98

روپے کی قدر میں کمی کی تجویز کا معاشی تجزیہ !

سال 2000ء میں ایک ڈالر کی قیمت 8.2 چینی یوان، 1131 کورین وان، 54 پاکستانی روپے اور 107 جاپانی ین تھی۔ اس وقت چین کی برآمدات 190 ارب ڈالر، کوریا کی برآمدات 202 ارب ڈالر، پاکستان کی برآمدات10 ارب ڈالرجبکہ جاپانی برآمدات 524 ارب ڈالر تھیں۔ 2015 میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 6 چینی یوان، 1130 کورین وان، 102 پاکستانی روپے اور 121 جاپانی ین ہو گئی۔ اس طرح چینی کرنسی مجموعی طور پر ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد مضبوط ہوئی، کورین کرنسی کی قدر میں استحکام رہا، پاکستانی کرنسی کی قدر میں تقریباً 95 فیصد کمی ہوئی، جبکہ جاپانی کرنسی کی قدر میں لگ بھگ 15 فیصد کمی دیکھی گئی۔اس دوران چین کی برآمدات 1100 فیصد سے زیادہ کے اضافے کے ساتھ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ کورین برآمدات تقریبا225فیصد اضافہ کے ساتھ 650 ارب ڈالر ہوگئیں، پاکستانی برآمدات 180 فیصد اضافہ کے ساتھ 28 ارب ڈالر تک پہنچ پائی، جبکہ جاپان کی برآمدات محض 50 فیصد اضافہ کے ساتھ 780 ارب ڈالر تک پہنچ سکی۔

اگر کرنسی کی قدر میں کمی والا نسخہ کارآمد ہوتا، تو سب سے زیادہ اضافہ پاکستانی برآمدات میں ہونا چاہیے تھا، اور سب سے کم اضافہ چین کی برآمدات میں لیکن حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ وہ اصحاب دانش جو روپے کی قدر میں کمی کی سفارش کر رہے ہیں، ان سے سوال ہے، یہ تو آپ کی فورکاسٹنگ کے بالکل خلاف حقائق ہیں، ایسا کیوں؟ اس کا ایک ہی ممکنہ جواب ہے، برآمدات میں کرنسی کی قدر کے علاوہ باقی عوامل کا بھی کردار ہوتا ہے۔ تو میری درخواست یہ ہے کہ تجارت میں بہتری کے لیے ان باقی عوامل پر توجہ دیجیے، کرنسی کی بے قدری کا مشورہ ترک کر دیجیے۔اگر ماضی میں روپے کی بےقدری کر کے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوا تو مستقبل میں بھی ایسا کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔

وجہ کیا ہے کہ میں کرنسی کی قدر میں کمی کی تجویز کی اس قدر مخالفت کر رہا ہوں؟ بہت سادہ اور عام فہم سی وجہ ہے، اس سے آپ کے بیرونی قرض پر بہت شدید منفی اثر پڑتا ہے۔ فرض کریں آپ نے ایک امریکی دوست سے 1000 ڈالر قرض لے رکھا ہے، اگر ڈالر کی قیمت 105 ہوتو آپ قرض کی ادائیگی کے لیے ایک لاکھ پانچ ہزارروپے ادا کرنے ہوں گے۔ اگر ڈالر کی قیمت 125 ہوجائے تو آپ کے زمہ واجب الادا رقم ایک لاکھ 25 ہزار ہوجائے گی۔ آپ پر قرض کا بوجھ 20 ہزآر روپے بڑھ چکا، باوجود اس کے کہ آپ نے ایک کوڑی کا اضافی ادھار نہیں لیا۔ بالکل یہی صورت حال ملکی قرض کے ساتھ بھی ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے ذمہ مجموعی بیرونی قرض 75 ارب ڈالر کے قریب ہے اور 105 روپے فی ڈالر کے حساب سے اس قرض کی مالیت پاکستانی کرنسی میں 7875 ارب روپے بتی ہے۔ اگر ڈالر کی قیمت 125 روپے ہوجائے تو یہی قرض 9375 ارب روپے ہوجائے گا، اور آپ پر قرض کا بوجھ 1500 ارب روپے بڑھ جائے گا۔ اس قرض کی ادائیگی پھر عوامی ٹیکس سے کرنی ہوگی اور یہ بوجھ غریب عوام پر منتقل ہوجائے گا۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اضافی قرض کی اس ساری کیلکولیشن میں کوئی اگر مگر اور شاید والی بات کا دخل نہیں۔ اس کے برعکس کرنسی ڈی ویلیویشن کے تمام ممکنہ فوائد ’’شاید‘‘ والے زمرہ میں آتے ہیں۔ اب بالفرض کرنسی کی قدر میں کمی سے تجارت میں فی الواقع بہتری آتی ہے، تو تجارت میں 1500 ارب کا فائدہ صرف اس اضافی قرض کو بیلنس کرنے کے لیے درکار ہوگا۔ کیا واقعی صرف کرنسی کی قدر میں تبدیلی سے ہم تجارت میں اتنا اضافہ کر سکتے ہیں؟

اسحاق ڈار کی وزارت میں بے شمار خامیاں رہی ہوں گی، لیکن اس کی ایک خوبی تمام خامیوں پر حاوی ہے، وہ ہے روپے کی قدر میں استحکام کو برقرار رکھنا۔ اس کی وزارت کے دور میں کم ازکم دو مواقع پر ڈالر کو پر لگا کر اڑانے کی کوشش کی گئی، لیکن ڈار کی پالیسیوں کی بدولت یہ کوششیں بارآور نہ ہوسکیں۔ ڈار کی روانگی کے بعد صرف دو ہفتوں میں ڈالر کی قیمت 105 روپے سے بڑھ کر 112 روپے ہوچکی، جس کے نتیجہ میں بیرونی قرض کی قدر میں 525 ارب کا اضافہ ہوا۔ چنانچہ ڈار کی روانگی کی اوسط فی کس قیمت 2500 روپے ہر پاکستانی کے ذمے واجب الادا ہوچکی اور اگرروپے کی قدر میں مزید کمی ہوئی تو یہ قیمت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

کرنسی کی قدر میں تبدیلی کے معاشی اثرات پر آپ کو بے شمار لٹریچر دستیاب ہے، لیکن بدقسمتی سے تقریباً سارے کا سارا لٹریچر تجارت کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ درحقیقت کرنسی کی قدر سے سب سے نمایاں فرق بیرونی قرضوں پر پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ گوگل پر تلاش کریں تو شاید ہی آپ کو کوئی ایسی ریسرچ دستیاب ہو جو کرنسی کی قدر کے قرض پر اثرات سے بحث کرتی ہو۔ ایسی نایاب ریسرچ میں سے ایک مختصر پیپر کیڈرک ٹلی(Caderic Tille) کا لکھا ہوا ہے جو ماضی میں امریکی مرکزی بنک فیڈرل ریزرو(Federal Reserve) کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا ممبر رہ چکا ہے۔ کیڈرک کے مطابق امریکہ کے دیگر ممالک کے ذمہ قرضہ جات 1999-2001 کے دوسالوں میں دگنا ہوگئے۔ اس اضافہ میں کچھ تو نئے قرضہ جات شامل ہیں لیکن تقریباً ایک تہائی اضافہ صرف ڈالر کی قدر میں اضافہ کی وجہ سے ہوا۔

امریکہ کے دیگر ممالک کے ذمہ قرضہ جات میں اضافہ کا مطلب یہ ہوا کہ مقروض ممالک کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوگیا، اور اس اضافہ کا ایک تہائی صرف کرنسی کی قدر میں تبدیلی کے باعث ہوا، اور وہ بھی صرف 2 سال کے عرصہ میں۔ اگر یہی کیلکولیشن 10 سال کے عرصہ تک بڑھا دی جائے تو ؟ اگر آپ پاکستان کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور حصول کے ریکارڈ کا ملاحظہ فرمائیں تو پتہ چلتا ہیکہ ہر سال نئے حاصل شدہ قرضہ جات کی نسبت پرانے قرضہ جات کی ادائیگی تقریباً 90 فیصد زیادہ رہی ہے، چونکہ بیرونی قرض پر سود کم شرح سے ہواکرتا ہے، تو مجموعی بیرونی قرض میں کمی ہونی چاہیے، لیکن ہر سال بیرونی قرضہ جات میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ اس اضافہ کی وجوہات میں دیگر وجوہات کے علاوہ کرنسی کی شرح تبادلہ بھی شامل ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے دانشور کرنسی کی قدر میں کمی کو اتنا پرکشش بنا کر پیش کرتے ہیں کہ گویا جنت کے حصول کا رستہ یہی ہے۔

روپے کی قدر میں کمی کے وکلا سے میری درخواست ہے، تمہارے تخمینے سر آنکھوں پر، یہ تو بتائیے ان تخمینہ جات میں بیرونی قرضہ جات کے اثرات کا حساب کتاب بھی شامل ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو برائے مہربانی اپنی تجاویز سنبھال کر رکھیں۔ اس غریب قوم پر رحم فرمائیے جہاں بیشمار لوگ پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس تجاویز سے اجتناب کیجئے جو ملک کو مزید قرض کی دلدل میں دھکیل دے۔

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم ڈاکٹر عتیق الرحمٰن)

نوٹ: لکھ دو کا تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو تحریری، صوتی و بصری الفاظ پر مشتمل اپنا پغام اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ای میل کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.