85

پاکستان مستقبل قریب کی‌ (انشاءاللہ) بڑی معاشی طاقت!

پیو ریسرچ سینٹر امریکا کا ایک تحقیقی ادارہ ہے۔ یہ ادارہ سیاسی، سماجی، معاشی،معاشرتی، صحافی اور مذہبی بنیادوں پر مختلف ممالک کے سروے کرتے رہتا ہے۔ یہ ایک مستند اور معروف تحقیقی ادارہ ہے۔ اس پیوریسرچ سینٹر نے ایک ماہ پہلے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی۔ یہ رپورٹ پوری دنیا بالخصوص پاکستان کے دشمن ممالک کے لیے کسی بم سے کم نہیں تھی۔ پیوریسرچ سینٹر نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا پاکستان دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جن کا معاشی گراف تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر نے پاکستان کو پچھلے ایک سال کے دوران معاشی حالت میں بہتری آنے کی وجہ سے پانچ بہترین اکانومی میں رکھا ہے۔ اس سروے 47 فیصدلوگوں نے کہاپاکستان کی معیشت کوبہترقرار دیا۔ یہ شرح 2014ء کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے۔ 48 فیصد پاکستانیوں نے اگلے سال پاکستان کی معاشی حالت میں مزید بہتری آنے کی امید کا اظہار کیا۔ایک اور عالمی ادارہ ہے بلوم برگ۔ یہ ادارہ بھی مختلف شعبہ جات میں سروے کرتے رہتا ہے۔

اس ادارے نے بھی ایک ماہ قبل اپنی پاکستان کو دنیا کی 10بہترین معاشی ترقی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معاشی اصلاحات،عالمی مالیاتی اداروں سے بہتر تعلقات کی وجہ سے معیشت کو فروغ ملا۔ اسی طرح آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کی ریٹنگ کو بہتر قرار دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان میں افراط زر اور شرح سود میں کمی جبکہ کریڈٹ ریٹنگ میں اضافے کاا ظہار کیا۔ ادارے کا کہنا ہے پاکستان دہشت گردی اور سیاسی افراتفری کے باوجود تیزی سے معاشی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اور حکومت نے اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجودمعیشت کو درست سمت پر گامزن رکھا۔ پاکستانیوں کی قوت خرید بڑھ رہی ہے۔ حکومت نے شہروں کے ساتھ دیہات کی ترقی پر بھی زور دیا۔ پاکستان 232 بلین ڈالر کی معاشی طاقت بن چکا ہے۔اسی طرح موڈیز، اسٹینڈرڈز اور پورز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو بڑھا دیاہے۔

یہ بھی حقیقت اپنی جگہ برملا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے باوجود کراچی اسٹاک ایکس چینج نے ایک سال میں16فیصد شرح نمو حاصل کی۔ اسٹاک ایکس چینج دنیا کی 10بہترین مارکیٹوں میں شامل ہوگئی۔ عالمی مالیاتی ادارے کی اس رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد قرضوں کی ادائیگی کا مسئلہ حل ہو گیا۔ شرح سود بھی 42 سال کی سب سے کم ترین سطح پر آگئی۔ سیمنٹ، تعمیرات اور اسٹیل کے شعبوں میں تیزی سے ترقی ہوئی، بڑی بڑی کمپنیوں کے کاروبار میں دن دگنا رات چگنا اضافہ ہوا۔ ملک کی مجموعی معاشی ترقی میں اگلے سال مزید بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ مہنگائی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے اور اس میں مزید کمی کے آثار ہیں۔ مالیاتی خسارہ مزید کم ہو گا اور ٹیکس وصولی کی شرح میں بھی بہتری کے امکانات ہیں۔دو برس کی اس جائزہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستانی معیشت جو شدید معاشی بحران کی دہلیز پر کھڑی تھی موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے اب اس بحران کے خدشے کا سامنا دکھائی نہیں دیتا۔ اسی طرح اقوام متحدہ نے بھی پاکستانی معیشت میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق رواں سال معاشی ترقی کی شرح 5.1فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ دو ہزار چودہ میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 4.1 فیصد تھی، لیکن حکومت کی مثبت پالیسیوں سے معاشی استحکام کی راہ ہموارہو گئی ہے۔مہنگائی کی شرح میں کمی اور مالی خسارہ محدود ہونے کے واضح اشارے ہیںاور معاشی ترقی کے سبب بین الاقوامی منڈیوں میں بھی پاکستانی معیشت پراعتماد بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح پلڈاٹ نے اپنے سروے رپورٹ میں متعدد شعبوں میں اہداف کے حصول پر تصدیق کی مہر ثبت کی ہے۔ پچھلے مہینے ہی ایک امریکی جریدے ’’فوربز‘‘ نے پاکستانی معیشت کو مستحکم قرار دیا ہے۔ جریدے نے اس امر کاا ظہار کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر معاشی طور پر مضبوط ہونے والا ملک ہے اور پاک امریکا معاشی شراکت داری 70 سالوں پر محیط ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف اپنی قابل کابینہ کے ساتھ مل کر بڑے فیصلے کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف حکومت، فوج اور عوام ایک ساتھ ہیں۔ امن و سلامتی کو یقینی بنایا جا رہا ہے جس سے پاکستان میں تیزی سے معاشی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں۔

یہ عالمی اداروں کی جائزہ رپورٹ کا احوال ہے۔ یہ وہ اعترافات ہیں جن میں ہمارا شاندار مستقبل چھپا ہے۔ یہ حقیقت ہے موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد معاشی شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ بالخصوص کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے ناسور کو ٹھیک کرنے پر توجہ دی گئی اور گزشتہ ایک سال کے دوران کراچی کے امن میں بڑی حد تک بہتری دکھائی دے رہی ہے۔ اسی طرح ملک بھر میں دہشت گردی کے قلع قمع کے لیے ضرب عضب آپریشن کا تریاق ڈھونڈا گیا اور اس آپریشن نے ریاست مخالف عناصر کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ساتھ ہی ساتھ حکومت نے تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دی۔ ملک کے چاروں اور سڑکوں کا جال بچھا دیا۔ اقتصادی راہداری کا بین الاقوامی سطح کا روٹ شروع کر دیا جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ وہ لوگ جو اپنا کاروبار لپیٹ کر نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا جا رہے تھے یا جا چکے تھے وہ دوبارہ پاکستان میں آنا شروع ہو گئے۔ ملکی خزانے کی تباہ حالی کے لیے ٹیکس وصولی کا نسخہ کیمیا تلاشا گیا اور اس میں تاریخی اہداف حاصل کیے گئے۔ چوروں اور لٹیروں کا قلع قمع کیا گیا۔ بجلی چوروں کو حراست میں لیا گیا اور ملک کو درپیش بجلی کے سنگین بحران کے حل کے لیے وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی نے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نصف کر دیا۔ درجنوںپاور پراجیکٹ کی تعمیر شروع کر دی گئی اور حکومتی اہداف کے مطابق 2018ء میں پاکستان سے لوڈشیڈنگ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیبرباد کہہ دیا جائے گا۔ یوں اگر دیکھا جائے تو حکومت کی شبانہ روز کاوشوں اور قابل کابینہ نے ملک کو معاشی طور پر اپنے پائوں پر کھڑا کر دیا ہے۔ مجھے یقین ہے اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ اپوزیشن بالخصوص نادیدہ طاقتوں نے اس جمہوری نظام کو چلنے دیا تو نوازشریف کابینہ اگلے اڑھائی برسوں میں پاکستان کو حقیقی ایشین ٹائیگر بنا دے گی کیونکہ اس ملک میں ہر طرح کا جوہر موجود ہے۔ یہ ملک اگر صرف دو برسوں میں دنیا بھر کی بڑی معیشتوں کے مقابل کھڑا ہے تو اگر اس ملک میں یہی سلسلہ دس بیس سال جاری رہے تو مجھے سو فیصد یقین ہے یہ ملک دنیا کی تیز ترین معاشی طاقت بن جائے۔ یہاں ذہین لوگ ہیں۔ یہاں پڑھے لکھے افراد بھی ہیں۔ قابل انجینئر، فطین ڈاکٹر، اعلیٰ دماغ بیوروکریٹس، وزراء و مشیران ہیں، اس قوم میں جذبہ بھی ہے اور بے پناہ پوٹینشل بھی۔ بس اگر کسی چیز کی کمی تھی تو وہ تھی مخلص، دیانتدار اور محب وطن لیڈر شپ۔ اب اللہ کے کرم سے موجودہ حکمران اس ملک کے لیے کچھ کرنے کے جذبے سے سرشار دکھائی دیتے ہیں۔ خدا کرے یہ ملک اسی طرح منزلیں طے کرتا ہوا معاشی استعارہ بن جائے، مگر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان مخالف قوتوں کو اس وطن عزیز کی یہ ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ یہ کبھی افغانستان کے راستے اور کبھی ورکنگ بائونڈریز سے ہمارے خوابوں کو چکنا چور کرنے کی سازشوںمیں مبتلا ہیں۔ یہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر دوطرفہ جال بن رہے ہیں۔ ہمیں معاشی اہداف پر نظر رکھتے ہوئے ان دشمن قوتوں پر بھی نظر مرکوز کرنا ہوگی۔ ہمیں ہر حال میں اقتصادی راہداری کی تکمیل کرنا ہو گی۔ یہ تاریخ کا عظیم موقع ہے کیونکہ قدرت باربار یہ موقع فراہم نہیں کرتی۔

سوچیے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم الف اللہ/انوار الحق)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.