118

مخلوط تعلیمی نظام ، سماجی انحطاط اور حل

کہاجاتا ہے کہ قوموں کی داستان عروج و زوال اٹھا کر دیکھنی ہو تو اس حقیقت سے انکار اور راہ فرار اختیار نہیں کی جا سکتی کہ ملکوں اور قوموں کی تعمیر، ترقی، خوشحالی اور استحکام کا عمل نظام تعلیم سے مشروط ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مد نظر رکھ کر دنیا بھر کے ممالک اپنے شہریوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، قومی، سماجی اور معاشرتی حالات و ضروریات کو مدنظر رکھ کر تعلیمی پالیسیاں بناتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وسیع تر قومی اور ملکی مفاد کو مد نظر رکھ کر حکومتوں کی تبدیلی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر تعلیمی پالیسیوں کو تسلسل فراہم کیا جاتا ہے۔

اب اگر ہم مملکت خداد اد جسے صدیوں کی آبلہ پائی، دیدہ ریزی اور لاتعداد قربانیوں سے حاصل کیا گیا کی بات کریں تو آزادی کے بعد سے آج تک ہم اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کر سکے، تنکا تنکا چن کر بنایا ہو آشیانہ آج بھی آندھیوں اور طوفانوں کے بےرحم تھیپیڑوں کی زد میں ہے، لیلائے اقتدار سے ہم آغوش ہونےوالے لوگ قومی حزانے کو دل کھول کر لوٹ رہے ہیں، اقتدار کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے ہوئے اندھوں کی طرح استعمال کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ سات دہائیوں سے جاری ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ترقی کی راہوں میں ’’شاہ کلید‘‘ کی حیثیت رکھنے والے تعلیمی نظام کے حوالے سے ناقص پالیسیاں ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر ہماری معاشرتی تباہی کا سبب مخلوط تعلیمی نظام ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دین فطرت ہے، اسلام کے قوانین نہایت واضح اور قابل عمل ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اسلامی تعلیمات سے بغاوت کر لی ہے اور جدیدیت کے نام پر مخلوط تعلیمی نظام کی شکل میں ایک ایسا ناسور پال لیا ہے جس نے اب رسنا شروع کر دیا ہے، اس کے واضح اثرات ہمارے معاشرے پر نظر آتے ہیں کہ کہیں ساتویں کلاس کا طالبعلم استانی سے محبت پروان نہ چڑھنے پر خودکشی کر رہا ہے تو کہیں میٹرک کے ہم جماعت لڑکا اور لڑکی دریائے عشق عبور کرتے ہوئے موت کی گھاٹ اترتے ہیں۔ مگر اس میں ان بچوں کا کوئی خاص قصور نظر نہیں آتا کیونکہ جو عمر بچوں کی کھیل اور ہنسی مذاق کی ہوتی ہے، جس عمر میں بچے عشق کی ع اور ش سے بھی ناواقف ہوتے ہیں، موت سے آشنائی تو دور جو عمر زندگی کا عکس ہوا کرتی ہے، وہ عمر جس میں ذہن کچا ہوتا ہے، اس عمر میں اگر 21 سے 22 سالہ خوبصورت نوجوان لڑکی ہر روز استانی کے روپ میں سامنے آتی ہو تو ایسے واقعات ہونا قرین قیاس ہے۔

مخلوط تعلیمی نظام بلاشبہ ہمارے معاشرے کے لیے بہت بڑی لعنت ہے۔ مخلوط تعلیمی نظام کے چاہے ہزاروں فائدے ہوں مگر اس کی ایک قباحت ہی اس کی تمام خوبیوں پر پانی پھیرتی ہے اور وہ ہے عورت کی عصمت، عفت اور حیا کی ارزانی۔ بحیثیت مسلمان ہماری تہذیب تو ہمیں اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتی کہ عورت ننگے سر، بغیر پردہ کے گھر سے باہر نکلے، کجا یہ کہ عمر کے اس دور میں جب نسوانی جذبات اپنے عروج پر ہوتے ہیں، وہ نوجوان لڑکوں کے درمیان بیٹھ کر تعلیم حاصل کرے، اور بےتکلفی سے آزادانہ میل جول رکھے، اور وہ بھی اس حالت میں کہ ایسے حیاسوز ملبوسات زیب تن ہوں، کہ ایک عابد و زاہد، شب زندہ دار بھی اگر اتفاقیہ دیکھ لے تو ایک بار ضرور ٹھٹک کر رہ جائے۔ جب یہ توبہ شکن قربتیں جو چند دنوں میں رنگ لاتی ہیں تو فحاشی کے سینکڑوں باب کھلتے اور رومان کے ان گنت افسانے جنم لیتے ہیں جو کسی قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

مخلوظ تعلیمی نظام کے حوالے سے بے شمار دلیلیں سیکولرازم کے خواہش مند ماہرین تعلیم بیان کرتے ہیں۔ ایک دلیل یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ایسے تعلیمی نظام سے لڑکوں اور لڑکیوں میں مقابلے کی فضا پیدا ہوتی ہے، جو ان کے لیے حصول تعلیم میں لگن کا باعث بنتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے ’’جب کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے‘‘

اب اگر موجودہ دور کے کالجز اور یونیورسٹیوں کے ماحول کا جائزہ لیا جائے تو کالجز اور یونیورسٹیوں کے ہر کونے میں نوجوان جوڑے مسکراتے اور اٹھکیلیاں کرتے نظر آتے ہیں، اکثر و بیشتر انہوں نے ہاتھوں میں ہاتھ بھی ڈالے ہوتے ہیں اور ان کے درمیان خوب مقابلے کی فضا پیدا ہو رہی ہوتی ہے، اب وہ فضا رومان لڑانے کی ہو یا بےحیا حرکات کی ہو، مقابلہ ضرور ہو رہا ہوتا ہے۔

مخلوط تعلیمی نطام کے حوالے سے ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ تعلیم صرف مختلف کتابوں کو پڑھ کر امتحان پاس کر لینے کا ہی نام نہیں بلکہ افراد کے کردار کی نشوونما اور زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تجربات حاصل کرنے کا نام ہے، اس لیے تعلیمی اداروں میں گھر جیسا یعنی ’’ بھائی بہن‘‘ کی طرح کا ماحول بہت ضروری ہے جو صرف مخلوظ تعلیم ہی فراہم کرتی ہے ۔

ماتم کرنے کا جی کرتا ہے ایسے لوگو ں کے عقل پر جو لڑکیوں کو حیاء سوز لباس زیب تن کروا کے گھر سے تعلیمی اداروں میں بھائی بہن جیسا ماحول بنانے کے لیے بھیجتے ہیں، اور پھر خوب گھر جیسا ما حول بن رہا ہوتا ہے کالجز اور یونیورسٹیوں میں، جب کوئی دوشیزہ یونیورسٹی گیٹ سے اندر داخل ہوتی ہے اور پلک جپھکتے ہی دس لڑکوں کی لائن اس کے پیچھے ہوتی ہے، جو شاید اس کے بھائی ہونے کے ناتے اسے کلاس تک چھوڑتے ہیں، اور پھر اکثر ان بھائیوں کی زبان سے ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے’’ کیا چیز ہے یار‘‘۔

میرے خیال میں اس نظام کی سب سے اہم دلیل یہ بنتی ہے جو اکثر بیان کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے، وہ یہ کہ اس تعلیمی نظام کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں ہریالی رہتی ہے، تقریبات میں رنگینی ہوتی ہے، اساتذہ اور طلبہ کا پڑھائی میں دل بھی لگا رہتا ہے۔ اب اگر اس نظام کو ختم کر دیا جائے تو ان تعلیمی اداروں میں رہ ہی کیا جاتا ہے؟ آخر ’’وجود زن سے ہے تو ہے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی کائنات میں رنگ‘‘۔

مخلوط تعلیمی نظام میں خواہشات نفس کی تسکین، آنکھیں سینکنا، ملاقات کے مواقع، پیار کی کہانیاں، شادی کے عہد و پیما ن اہم حصہ ہیں، اور یہی اس نظام کی دلیل بھی ہے۔
مخلوظ تعلیمی نظام سم قاتل ہے، مگر اس کا مطلب قطعاََ یہ نہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم ضروری نہیں۔ اسلام نے عورت اور مرد دونوں کی تعلیم کو لازمی قرار دیا ہے۔

عورتوں کی تعلیم بہت ضروری ہے لیکن خالصتاََ اسلامی نقطہ نظر سے کیونکہ اولاد کی تربیت اور کردار سازی میں بھی سب سے اہم کردار عورت کا ہوتا ہے۔ ماضی میں مسلم خواتین نے اسلامی دائرہ کار میں رہ کر نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔ علم و فضل میں اپنا مقام پیدا کیا ہے اور اولاد کی تعلیم و تربیت میں بھی روشن مثالیں قائم کی ہیں، امام ابوحنیفہ ؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ، سلطان صلاح الدین ایوبیؒ، شاہ ولی اللہؒ، علامہ اقبالؒ وغیرہ اس کی نمایاں دلیل ہیں ۔

یہ مخلوط تعلیمی نظام کا ہی نتیجہ ہے کہ آج اس پائے کے لوگ پیدا نہیں ہو رہے اور نہ ہی اس تعلیمی نظام سے اس طرح کی کوئی امید کی جاسکتی ہے۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم علی حسنین نقوی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.