96

محاسبہ ایپ!

کوئی ہماری ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ہی ذرا سی بھی تعریف کر دے تو ہم پھولے نہیں سماتے۔ چاہے وہ “کوئز سٹار” نامی یا اس جیسی کوئی ویب سائٹ ہی کیوں نہ ہو اور ہم اس کو شیئر کر کر کے دوسروں کو بھی دکھاتے پھرتے ہیں کہ دیکھو جی! میرے بارے میں تو انٹرنیٹ، میرا فیس بک آئی ڈی، بہت سی سائٹس اور ایپلی کیشنز بلکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ میں تو بہت خاص اور چنگا انسان ہوں۔ حالانکہ دکھانے کی بجائے چنگا بننا زیادہ ضروری ہے۔

نبی کریم ﷺ صحابہ کرام سے فرماتے تھے کہ لوگوں کو بشارت سناؤ اور متنفر نہ کرو۔ اور لوگوں سے آسانی والا معاملہ کرو اور تنگی والا معاملہ نہ کرو۔ (صحیح مسلم، جلد سوم، حدیث نمبر 28)

اس کے علاوہ دوسروں کی اچھے الفاظ میں تعریف کرنا ایک اچھا فعل ہے اور ایسا کر دینے سے کسی کا بھی کوئی ‘ماسا نقصان’ نہیں ہوتا۔ ہمیں ایک دوسرے کو اچھے کام پر ایپریشی ایٹ کرنا چاہیے اور اچھی نیت سے اور پورے خلوص سے کرنا چاہیے۔

آج کل تنقید اور نقص نکالنے کا کام چونکہ زیادہ اور ہر جگہ ہوتا ہے تو ایسے میں تعریف و ستائش ہمارا سیروں خون بڑھادیتی ہے۔ معاشرے میں پھیلی الجھنوں اور ذہنی پریشانیوں کو حوصلہ افزائی کے دو میٹھے بولوں سےختم نہیں تو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی سی کوشش کر دیکھتے ہیں۔ اپنے گھر، دفتر، سکول میں یا کسی شادی اور فنکشن میں کسی اپنے کی جائز تعریف بنتی ہے تو کنجوسی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

اگر کسی کی ہر بار ایک جیسے الفاظ اور جملوں میں ہی تعریف ہو رہی ہو تو غور کرنے والی بات بنتی ہے کہ تعریف کرنے والا بندہ ‘فیک’ تو نہیں اور وہ ہمیں بلا وجہ ‘شیک’ تو نہیں کررہا؟ (کیونکہ کسی نے ‘کھوتے’ کی آئی ڈی بنا کے اپنا آپ چیک کیا تو اُس کی تعریف میں بھی زمین آسمان ایسے ایک کر دیے گئے کہ وہ بھی ڈھینچوں ڈھینچوں۔ یعنی واہ واہ کرنے پر مجبور ہوگیا)۔

آپ نے سنا ہوگا کہ آج کل فیس بک پر ڈیٹا لیک ہونے کے بارے میں بڑا ‘رولا’ پڑا ہوا ہے۔ دراصل وہ ایسی ویب سائٹ ہے جو کسی نہ کسی طریقے سے بہلا پھسلا کر ہمیں ‘ایگری’ کروا لیتی ہیں اور ہمارے مکمل ڈیٹا کی مالک بن جاتی ہیں۔ یہی ڈیٹا پھر ہمارے خلاف بھی استعمال ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے۔ ایسی چالاکی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کبھی بھی فیس بک، ٹویٹر، گوگل یا کسی بھی پرائیویٹ اکاؤنٹ سے کسی دوسری ویب سائٹ پر لاگ اِن نہ ہوں۔ آپ بہت سی پریشانیوں سے بچ جائیں گے۔

ایک ایسی ویب سائٹ، ایپ یا کوئی انسان اور روبوٹ، جس نے نہ کبھی آپ کو دیکھا، نہ جانا، نہ پرکھا۔ اس کو کیسے آپ کے بارے میں سب اچھی باتیں معلوم ہیں۔ اور کیا انسان صرف اچھی باتوں کا ہی مجموعہ ہوتا ہے؟ اگر جواب نہیں ہے تو آپ کو کیوں نہیں لگتا کہ یہ سب ایک بنا بنایا سافٹ ویئر ہے جو صرف آپ کو وقتی طور پر خوش کر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے یا ان کا مقصد آپ کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا ہے اور بس!

ان دنوں تقریباً ہر بندہ (اور بندی بھی) (اور ان میں بہت پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہیں) ایک ویب سائٹ “کوئز سٹار” کا لنک بڑی کثرت سے استعمال اور شیئر کر رہے ہیں۔ یہ ویب سائٹ یا ایپ آپ کو آپ کے کردار، اچھی باتوں، چیلنجز کا سامنا کرنے اور زیادہ تر آپ کی خوبیوں سے آگاہ کرتی ہے جو عموماً جھوٹ اور فرضی کہانی پر مبنی ہوتا ہے جبکہ ہو سکتا ہے کبھی کبھار اتفاقاً حقیقت کا ذکر ہونے کا ‘تُکا’ لگ جائے۔لیکن غور کرنے والی بات یہ ہے کہا ان سب سے بہتر ایک حقیقی ایپ کو آپ کے اندرونی سسٹم میں بھی انسٹال کیا گیا ہے، جو آپ کو حقیقی معنوں میں آپ کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کرتی ہے۔اس ایپ کا نام ہے۔ “محاسبہ نفس”۔

یہ ایپ آپ کو بتاتی ہے کہ آپ میں کیا کیا اچھائیاں ہے اور کیسے ان کا بہترین استعمال کر کے آپ اپنے آپ کو غرور اور تکبر سے بچا سکتے ہیں اور پھر یہ بھی واضح پتا چل جاتا ہے کہ کس خامی کی وجہ سے لوگ آپ سے بے رخی اختیار کرنے لگے ہیں؟ وہ کون سی برائی ہے جس کی وجہ سے آپ کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ بدترین تناؤ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں، کہیں اس کی وجہ آپ کا جھگڑالو، بدزبان، بد اخلاق ہونا تو نہیں؟

یہ سب کچھ جاننے کے لیے آپ ابھی اس قدرتی ایپ کو اپنے ‘ضمیر’ کے پلے سٹور سے ڈاؤن لوڈ کر یں اور سچے دل سے اس کا استعمال کریں اور پھر آپ دیکھ کر حیران اور شادمان ہو جائیں گے کہ آپ کی اپنی شخصیت کی تعمیر کتنے بہترین انداز میں ہورہی ہے۔

“محاسبہ ایپ” خامیوں اور شیطان سے کرے دور اور آپ کو کرے اچھا انسان بننے پر مجبور!

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم محمد قاسم سرویا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.