129

پر اسرار سی پیک !

5جون 2013ء کو حالیہ مدت کے پہلے پارلیمانی سیشن میں نو منتخب قائد ایوان اور اس وقت کے وزیر اعظم نے اپنی پہلی تقریر میں پاکستان اور چین کے درمیان بڑے تجارتی معاہدوں کی نوید سنائی،بعد ازاں 2014ء میں چینی صدر کے پاکستان کے دورے میں ان تجارتی معاہدوں کی خوشخبری نے پاک چین اقتصادی رہداری کی شکل میں حقیقت کا روپ دھارا۔حکمراں جماعت نے اس منصوبہ کو ترقی کی کنجی قرار دیتے ہوئے اس کے ممکنہ منافع کی خوب تشہیر کی، 24 ارب کی سرمایہ کاری،صنعتوں کا قیام،گوادر پورٹ کی بحالی اور شاہراہوں کا مربوط جال بچھانے کا ذکر کیا گیا۔ ملک کی معاشی زبوں حالی کے پیش نظر اس منصوبے کو ترقی کاضامن سمجھا گیا، حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس منصوبہ پر تنقید سے گریز کیا ،میڈیا نے بھی بے جا نکتہ چینی سے احتراز کیااور یوں اس منصوبے نے تقدس کی ایک چادر اوڑھ لی جس کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو غداری سے تعبیر کیا گیا۔اپوزیشن کے دھرنوں سے لیکر وائٹ ہاوس میں ہونے والے اجتماعات تک،خودکش حملوں سے لیکر بھارتی شرارتوں تک ،ہر شے سے ہمیں اس مقدس منصوبہ کے خلاف سازش کی بو آنے لگی۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ (CPEC) اس مصنوعی حساسیت کی وجہ سے ایک پوشیدہ راز بن گیا، اور قوم کی نظران ضروری نکات کی جانب سے ہٹ گئی جو اب معمہ کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔

سی پیک کا سب سے بڑا معمہ اس کی پراسراریت ہے ،ابہام کا آغاز ان منصوبوں سے ہوتا ہے جن کے متعلق یہی واضح نہیں ہوتا کہ وہ سی پیک کا حصہ ہے یا نہیں،لاہور میں اورنج لائن ٹرین منصوبہ پر اس حوالے سے حکومتی بیانات میں تضاد تھا۔سی پیک میں شامل منصوبوں کی تفصیلات بھی صیغہ راز میں ہے،چنانچہ یہ معلوم نہیں ہورہا کہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے چین سے کتنا قرض لیا جارہا ہے،کونسے منصوبے سرمایہ کاری کے ضمن میں ہے اور کونسے منصوبے قرض حاصل کرکے مکمل کیے جارہے ہیں،اگر قرض حاصل کیا جارہا ہے تو اس پر شرح سود کتنی ہے،اور کیا واقعی یہ منصوبے اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کے لیے قرض حاصل کیا جائے،بالخصوص ان حالات میں جہاں وزارت خزانہ کی ناکامیوں کے باعث ملک پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے،روپے کی قدر میں مسلسل کمی آرہی ہے ،قرضوں کے عوض قومی اثاثے گروی رکھوائے جارہے ہیں،ان حالات میں مزید قرض کے حصول کا فیصلہ انتہائی سوچ سمجھ کر عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا چاہیے تھا،لیکن حالت یہ ہے کہ عوام تو درکنار پارلیما ن کو بھی ان “پراسرار”معاہدوں کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔قرضوں کے متعلق اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے قرضوں کا حصول معاشی بدحالی سے بیشتر ملکی سلامتی و دیگر اہم امور سے بھی تعلق رکھتا ہے،قرضوں کے حصول کا یہ جواز پیش کرنا کہ امریکا ہم سے زیادہ مقروض ہونے کے باوجود مستحکم ہے بے محل ہے،کیونکہ امریکا ایک ترقی یافتہ اور طاقتور ملک ہے ،عالمی ادارے اپنی پالیسی امریکی مفادات کے مطابق مرتب کرتے ہیں،جبکہ پاکستان اس کے برعکس تیسری دنیا ایک ترقی پذیر ملک ہے جوعالمی اداروں سے معتوب رہتا ہے،لہذا قرضوں کے حصول کی وجہ سے عالمی اداروں کی شرائط کے اثرات پاکستان کے لیے نیک شگون نہیں ہوں گے۔اس کے علاوہ سودی قرضوں کے حصول سے شرعی نقطہ نظر سے پورا معاشرہ بے برکتی کا شکار ہوتا ہے۔سی پیک کے حوالے سے حکومتی خاموشی کے باعث منصوبے سے متعلق شکوک و شبہات تقویت پکڑ رہے ہیں،مختلف منصوبوں کے نام پر زمینیں کوڑیوں کے دام چینیوں کو فروخت کرنے کی باز گشت ہے،گودار میں چینی فوجی اڈے کا قیام عالمی صحافت کا موضوع بحث ہے۔اگر ان اطلاعات میں صداقت ہے تو سی پیک سرمایہ کاری سے زیادہ چینی نفوذ بڑھنے کا باعث نظر آرہا ہے،عالمی طاقتوں کی رسہ کشی میں پاکستان لامحالہ ایک فریق بن رہا ہے جو کہ پاکستان کے بین الاقوامی مفادات کے خلاف ہے۔

سی پیک منصوبوں میں پر اسراریت کے بعد سی پیک کا دوسرا بڑامسئلہ مقامی صنعتوں کا عدم تحفظ ہے۔مہنگی بجلی ،کسٹم کے مسائل و دیگر وجوہات کی بنا پرمقامی صنعتوں کی خام مال پر لاگت زیادہ ہوتی ہے ،جس کا منفی اثر حتمی قیمتوں پر پڑھتا ہے،اور مقامی صنعت کی تیار کردہ اشیا مہنگی ہوتی ہیں،یہی وجہ ہے کہ ہمارے صنعتیں عالمی بازار میں دیگر ممالک کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے اور ان کی تجارت پاکستان تک محدود ہے۔اس کے برعکس چین میں صنعت کاروں کو فراہم کردہ سہولیات کی وجہ سے چینی مال پاکستان سے سستا ہوتا ہے،سی پیک کی تکمیل کے بعد چینی مال باآسانی پاکستان پہنچے گااور مقامی صنعتوں کا مقابلہ کریں گا،اور سستا ہونے کی وجہ سے خریدار کی توجہ حاصل کریں گا،جس سے تباہ حال مقامی صنعت کا مزید نقصان ہوگا۔

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،تاہم حکومتی خاموشی نے اس کی شفافیت اور ملکی سلامتی پر اس کے اثرات کے حوالے سے کئی اہم سوال کھڑے کردیے ہیں ،جن کا جواب بہرحال حکومت کو ینا ہوگا۔ایسا نہ ہوکہ مقدس گائے کا درجہ دیے جانے والا یہ منصوبہ کل جب صیغہ راز سے نکلے تو مقدس سفید ہاتھی ثابت ہو!!

سوچیے گا ضرور۔۔۔

اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟

پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔

حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – اسامہ الطاف)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.