122

حق مہر‌!

جب میرے بابا امی کی شادی ہوئی تو بابا نے حق مہر کے طور پے امی کے لیئے سورہ آل عمران حفظ کی،اور جب میری شادی ہورہی تھی تو بابا نے میرے شوہر کو بھی یہی کہا کہ وہ میرے حق مہر میں قرآن کی کوئی سورہ حفظ کرے،اور اس کے بعد شادی کرنے کا کہا گیا-مجھے اپنے حق مہر کے لیے قرآن کی کوئی سورہ کا انتخاب کرنے کے لیے کہا گیا تو میں نے سورہ النور کا انتخاب کیا-مجھے لگ رہا تھا یہ سورہ حفظ کرنا بہت مشکل ہے-

ایک طرف شادی کی تیاریاں ہورہی تھی تو دوسری طرف میرے شوہر سورہ حفظ کر رہے تھے ہر وقت ان کے ہاتھ میں قرآن ہوتا اور وہ سورہ یاد کر رہے ہوتے-
شادی سے کچھ دن پہلے میرے شوہر بابا پاس آئے سورہ سنانے جو انہوں نے پوری حفظ کرلی تھی،بابا بار بار غلطی نکالتے اور شروع سے شروع کرنے کا بولتے-
میرے شوہر نے آہستہ آواز میں تلاوت شروع کی،اتنا خوبصورت منظر میں کبھی نہیں بھول سکتی،میں اور میری امی ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور میرے شوہر کی اگلی غلطی کے انتظار میں مسکرانے لگی جس کے بعد انہیں پھر سے شروع کرنا پڑتا-
پر میرے شوہر نے ایک بار میں پوری سورہ سنا دی ایک لفظ بھی نہیں بھولے،سورہ سننے کے بعد میرے بابا نے انہیں گلے سے لگا لیا اور کہا میں اپنی بیٹی کی شادی کروںگا تم سے تم نے اس کا حق مہر ادا کر دیا ہے-

انہوں نے مجھے کوئی مالی حق محر نہیں دیا نہ ہی ہم نے کوئی قیمتی زیور خریدے-انہوں نے مجھے کہا ہم دونوں کے درمیان حلف/معاہدے کے طور پر اللہ ک الفاظ کافی ہیں-

اب میں سوچتی ہوں مستقبل میں میری بیٹی اپنے حق مہر کے لئیے کونسی سورہ کا انتخاب کرے گی؟؟؟

دوستو اگر ایسا حق مہر اور جہیز شادیوں پے دیا جانے لگے-تو ہر غریب کی بیٹی کی شادی آسانی سے ہو،اور شادیاں کامیاب بھی ہوں کبھی کوئی گھر نہیں اجڑے نہ ہی بہوئیں خودکشی کریں جہیز کے طعنوں سے تنگ آ کے-

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – منقول)

نوٹ: لکھ دو کا تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو تحریری، صوتی و بصری الفاظ پر مشتمل اپنا پغام اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ای میل کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.