175

اسلام کے اصول معاشیات – سیرت کی روشنی میں۔۔۔

انسانی دنیا میں واحد رسول اکرم ﷺ کی ذات اقدس ہے جو ہر پہلو سے کامل و اکمل ہے۔ اور جو دین آپ ﷺ پر نازل کیا گیا وہ بھی کامل و اکمل ہے۔ پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے جو بہترین نظامِ زندگی آسمان اور زمین کے درمیان ہمیشہ کے لیے ہوسکتا تھا، وہ آپ ﷺ اور قرآن کے ذریعے اللہ نے عطا کیا ہے۔ آپ ﷺ نے پوری زندگی انسانیت کو پستی سے نکال کر بلندیوں تک پہنچانے کا جو بہترین فریضہ انجام دیا، اس کی کوئی نظیر ملنی مشکل ہے۔

آپ ﷺ کی مثالی طرز زندگی اور کمال طرز حکمرانی نے خطہ یثرب کو دنیا کی سب سے بہترین فلاحی ریاست میں بدل کر رکھ دیا۔ امت مسلمہ پر لازم ہے کہ اس اولین اسلامی فلاحی ریاست کے تمام پہلوؤں کو ہمہ وقت سامنے رکھے تاکہ ان مشکل ترین حالات میں اسوہ حسنہ کی روشنی میں مسائل حل ہو سکیں۔

آج ہم اگر قومی و بین الاقوامی سطح پر معاشی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں استحصالی نظام نظر آتا ہے، خود غرضانہ اور مفاد پرستانہ طرزِ عمل وہ بنیادی ناسور ہے جو عظیم اسلامی اقدر کی تخلیق، ارتقا اور استحکام کے لیے رکاوٹ ہے۔ جب انسانی طرزِ عمل اور زندگی میں حرص، لالچ، بخل و کینہ، بغض و عداوت، خود غرضی اور مفاد پرستی اور ان جیسے پہلوؤں غالب ہو جائیں تو فلاح الناس کی خاطر سول سوسائٹی اور معاشرے سے انفاق فی سبیل اللہ، نفع بخشی اور دوسری عظیم اقدار مفقود ہوجاتی ہیں۔ لازمی طور پر اس کے نتیجے میں ارتکاز دولت کا رجحان بڑھ جاتا ہے، عام آدمی معاشی کسمپرسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ نتیجے کے طور پوری معاشرت میں زندگی عدم توازن کا شکار ہوجاتی ہے اور ایسے میں خونی انقلاب بھی برپا ہوتے ہیں۔

ہم نے رسول اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ کی روشنی میں صرف معاشی انقلاب اور پہلوؤں پرگفتگو کرنی ہے جو ایک اسلامی فلاحی ریاست کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اور لازمی بھی ہیں۔ اسلام کا اقتصادی و معاشی نظام ہمہ گیر ہے۔ اس میں بہت ساری تفصیلات ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی معیشت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ ان میں درجہ ذیل امور و پہلو بہت اہم ہیں۔ معشیت اسلامی کا تصوراتی پہلو، معیشت و معاشرت کا باہمی تعلق، فلاحی معیشت کا قیام، اخلاق حسنہ اور معیشت کا باہمی تعلق اور معیشت و ریاست کا تعلق، پھر ملکیت و عدم ملکیت، جائز نفع خوری، ارتکاز دولت، مفادعامہ اور ان جیسے کئی پہلو ہیں جن کا سیرت رسول ﷺ کی روشنی میں تفصیلی مطالعہ و تذکرہ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم تنگی داماں کی وجہ سے ان تمام پہلوؤں پر مدلل اجمالی روشنی ڈالی جائے گی۔

کوئی بھی نظام زندگی کا وجود اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک اس کے پس منظر میں کوئی واضح نظریہ، تصور اور ضابطہ موجود نہ ہو۔ اسلام کا معاشی نظام بھی ان بنیادی نظریات و تصورات اور تعلیمات پر مبنی ہے جو قرآن و سنت سے میسر آتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلامی معاشی نظام کے بنیادی تصورات اور تعلیمات عطا فرمائیں جو ہر دور کے لیے رہنما اصول کا درجہ رکھتی ہیں۔اور ان کو آسانی سے نافذ العمل کیا جاسکتا ہے۔
مثال کے طور پر معاشی سرگرمیوں کی اہمیت کا اِدراک نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں معاشی سرگرمیوں کی اہمیت واضح نظر آتی ہے۔ آپ ﷺ نے احسن طریقے سے نفع مند مال کمانے کی تعریف فرمائی ہے۔

بخاری شریف میں روایت ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مال کتنا ہی اچھا ہے جو کسی نیک و پارسا انسان کے پاس ہو۔“ (بخاری ، الدب المفرد : 112، رقم : 299)

اسی طرح قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے: ولا توتوا السفہاء ا موالکم التِی جعل اللہ لکم قِیاما.(النسا، 4 : 5)
ترجمعہ: ”اور احمقوں کو تم اپنا (یا ان کے) مال سپرد نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہاری معیشت کی استواری کا سبب بنایا ہے۔

اس حدیث مبارکہ اور آیت کریمہ سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ انسانی حیات کی استواری میں مال و دولت بنیادی معاون و مددگار ہوتے ہیں۔

مسئلہ معاش اور نیکی و بدی آپ ﷺ نے مسئلہ معاش کو براہ راست انسانی زندگی میں نیکی اور بدی کا ایک فیصلہ کن عامل قرار دیا ہے۔ امام بیہقی نے یہ حدیث نقل کی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”ممکن ہے غربت و افلاس (کا رد عمل) کفر کی حد تک پہنچ جائے۔“ (بیہقی، شعب الایمان، مکتبۃ الرشد للنشر والتوزیع بالریاض ، 9 : 12 ، رقم : 6188)

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندگی کے اعتدال کو بھی معتدل معاشی سرگرمیوں سے مشروط قرار دیا۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے: ”خرچ میں اعتدال آدھی معیشت ہے۔“ (بیہقی، شعب الایمان، متکبۃ الرشد للنشر والتوزیع بالریاض، 2003 م ، 8: 503، رقم : 6148)

کسبِ معاش کی پابندی کا تصور آپ ﷺ کے دیے ہوئے تصور معیشت میں ہر شخص کو اپنی استطاعت اور طاقت کے مطابق فکر معاش اور کسب معاش کرنا لازم ہے۔ غفلت اور سستی کی اجازت قطعا نہیں ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رزق حلال کے حصول کو فرض قرار دیا ہے۔

سنن الکبری میں ہے: ”رزق حلال کی تلاش فرض عبادت کے بعد (سب سے بڑا) فریضہ ہے۔“ (بیہقی، السنن الکبری، 6 : 211 ، رقم : 11695)

اسی طرح سنن ابن ماجہ میں ہے: ”بےشک سب سے پاکیزہ (رزق ) جو تم کھاتے ہو وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے۔“ (ابن ماجہ، السنن، کتاب التجارات، باب ما للرجل من مال، 2 : 768، رقم : 2290)

ایک اور حدیث امام ابن حنبل نے نقل کی ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”تم اپنی روزی کو زمین کے پوشیدہ خزانوں میں تلاش کرو۔“ (ا حمد بن حنبل، فضائل الصحابہ، 1 : 313، رقم : 431)

آپ ﷺ کے ارشاد کہ زمین کے پوشیدہ خزانوں میں رزق تلاش کیا جائے، پر غور کیا جائے کہ اللہ نے مملکت پاکستان میں کتنے پوشیدہ خزانے چھپا رکھے ہیں۔ ان تمام خزانوں سے ہمارا رزوق وابستہ ہے۔ اسی طرح ہاتھ کی کمائی، اگر معاشرے کے افراد محنت کرنا چھوڑ دیں توایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں افراد، معاشرہ کی تخلیقی سرگرمیوں کے بجائے عضو معطل بن جائیں گے۔ سو ایسے افراد کو اسلامی معاشرہ قطعا گوارا نہیں کرتا۔

اسلام میں تجارت کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ امین اور صادق تاجروں کے لیے آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”سچے اور امانت دار تاجر کا حشر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا۔“ (ترمذی، السنن، کتاب البیوع، باب ما جا فی التجارۃ، 3 : 515، رقم : 1209)

کسبِ معاش کے بغیر انفاق فی سبیل اللہ ممکن نہیں قرآن کریم میں غریبوں، لاچاروں اور مستحقین پر خرچ کرنے کا حکم ہے، اسی کو انفاق فی سبیل اللہ کہتے ہیں۔ انفاق فی سبیل اللہ کی یہ فضیلت اور مقام تب ہی میسر آئے گا جب افراد معاشرہ حتی المقدور اپنی تمام تر توانائیوں کو حصولِ رزقِ حلال کے لیے بروئے کار لائیں گے۔ کسب معیشت اور ابتغا رزق کی اہمیت کو قرآن حکیم نے جا بجا بیان کیا ہے:
”پھر جب نماز ادا ہو جائے تو زمین میں پھیل ہو جا اور (پھر) اللہ کا فضل (یعنی رزق حلال) تلاش کرنے لگو۔ (الجمعہ، 62 : 10)“

اسی طرح ارشاد باری ہے: ”اور یہ کہ انسان کو (عدل میں) وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے کوشش کی ہوگی۔ (النجم، 53 : 39)“

اسی طرح آج دنیا کا بڑا مسئلہ مزدور بنا ہوا ہے۔ انسانی دنیا میں بڑی تفریق مزدور کے حقوق کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ ایک طبقہ مزدو کو کلی حاکمیت دیتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ برابر مزدور کا استحصال کرتا ہے۔ تاہم اسلام میں بہت واضح احکام ہیں۔ امام طبرانی نے ایک حدیث نقل کی ہے۔ علامہ ناصر البانی نے اس سے صحیح قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
”مزدور کی مزدوری اس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔“ ( طبرانی، المعجم الصغیر، 1 : 43، رقم : 34)
یہ ہے مزدور کے ساتھ دلی اور واقعی ہمدردی۔

مفادِعامہ کو اِنفرادی مفادات پر ترجیح کے بارئے میں سیرت رسول ﷺ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ ﷺ نے عامۃ الناس کے مفاد کو ذاتی و انفرادی مفاد پر ترجیح دی ہے۔ تاہم ذاتی حق ملکیت کی کبھی نفی نہیں کی۔ قرآن حکیم نے جہاں جہاں بھی انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی ہے، وہاں افراد معاشرہ کی ملکیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ ترغیب دی گئی ہے. قرآن کریم میں ہے:
”اور ان کے اموال میں سائل اور محروم (سب حاجت مندوں) کا حق مقرر تھا. (لذاریات، 51 : 19)“

اسلام نے انفرادی حق و مفاد کو تسلیم کیا تاہم کسی فرد یا جماعت کو اسلامی ریاست میں یہ حق نہیں دیا جاتا کہ وہ ایسے معاشی مفاد کے حقوق کی مالک بنے جو عامۃ الناس کے مفاد کے خلاف ہو۔ ضرورت پڑنے پر خود رسول ﷺ نے اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیا ہے۔ اسلامی معیشت کے اس زریں اصول کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے۔ چنانچہ ابوداؤد میں ہے:
”حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مآرب میں نمک کی جو جھیل تھی، اس کو عطیہ کے طور پر مانگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دے دی۔ ایک شخص نے یہ دیکھ کر عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے نمک کا ہمیشہ جاری رہنے والا خزانہ کیوں اس کے حوالے کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اصل حقیقت سے آگاہی کے بعد واپس لے لیا اور دینے سے انکار فرما دیا۔“ (ابوداؤد، السنن، کتاب الخراج والامارۃ والفئی، باب فی قطاع الارضیین، 3 : 174، رقم : 3064)

حدیث مبارکہ سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ مفاد عامہ کے معاملے میں اسلام کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرتا۔ آپ ﷺ نے کئی مقامات پر مفادعامہ کو ذاتی و مخصوص جماعت کے افراد پر ترجیح دی ہے۔

رسول اکرمﷺ کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ارتکاز دولت کی ہر شکل کی مذمت اپنے قول و فعل دونوں سے فرمائی ہے. اپنی آسائشوں اور تسکین کے لیے مستحقین اور معاشرہ و ریاست کے مفلوک الحال لوگوں کی ضروریات کو مدنظر نہ کرکے دولت جمع کرنا ارتکاز مال کہلاتا ہے۔ شریعت نے اس طرح کے ناجائز ارتکاز مال کی کھلی ممانعت فرمائی ہے اور اس کو باعث عذاب شدید قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے:
”اور جو لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیں۔ (التوبہ، 9 : 34)“

ارتکاز دولت کی ممانعت اس لیے ہوئی کہ مال و دولت صرف مخصوص طبقات کے درمیان گردش نہ کرے بلکہ معاشرے کے تمام افراد مستفید ہوں۔ درخت لگانا اور کھیتی باڑی کی افادیت و اہمیت معیشیت میں کھیتی باڑی اور درختوں کی اہمیت واضح ہے۔ درخت لگانا، کھیتی باڑی کرنا اسلام میں بہت عظمت اور افادیت کی بات ہے۔ ان سے نہ صرف انسانوں کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ جانوروں تک بھی پہنچتا ہے۔ صحیح مسلم میں روایت ہے:
”جو مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیتی باڑی کرتا ہے اور اس میں سے جانور یا انسان یا چوپائے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں تو یہ عمل اس (مؤمن) کے حق میں صدقہ بن جاتا ہے۔“ ( مسلم، الصحیح، کتاب المساقاۃ، باب فضل الغرس والزرع، 3 : 1189، رقم : 1553)

بنجر زمینوں کا آباد کرنا اسلام نے بنجر اراضی اور بڑے بڑے بیابان علاقوں کو زندہ کرنے اور کھیتی باڑی کے قابل بنانے کے عمل کو بہت اہمیت دی ہے۔ بنجر اور مردہ زمینوں کو آباد کرنے پر حق ملکیت تسلیم کیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”جس نے کسی مردہ زمین کو آباد کیا، وہ اسی کی ملکیت ہوگی۔“ (ابوداؤد، السنن، کتاب الخراج والامارۃ والفیئی ، باب فی خذ الجزیۃ، 3 : 178، رقم : 3073)

آپ ﷺ کی معیشت کے حوالے سے عموما دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک مستشریق کا نقطہ نظر ہے اور ایک ان کے پیروکار جدید مسلم مؤرخین کا۔ ان دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ایک کمزور معاشی طبقے سے تھا۔ اور سماجی طور پر بھی آپ کم شرف طبقے سے تھے۔ اس قسم کی خیالات کا اظہار ان کی کتب میں ملتا ہے۔
بطور مثال ڈی ایس مارگولیتھ کی کتاب محمد اینڈ دی رائز آف اسلام (مطبوعہ لندن) ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
تاہم مولانا شبلی نعمانی نے اپنی کتاب سیرت النبی اور دیگر مصنفین نے اس قسم کے خیالات کی سخت تردید کی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ ﷺ کے معاشی و اقتصادی افکار کی درست سمت میں تحقیق کی جائے تو بہترین اسلامی و اقتصادی اصول فراہم ہوسکتے ہیں۔ بڑی حد تک مسلم ریاستوں اور محققین نے یہ کام کیا بھی ہے۔
عنفوان شباب پر قدم رکھتے ہی آپ ﷺ نے قریش کے نوجوانوں کی طرح تجارت کا مشغلہ اپنایا۔ آپ کی مکی زندگی کا ایک بڑا حصہ تجارت پر مشتمل ہے۔ بچپن ہی میں آپ ﷺ کے تجارتی اسفار یمن و شام کے ہوئے۔ پھر ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبری کے ساتھ مضاربت کے اصولوں پر کی جانے والی تجارت تاریخ کا ایک انمول باب ہے۔ یاد رہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامانِ تجارت لے کر شام جانے تک آپ بطور تاجر اپنی حیثیت مسلم اور اپنی مہارت و محنت اور ذہانت منوا چکے تھے۔ اسی طرح ابتدائی دور ہجری میں آپ ﷺ کی معاشی و اقتصادی ضروریات کی تکمیل کا سب سے بڑا ذریعہ مکی و مدنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا ایثار بھرا ہدیہ و نذرانہ ہوتا تھا۔ اسی وسیلہ نے آپؓ اور آپؓ کے متعلقین اور اہل وعیال کے لیے تین بنیادی ضرورتوں روٹی، کپڑا اور مکان کی سبیل پیدا کی تھی۔ یہ ذہن میں رہے کہ یہ ایک ذریعہ ہی تھا، مگرآپ ﷺ کا ترکہ و وراثت، ازواجِ مطہرات کے اپنے اموال، خرید و فروخت اور تجارت، کافی حد تک کھیتی باڑی، زراعت و باغبانی اور مویشی پالنا، دستکاری، مال غنیمت وغیرہ، دوسرے وسائل ِ معاش تھے۔ ان سے آپ ﷺ اور اہل وعیال کی بنیادی ضروریات احسن طریقے سے پوری ہوتی تھیں۔ آپ ﷺ نے سادہ اور اعتدال کی زندگی اختیار کی، نہ مال و دولت کے انبار سے داد عیش دی نہ ہی زہد و فقر اختیار کر کے رہبانیت کا درس دیا۔ اعتدال آپ ﷺ کی پہچان ہے۔ نبوی معیشت اعتدال کے جادہ قرآنی پر مبنی تھی۔ فقر سے پناہ مانگی اور اسراف کی ممانعت فرمائی، اور صبر و شکر کی ترغیب دیتے ہوئے خود اس کا نمونہ بنے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیرت رسول ﷺ اور احادیث سیرت کے عمیق مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ ﷺ کی معاشی و اقتصادی زندگی اور تعلیمات اور بنیادی تصورات اپنے معنی و مفہوم اور روح کے لحاظ سے پوری انسانی دنیا میں انفرادیت کے حامل ہیں۔ یہ وہ نظام ہے جو دیگر معاشی نظاموں سے ممتاز ہے اور نافذالعمل بھی ہے اور انسانیت کی فلاح و بہبود کی ضمانت عطا کرتا ہے۔
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ایسے بنیادی ڈھانچے کے قیام میں حقیقی رکاوٹ وہ سماجی اور معاشی ناانصافیاں ہیں جو جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ اور کمیونزم و اشراکیت کے نظام کی خصوصیات ہیں اور جنہوں نے انسانی سماجی زندگی میں دولت کے غلط و بےجا ارتکاز، اور اسی طرح جائز حق ملکیت سے محرومی اور فرد کی پیداواری قوت کی لوٹ کھسوٹ کی شکل میں سر اٹھا رکھا ہے، اور جو وسیع پیمانہ پر بددیانتی، بددلی اور مایوسی پیدا کر رہی ہیں۔ اس کے مقابلے میں آپ ﷺ کے عطا کردہ معاشی اصولوں اور رہنمائی کے مطابق حصول رِزق اور حق معاش میں سب انسان برابر ہیں۔
بدقسمتی سے آج مملکت خداداد پاکستان کی معیشت پر قابض دولت مند طبقہ نے 20 کروڑ لوگوں کے انحطاط پذیر سماجی ڈھانچے میں اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں۔ اسلام اس کی اجازت قطعا نہیں دیتا۔ اگر اسلام نے افراد کی آمدنی اور نجی ملکیت میں تفاوت کی اجازت دی بھی ہے تو اس میں ان کی صلاحیتوں اور قابلتیوں کو مدنظر رکھا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی و مذہبی دہشت گردی کے ساتھ معاشی دہشت گردی کا بھی تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں خاتمہ کیا جائے۔\r\n

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم امیرجان حقانی)

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.