)

سورۂ بقرہ و آل عمران
حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ ارشاد فرماتے تھے کہ قرآن پڑھا کرو، وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا شفیع بن کر آئے گا۔ (خاص کر) زہراوین یعنی اس کی دو اہم نورانی سورتیں البقرة اور آل عمران پڑھا کرو۔ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کو اپنے سائے میں لیے اس طرح آئیں گی جیسے کہ وہ ابر کے ٹکڑے ہیں یا سائبان ہیں یا صف باندھے پرندوں کے پرے ہیں۔ یہ دونوں سورتیں قیامت میں اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے مدافعت کریں گی۔ آپؐ نے فرمایا پڑھا کرو سورۂ بقرہ کیونکہ اس کو حاصل کرنا بڑی برکت والی بات ہے اور اس کو چھوڑنا بڑی حسرت اور ندامت کی بات ہے اور اہل بطالت اس کی طاقت نہیں رکھتے (صحیح مسلم، معارف الحدیث)

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھروں کو مقبرے نہ بنالو (یعنی جس طرح قبرستانوں میں ذکر وتلاوت نہیں کرتے اور اس کی وجہ سے قبرستانوں کی فضا ذکر وتلاوت کے انوار و آثار سے خالی رہتی ہے، تم اس طرح اپنے گھروں کو نہ بنالو بلکہ گھروں کو ذکر وتلاوت سے منور رکھا کرو) اور جس گھر میں (خاص کر) سورۂ بقرہ پڑھی جائے، اس گھر میں شیطان نہیں آسکتا۔ (معارف الحدیث، جامع ترمذی)

آیة الکرسی
حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی کنیت ابومنذر سے مخاطب کرتے ہوئے) ان سے فرمایا اے ابو منذر! تم جانتے ہو کہ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے پاس سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟ میںنے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ انے مکرر فرمایا: اے ابو منذر تم جانتے ہو کہ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے پاس سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ لا الہ الا ھو الحیی القیوم … تو آپ انے میرا سینہ ٹھونکا (گویا اس جواب پر شاباش دی) اور فرمایا: اے ابو منذر! تجھے یہ علم موافق آئے اور مبارک ہو۔ (صحیح مسلم، معارف الحدیث)

سورۂ بقرہ کی آخری آیات
ایفع بن عبدالکلامی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی کون سی سورت سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟ آپؐ نے فرمایا قل ھوا للہ احد، اس نے عرض کیا اور آیتوں میں قرآن کی کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آیة الکرسی۔ اس نے عرض کیا اور قرآن کی کون سی آیت ہے جس کے بارے میں آپؐ کی خاص طور سے خواہش ہے کہ اس کا فائدہ اور اس کی برکات آپ کو اور آپؐ کی امت کو پہنچیں؟ آپؐ نے فرمایا: سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں آمن الرسول سے ختم سورۂ تک۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آیتیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان خاص الخاص خزانوں میں سے ہیں جو اس عرش عظیم کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات رحمت اس امت کو عطا فرمائی ہیں یہ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی اور ہر چیز کو اپنے اندر لیے ہوئے ہیں۔ (مسند دارمی، معارف الحدیث)

سورۂ آل عمران کی آخری آیات
حضرت عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایاکہ کوئی رات کو آل عمران کی آخری آیات پڑھے گا اس کے لیے پوری رات کی نماز کا ثواب لکھا جائے گا۔ ان فی خلق السمٰوٰتِ والارض سے لاتخلف المیعاد تک۔ (مسند دارمی، معارف الحدیث)

سورۂ حشر کی آخری تین آیات
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص صبح اس تعوذ کو سورۂ حشر کی ان تینوں آیتوں کے ساتھ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستّر ہزار فرشتے مقرر کرتا ہے جو شام تک اس کے واسطے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اگر شام کوپڑھے تو صبح تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اگر مرجاتا ہے تو شہید مرتا ہے۔ اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم (تین مرتبہ پڑھ کر پھر پڑھے) ھواللہ الذی لا الہ الا ھو…… و ھو العزیز الحکیم۔ ترجمہ: وہ اللہ (ایسا ہے) کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غیب کا اور پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے، وہ رحمٰن ورحیم ہے وہ اللہ (ایسا ہے) کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ ہے، پاک ہے، سلامتی والا ہے، امن دینے والا ہے، نگہبانی کرنے والا ہے، عزیز ہے، جبار ہے، خوب بڑائی والا ہے، اللہ اس شرک سے پاک ہے جو وہ کرتے ہیں وہ اللہ پیدا کرنے والا ہے ٹھیک ٹھیک بنانے والا ہے، اس کے اچھے اچھے نام ہیں، جو بھی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔ (ترمذی، دارمی، ابن سعد، حصن حصین)

سورۂ طلاق کی ایک آیت
حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ کو ایک ایسی آیت معلوم ہے کہ اگر لوگ اس پر عمل کریں تو وہی ان کو کافی ہے اور وہ آیت ہے یہ ہے: ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لایحتسب۔ ترجمہ: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس کے لیے ہر مشکل اور مصیبت سے نجات کا راستہ نکال دیتا ہے اور اس جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے نجات کا راستہ پیدا کردیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے خیال وگمان تک نہیں تھا (مسند احمد، ابن ماجہ، دارمی، مشکوٰة)

سورۂ کہف
حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے اس کے لیے نور ہوجائے گا دو جمعوں کے درمیان۔ (دعوت الکبیر للبیہقی، معارف الحدیث)

سورۂ یٰسین
حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی رضا کے لیے سورۂ یٰسین پڑھی اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے لہٰذا یہ مبارک سورة مرنے والوں کے پاس پڑھا کرو۔ (شعب الایمان للبیہقی، معارف الحدیث)

سورۂ واقعہ
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر رات سورۂ واقعہ پڑھا کرے اسے کبھی فقر وفاقہ کی نوبت نہ آئے گی۔ روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ خود حضرت ابن مسعود کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنی صاحبزادیوں کو اس کی تاکید فرماتے تھے اور وہ ہر رات کو سورۂ واقعہ پڑھتی تھیں۔ (شعب الایمان للبیہقی، معارف الحدیث)

سورۂ ملک
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا کہ قرآن کی ایک سورت نے جو صرف تیس آیتوں کی ہے اس کے ایک بندے کے حق میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں سفارش کی یہاں تک کہ وہ بخش دیا گیا اور وہ سورت سورۂ ملک ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، ابن ماجہ)

الم تنزیل اور سورہ ملک
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہ سوتے تھے جب تک الم تنزیل اور تبارک الذی بیدہ الملک نہ پڑھ لیتے۔ (یعنی رات کو سونے سے پہلے یہ دونوں پڑھنے کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا) (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن دارمی، معارف الحدیث)

سورة التکاثر
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں کرسکتا کہ روزانہ ایک ہزار آیتیں قرآن پاک کی پڑھ لیا کرے؟ صحابہ نے عرض کیا حضورا کس میں یہ طاقت ہے کہ روزانہ ایک ہزار آیتیں پڑھے (یعنی یہ بات ہماری استطاعت سے باہر ہے) آپؐ نے ارشاد فرمایا کیا تم میں کوئی اتنا نہیں کرسکتا کہ سورۂ تکاثر پڑھ لیا کرے۔ (شعب الایمان للبیہقی، معارف الحدیث)

سورۂ اخلاص
حضرت ابودرداء سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس سے بھی عاجز ہے کہ ایک رات میں تہائی قرآن پڑھ لیا کرے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کیسے پڑھاجاسکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قل ھو اللہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے (تو جس نے رات میں وہی پڑھی ا س نے گویا تہائی قرآن پڑھ لیا) (صحیح مسلم، معارف الحدیث)

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بستر پر سونے کا ارادہ کرے، پھر وہ سونے سے پہلے دس دفعہ قل ھو اللہ احد پڑھے تو جب قیامت قائم ہوگی تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا ”اے میرے بندے اپنے داہنے ہاتھ پر جنت میں چلا جا۔”

معوذتین
حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم نہیں آج رات جو آیتیں مجھ پر نازل ہوئی ہیں (وہ ایسی بے مثال ہیں کہ) ان کی مثل نہ کبھی دیکھی گئی نہ سنی گئی۔ سورۂ فلق اور سورۂ ناس (معارف الحدیث، صحیح مسلم)

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ ہر رات کو جب آرام فرمانے کے لیے اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو ملالیتے (جس طرح دعا کے وقت دونوں ہاتھ ملائے جاتے ہیں) پھر سورۂ اخلاص، فلق اور ناس پڑھتے۔ پھر ہاتھوں پر پھونکتے اور پھر جہاں تک ہوسکتا اپنے جسم مبارک پر اپنے دونوں ہاتھ پھیرتے، سر مبارک اور چہرۂ مبارک اور جسد اطہر کے سامنے کے حصہ سے شروع فرماتے (اس کے بعد باقی جسم پر جہاں تک آپؐ کے ہاتھ جاسکتے وہاں تک پھیرتے) یہ آپ تین دفعہ کرتے۔ (صحیح بخاری، معارف الحدیث)

سوچیے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم مولانا محمد جہان یعقوب)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں