145

کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے کا فقدان کیوں؟

کچھ سال پہلے ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 36 ممالک میں شامل ہے جو آبی وسائل کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی ورلڈ واٹر ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان نویں نمبر پر شمار ہوتا ہے۔ حکومتی جائزے کے مطابق دریائے سندھ میں سال بھر 115 ملین ایکٹر فٹ کے لگ بھگ پانی دستیاب ہوتا ہے اور پاکستان کی ضرورت یہ ہے کہ اس کی سٹوریج کیپیسٹی اس دستیاب پانی کا کم از کم 40 فیصد ہو جبکہ ملک کی سٹوریج کیپیسٹی صرف سات فیصد ہے جس سے صرف تیس دن تک کی ملکی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔ حالانکہ بھارت اور مصر جیسے ممالک کی سٹوریج کیپیسٹی 200 دن سے 1000 دن تک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کو آبی ذخائر کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ اگر 2025ء تک آبی ذخائر میں اضافہ نہ کیا جا سکا تو ملک آبی قحط کا شکار ہو جائیگا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی طرف سے وزارت خزانہ کو نئے سٹوریج پراجیکٹس کیلئے فنڈنگ کے اہتمام پر کام کرنے کا کہا جا چکا ہے۔ایسے وقت میں جبکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر اتفاق رائے ناممکن نظر آرہا ہے نہ صرف حکومت کیلئے بلکہ ملک کے ماہرین کیلئے بھی ملک کی سٹوریج کیپیسٹی میں آبی ضروریات کے مطابق اضافہ کرناکسی چیلنج سے کم نہیں۔پرویز مشرف نے 2005ء میں کالا باغ ڈیم بنانے کا ارادہ ظاہر کیا مگر ڈیم مخالف شور شرابے کے نتیجے میں خاموش ہو گئے۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت آتے ہی وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کر دیا کہ ہم کالاباغ ڈیم نہیں بنائیںگے ۔

2010ء کے سیلاب متاثرین سے خطاب کے دوران وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے تسلیم کیا کہ اگر کالا باغ ڈیم بن چکا ہوتا تو یوںہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں سے جان چھوٹ چکی ہوتی۔پھر آخر کیا وجہ تھی کہ ان کی حکومت نے شروعات میںہی کالا باغ ڈیم نہ بنانے کا اعلان کرنے میں عافیت سمجھی۔ اگر ڈیم کی تعمیر مفید اور قوم کے مفادمیں تھی تو چاہئیے تھا کہ افہام و تفہیم کے ذریعے مثبت پیشرفت کی کوشش کی جاتی۔ہر صوبے کی مساوی نمائندگی پر مشتمل ماہرین کی ٹیم سے متفقہ رائے لے لی جاتی ۔ مگر اس معاملے میں صوبائی اسمبلیوں نے کچھ ضرورت سے زیادہ ہی عجلت سے کام لیا۔ قوم نے بہر حال اسمبلیوں کی ان قراردادوں کو سر آنکھوں پر رکھااور ان کا دل و جان سے احترام کیا مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر کام کے مفید یا غیر مفید ہونے کا تعین سیاستدانوں نے ہی کرنا ہے ۔کیا یہ معاملہ مساوی تعداد میں صوبوں سے لئے گئے ماہرین پر مشتمل کسی قومی سطح کے نامزد کمشن کی رپورٹ سے مشروط کئے جانے کے لائق نہیں تھا۔

واضح رہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف سندھ کے بڑے اعتراضات دو ہیں۔ان کا خدشہ ہے کہ کالا باغ ڈیم بننے سے سندھ کے حصے کا پانی پنجاب لے جائے گا اور سندھ کی اراضی ویران ہو کر رہ جائے گی۔سندھ کا دوسرا بڑا اعتراض یہ ہے کہ دریائے سندھ کے پانی کا بہائو کم ہونے سے سمندری پانی ساحلی زمینوں کو بنجر کر کے رکھ دے گا اور یہ دونوں خدشات ایسے ہیں جن پر ماہرین کی رائے زیادہ صائب ثابت ہو سکتی ہے ۔کیا کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے سندھ کے حصے کے پانی میں کمی واقع ہونا لازم ہے،کیا نہری نظام میں سندھ کو ان کے حصے کا پانی فراہم کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں۔کیا دریائے سندھ کے پانی کے بہائو میں کمی واقع ہونے سے سندھ کی ساحلی زمینوں کا سمندری پانی سے بنجر ہونا لازمی ہے اور کیا ماہرین کے نزدیک ان باتوں کا کوئی حل نہیں ۔اگر یہ سب درست مان لیا جائے تو پھر بھارت اور مصر جیسے ممالک میں اتنے بڑے بڑے آبی ذخائر کے باوجود پاکستان جیسے خدشات کا واویلا نہ ہونے کی کیا وجوہات ہیں۔

خیبر پختونخواہ کے بھی دو بڑے تحفظات ہیں۔ایک یہ کہ نوشہرہ سمیت نواحی علاقے پانی میں ڈوب جائیں گے اور دوسرا یہ کہ جھیل کا زیادہ تر حصہ خیبر پختونخواہ میں ہونے کے باوجود پنجاب بجلی کی رائلٹی کا حق مانگے گا۔ان خدشات کو بھی دور کیا جا سکتا ہے اور کسی طور سے بھی یہ اعتراضات ناقابل حل معلوم نہیںہوتے۔ ہاں خلوص شرط ہے۔ کالا باغ ڈیم کے مخالفین اگر دلائل سے بات کریں اور سنیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کا حل نہ نکل سکے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے تحفظات دور کئے بغیر ڈیم کی تعمیر نہ کی جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے اور اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔یہ ہر پاکستانی کی آواز ہے۔سندھ اور خیبرپختونخواہ کے تحفظات ہر صورت میں دور کئے جانے ضروری ہیں۔ لیکن محض ضداور دھونس کا رویہ کسی طرح سے بھی ملک کیلئے سودمند ثابت نہیں ہو سکتا۔اور یہ بے دلیل رویہ عوام کی سمجھ سے باہر بھی ہے۔

ملکی مفاد رویوں میں نرمی اور افہام و تفہیم کا متقاضی ہے۔ کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں واویلا کرنے کی بجائے یہ سیاسی لوگ قوم کو سیلاب کی تباہ کاریوں اور مہنگی بجلی کے تھپیڑوں سے بچنے کا آسان راستہ بتانے سے کیوں قاصر ہیں انہیں کیوں نظر نہیں آرہا کہ جس ملک کی نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے وہاں ایک طرف اٹھارہ روپے فی یونٹ کے حساب سے مہنگی بجلی اور اشیائے خوردونوش کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں نے غریب عوام کی کمر توڑ رکھی ہے تو دوسری طرف سیلاب کی تباہ کاریوں نے جیتے جی ان کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے ۔ ان میں اب تھرمل بجلی برداشت کرنے کی سکت باقی نہیں رہی۔ اب غریب عوام کا یہی خواب ہے کہ ملک میں اڑھائی روپے فی یونٹ کی لاگت سے 3600 میگاواٹ اضافی بجلی کی پیداوار ہو۔ تاکہ بجلی کا تصرف ان کی پہنچ سے باہر نہ ہو۔ عوام چاہتے ہیں کہ ملک کے پاس چھ اعشاریہ ایک ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو۔ تاکہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے انہیں نجات مل سکے ۔ عوام کی یہ سوچ ہے کہ سندھ کو 40 لاکھ ایکڑ فٹ ،خیبر پختونخواہ کو 20 لاکھ ایکڑ فٹ، بلوچستان کو 15 لاکھ ایکڑ فٹ اور پنجاب کو 22 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی دستیاب ہو۔


(تحریر ایم اے سہلری)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.