68

مسلم دشمن آر ایس ایس کے ساتھ، ہمارے بھی اپنے دشمن بنے ہیں !

ملکی آزادی کی طرح دستوری آزادی کی خاطر مسلمانوں کو بھی پہل کرنا ہوگا.

کہتے ہیں کھلادشمن نظر آتا ہے مگر چھپا دشمن نظر نہیں آتا۔ دراصل یہ منافقین ہیں. یہ آستین کے سانپ کہلاتے ہیںَ یہ ہر دور میں ہوئے. یہ ملت اسلامیہ میں فتنہ و فساد کا باعث ہوا کرتے ہیں. انہیں دشمنان اسلام کی ہر طرح سے پشت پناہی ملا کرتی ہیں. شاعر اسلام علامہ اقبال، ان منافقین کیلئے کہہ گئے

جعفر از بنگال صادق از دکن
ننگ دین ننگ ملت ننگ وطن

ایک طرف آستین کے سانپ اور منافقین ملت اسلامیہ کو زک دیتے آئے ہیں تو دوسری جانب آر ایس ایس جیسی ہندوتوا وادی جماعتیں ملت اسلامیہ ہند کے ساتھ، دشمنانہ کردار ادا کرتی آئی ہے. ملت کے منافقین کو پہچاننا انتہائی ضروری ہے. ہم سمجھتے ہیں کہ ان سے سب واقف ہیں، دراصل ایسا نہیں ہے. ہمارے خواص کو بھی اس سلسلے میں، اس قدر واقفیت نہیں ہے. جتنی ہونا چاہیے.منافقین کا کردار یہی رہا کہ وہ ملت کی صفوں میں شامل ہوکر ,بنام اسلام ,ملت کو زک پہنچاتے رہیں ,

کون نہیں جانتا کہ ہندوتوا وادی آر ایس ایس،اسلام اور مسلمانوں کی کس قدر دشمن ہے. 1924 کو اپنے روز قیام سے ملک بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنانے پر تلی ہے. اسے ملک کے قاعدے قانون، دستور پر اعتماد و یقین نہیں ہے. ملک کا دستور، ملک کے ہر شہری کو برابری، مساوات اور مذہبی سماجی آزادی کی ضمانت دیتا ہے. ملک کے دستور میں ہندوستان کا کچھ نہیں ہے، سب باہر کا ہے.

اس میں ہندوؤں کی مذہبی کتاب ” منوسمرتھی” کی باتیں ہونا چائیے، ایسا آ ر ایس مانتی آئی ہے. یہ دستور کو بدلنا چاہتی ہے. آر ایس ایس نے اپنے روز قیام سے آج تک ملک کے مسلمانوں کو انتہائی زک پہنچائی اور پہنچاتے آئے ہیں. یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں. مذہب اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے آر ایس ایس کے خیالات ڈھکے چھپے نہیں ہیں.

وہ مسلمانوں کو ہندوستان کا دوسرا شہری مانتی آئی ہے. صرف اسلام اور مسلمانوں کے نام سے ہی نفرت نہیں بلکہ اسلامی شریعت سے بھی اسکو ناپسندیدگی ہے. ہندوتوا وادی آر ایس ایس کی متعدد ذیلی تنظیمیں ، سماجیت اور ثقافت کا لبادہ اوڑھ کر، ، سماجی تانے بونوں کو توڑتی آئی ہے.

ہندو مسلم فسادات میں آر ایس ایس و اسکی ذیلی شاخیں نمایاں کردار اداکرتی آئی ہیں. ملک کی آزادی کے بعد سے آج تک ہزارہا فرقہ وارانہ فسادات ہوئے. فسادات کے بعد سرکاری تحقیقاتی کمیشنوں کی رپورٹ ظاہرکرتی ہیں کہ ان فسادات میں ہندوتواوادی آر ایس ایس اور اس کی ذیلی شاخوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا. انتہائی چالاکی، عیاری کے ساتھ ایک منظم طریقہ سے کسانوں، دلتوں، آدی واسیوں، پسماندہ طبقات اور سیاست زندگی کے متعدد شعبوں میں، سماجیت. ثقافت کے نام پر گھس پیٹھ بنا چکی ہے. ان کا استعمال وہ مسلمانوں کے خلاف کرتی آئی ہے. اکثر ہم جسے ہندو مسلم فسادات کہتے ہیں. پسماندہ اور دلت طبقات بنام ہندو اس میں شامل ہوا کرتے ہیں.جسے ہندوتوا واد کی سر پرستی ملا کرتی ہے.

اس ہندوتوا واد میں پسماندہ اور دلت طبقات کی فلاحی کے لئے کچھ نہیں ہے. کیوں کہ ہندوتواوادی اور برہمن وادی، ہندو مذہبی کتابوں بالخصوص ” منو سمرتی”پرچلنے کا عہد کئے ہوئے ہیں. چھوا چھوت، اونچ نیچ، ذات پات، منو سمرتی” کا حصہ ہیں. ہزاروں، سینکڑوں سالوں سے دلتوں کی عزت آبرو، جان و مال کی بربادی، برہمن وادیوں کے ہاتھوں ہوتی آئی ہے. جو اب تک دنیا دیکھ رہی ہے. یہ سب کچھ دستوری تحفظ کے باوجود ہو رہا ہے.

یہ ہندوتوا واد، برہمن واد کا بہیمانہ کردار تھا اور ہے کہ نمایاں دلت لیڈر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے کہا تھا کہ وہ ہندو پیدا ہوئے ہیں مگر ہندو مرنا نہیں چاہتے اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں معتقدین کے ساتھ بدھ دھرم قبول کر لیا. دلتوں کو مسلمانوں سے گمراہ کرنے کے لئے، ہندوتوا دی لیڈران یہ کہتے آئے ہیں کہ اونچ نیچ، چھوا چھوت ذات پات مسلمانوں کی دین ہے. ملک کے عوام کے سامنے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف، گمراہی پھیلانا، ہندوتواوادی، برہمن وادیوں کا، سال ہا سال سے شیوا رہا ہے. وہ یہ کہتے آئے ہیں.

مسلمانوں کو وندے ماترم پڑھنا اور بھارت ماتا کی جے کہنا ہو گا، مسلمانوں نے ملک میں اونچ نیچ، ذات پات، چھوا چھوا چھوت کی ایجاد کی. مسلمان دیش دروہی ہیں،
آر ایس ایس مسلمانوں کے خلاف پورے ملک کے عوام میں سخت اور شدید ترین گمراہی پھیلانے میں، سر فہرست اور آگے آگے ہے.

ملک کی آزادی کے بعد سے، آج تک، ملک کو جتنے بھی نقصانات ہوئے. اس کی خاص الخاص وجہ آر ایس ایس اور اس کا ہندوتوا واد ہی ہے۔
آر ایس ایس مسلمانوں ہی کی نہیں ملک کے سارے پسماندہ دلت طبقات کے ساتھ ساتھ ملک کی خاطر خواہ آبادی کی دشمن ہے. ملک کی تحریک آزادی کی یہ دشمن رہی، آزادی کی تحریک میں اس کا کوئی کردار نہیں رہا. اک ہندوتوا وادی، جس کا تعلق آر ایس ایس سے رہا جس کا نام نتھو رام گوڈسے رہا، اس نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا، عدل و انصاف ، مساوات اور آئین و دستوری آزادی کی بات کرنے والوں سے نفرت ہے ، وہ انہیں راستوں سے ہٹانا خوب جانتی ہے.

کسی کی زندگی سے کھیلنا اس کے لئے کھیل ہے.بے پناہ شرانگیزی کی بناپر آر ایس ایس کو ملک دشمن اور غدارون ک پارٹی سیمنسوب کیا جاتا ہے .آج ملک جس پر آشوب دور سے گذر رہا ہے ایسا کبھی نہ تھا، ہندو تو واد کی شدت سے ملک کے عوام کی خاطر خواہ آبادی کو زک پہونچ رہی ہے، وہ اس کے خلاف میدان عمل میں ہیں، صرف کمزور پسماندہ طبقات، دلت، ادی واسیوں، اقلیتوں اور مسلمان ہندوتوا د کے خلاف پورے ملک میں میدان عمل میں ہیں بلکہ مہنگائی، بے کاری، نوٹ بندی،جی ایس ٹی کی بناء پر ملک کی خاطر خواہ آبادی ہندوتوا وادی مودی سرکار کے خلاف ہے، جس کا پہلے ہمیں اس قدر یقین نہیں تھا. ہندوتوا واد پر، عوامی غیض و غضب ہے کہ وہ دن بدن، لمحہ لمحہ بڑھتا نظر آر ہا ہے، اللہ کرے کہ وہ ایک ایسا سیلاب بنے کہ اس میں ہندوتوا واد خس و خاساک کی طرح بہہ جائے. اس وقت ملک میں ملک دشمن ہندوتوا وادی آر ایس کے خلاف کسی بھی وقتوں سے زیادہ، اہم ترین لڑائی شد و دیگر کے ساتھ جاری ہے. اس لڑائی میں مسلمان بھی شامل ہیں، مگر جیسی عملی دلچسپی لینا ہے ، ویسا نظر نہیں آتا۔

دین اسلام نے مسلمانوں کو متحد رہنے کی تعلیم دی. اس کے فائدے اور نقصانات بھی بتلائے. مسلکی انتشار تھا کہ ماضی میں ملت اسلامیہ، کئی بار عظیم اور بڑی تباہی سے دوچار ہوئی.

ورنہ دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے

ملی اتحاد کی بناء پر ہم ایک دنیا میں سرخرو ہوکر رہے. تقریباً سات سو سالوں تک اندلس میں انتہائی شاندار طریقہ سے حکومت کی، مگر آپسی نا اتفاقی اور انتشار ، نے انتہائی ذلالت کے ساتھ، ہماری حکومت ختم کردی،کہ آج وہاں کوئی مسلمان نہیں رہا. ہماری بناءںں، وہاں مساجد تو ہیں مگر ان میں مورتیاں آ گئیں ہیں. اسپین، قسطنطنیہ,اندلس میں شاندارمسلم حکومتوں کو زوال کیسے آیا، یہ جاننے کے لئے ہندوتوا وادی، اس کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ وہی مسلمانوں کی زوال کی تاریخ، ہندوستان میں بھی دہرائی جائے .نا اتفاقی، مسلکی لڑائی کی بناء4 وقت کا ظالم چنگیز خاں ، بغداد میں گھس آیا. جبر وتشدد کا بغداد میں اک سیلاب آگیا. ظلم کی ایک تاریخ مرتب کر دی. یہ سب آپسی نا اتفاقی و بے پناہ مسلکی لڑائی کی بناء پر ہوا.

ہندوتوا ملک کا دشمن ہے. ملک کی ترقی و تعمیر میں سالہا آل سے آڑے آتا رہا ہے. یہ ملک مسلمانوں کا بھی ہے. ملک کی تعمیر، ترقی، سالمیت، بناء کے لئے، مسلمانوں کا کردار بھی انتہائی شاندار رہا. جس کی اک مستند تاریخ ہے. اوروں کے لئے ملکی آزادی، ملکی فریضہ تھی مگر مسلمانوں کے لئے مذہبی فریضہ تھی، علمائے دین نے انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کو جہاد قرار دیا. تاکہ ملک آزاد ہو. ہزاروں علمائے دین اور لاکھوں مسلمانوں نے ملک کی آزادی کی خاطر پھانسی کے تختہ کو چوما. جنگ آزادی اول بہادر شاہ ظفر ایک مسلمان بادشاہ کی قیادت میں لڑی گئی. اس لڑائی میں ملک کے ہندو مسلمان کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے تھے.

ملک آزاد ہوا.ملک کے بزرگوں نے ملک کے حالات کو بخوبی سمجھتے ہوئے، ملک کا نظام حکومت سنبھالنے کے لئے ایک بہترین دستور مرتب کیا، جو نمایاں طور پر عدل وانصاف، مساوات، ہر اک کو یکساں مذہبی، سماجی، آزادی جیسی اعلی باتوں سے مزین ہے. یہ نمایاں طور پر ہندوتوا واد ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک، ملک کے عوام کو دستوری آزادی مل نہ سکی. جس کا خمیازہ بڑے پیمانے پر ملک کے کمزوروں، کسانوں، ادی واسیوں، دلتوں، اقلیتوں، مسلمانوں کو بھی سالہا اٹھانا پڑ رہا ہے. اب تو تن تنہا مرکز اور ملک کے متعدد صوبوں میں ہندوتوا دی آر ایس ایس کی حکومت ہے. جو قاعدے، قانون، دستور ہند کو نہیں مانتی، ہندوتواوادی دوسری سیکولر پارٹیوں اور اقتدار میں گھس پیٹھ کے ذریعہ ہندوتوا واد پر چلا کرتی آئیں ہیں۔.

آج ہندوتوا واد مکمل طور پر اپنے شیطانی ایجنڈے پر چلنے پر آزاد ہے کہ ملک کی مرکزی اور متعدد صوبوں میں ہندوتواوادی حکومتیں ہیں۔اس کے خلاف پورے ملک مین ایک لہر آتی دکھائی دے رہی ہے.

ملک کو تباہی بربادی سے بچانے کے لئے مسلمانوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہے. یہ دستوری آزادی کی لڑائی ہے. مسلمانوں نے ملک کی آزادی میں نمایاں حصہ لیا. اسی طرح ملک کی دستوری آزادی کی خاطر بھی حصہ لینا اشد ضروری ہے. یہ وقت کا تقاضہ ہے.

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وصلعم اک ہی امت اسلامیہ دے گئے تھے، ہم نے اسے تقسیم در تقسیم کردیا. ہم کس قدر مسلکوں میں بنٹ گئے. اسکے نقصانات بھی تاریخ کے صفحات میں مستند طور پر محفوظ ہے.

عالمی سطح پر دشمنان اسلام ملت اسلامیہ کو آپس میں لڑانے، تقسیم کرنے میں لگے ہیں . شام، عراق، پاکستان، افغانستان وغیرہ جیسے مسلم ممالک میں، کس قدر بڑے پیمانے پر مسلمان ایک دوسرے کا قتل عام کر رہے ہیں امریکہ اور یورپ کے بیشتر ممالک منظم طور پر اپنے ” نئے عالمی نظام ” اورً دہشت کے خلاف جنگ” جیسے نام نہاد منصوبوں کے تحت دنیا کے متعدد مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں. اسی کے ساتھ ساتھ مسلکوں کے نام پر بذات خود مسلمان کس طرح اک دوسرے کے خلاف جنگ اپنے ملک ہندوستان میں بھی کر رہے ہیں. وہ ہم مسلمانو ں کے لئے قابل فکر ہے.

ورنہ داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں.

کہیں پاکستان,افغانستان,عراق,شام ودوسرے مسلم ممالک کی طرح,بڑے پیمانے پر ,ہم مسلمان ہندوستان میں بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑ,کٹ,مر نہ جائیں. ہم مسلمانوں میں مسلک مسلک کی لڑائی پہلے سے کہیں ذیادہ دکھائی دے رہی ہے, ایک طرف بڑے پیمانے پر ,ملک میں کسی بھی وقتوں سے زیادہ,مسلمان , ہر طرح سے ہندوتوا کے ہاتھوں عزت وآبرو, جان ومال کی عزیمت اٹھا رہاہے. اسے ہمارے ملی اتفاق ,اتحاد سے روکنے کی کوشش کی جاسکتی ہے. ہماری اسلامی شریعت نے اتحاد کا درس دیا ہے.نفاق کی بنائی پر کمزور اور اکھڑ جانے کی بات کہی ہے. ہماری روز مرہ کی زندگی میں مسلمانوں میں نفاق,نا اتفاقی بڑھتے جارہی ہے.نکاح شادی بیاہ,تدفین اور متعدد معاملات میں مسلمانوں میں دین اسلام سے ہٹ کر چلن عام ہوتا جا رہا ہے, مسلمانوں کی اصل قوت ان کا ایمان اور اتحاد ہے۔

آج مسلمانوں میں طلاق، طلاق کے نام پر، بابری مسجد کے نام پر، تبلیغی اجتماع اور مسلم پرسنل لاء بورڈ و دیگر مسائیل کے نام پر، اپنے ہی لوگ ملی اتحادواتفاق پر شب خون مارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسلام میں منافق، میر جعفر، میر قاسم کہاں نہیں تھے ؟

نور شمع الہی کو بجھا سکتا ہے کون
جس کا حامی ہو خدااسے مٹا سکتا ہے کون
انشاء اللہ!

(تحریر سمیع احمد قریشی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.