107

سب جانتے ہیں عزت کون دیتا ہے!

انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر جسد خاکی اور اسمیں موجود عقل کی وجہ سے فائز کیا گیا ۔ عقل کی بنیاد پر قدرت نے تقریباً ہر فرد کویکساں مواقع فراہم کئے ہیں کہ وہ دی گئی عقل شریف کو استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کرے۔ عقل فہم و فراست فراہم کرتی ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی کائنات کے ہونے کا پتہ دیتی ہے اور اِسے کھوجنے کی کوشش کرتی ہے ۔ یوں تو اللہ نے اپنی کتاب قران کریم میں سب کچھ بتا دیا ہے یوں سمجھ لیجئے کہ کائنات کی تخلیق سے لے کر روزِ محشر تک کے معاملات واضح طور سے بتادئیے ہیں اور یہ تنبیہ بھی کردی کہ تلاش کرلو اور دیکھ لو کیا کچھ ہے اس زمین و آسمان میں اور ان دونوں کے درمیان خلاء میں۔عقل کا صحیح استعمال انسان کو انسانیت کی جانب لے جاتا ہے ۔

سب سے پہلے تو ہمارا اس بات پر کامل یقین ہے کہ عزت اور ذلت اللہ کہ پاس ہے اور جب اللہ عزت دینے پر آتا ہے تو غلط سے بھی صحیح نکال دیتا ہے اور اس کے برعکس جب ذلت لکھ دی جائے تو صحیح بھی غلط در غلط ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب کسی کو طاقت ملتی ہے تو وہ اسکے نشے میں دھت ہوتا چلا جاتا ہے اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے حق اور ناحق کا فرق بھول بیٹھتا ہے تو یہ اس بات کی گواہی ہوتی ہے کہ قدرت ایسے فرد کی عقل پر بھاری بھرکم پتھر رکھ دیتی ہے ۔ ایسے لوگ ایک قدم بھی آگے بڑھاتے ہیں تو منہ کہ بل گرتے چلے جاتے ہیں اور زخمی در زخمی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ تاریخ ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے مگر افسوس صد افسوس ہر فرد نے ہر انسان نے اپنی نئی تاریخ رقم کرنے کی خاطر ، تاریخ کی ورق گردانی تو کی مگر اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا بلکہ وہ خود دوسروں کے کیلئے ایک ناسمجھنے والی تاریخ بنتا چلا گیا۔

آج پاکستان میں عزت کسی نایاب شے سے کم نہیں ہے کیونکہ یہاں عزت مختلف وجوہات سے مشروط ہوچکی ہے اور عزت کروانے کے شوقین ان شرائط کو ممکن بنانے کیلئے کسی کو بھی ان کی بھینٹ چڑھانے سے گریز نہیں کرسکتے۔ بڑا گھر ، بڑی گاڑی ، بڑے بڑے نام والے اسکولوں میں پڑھتے بچے اور انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ مغربی ثقافت کے علم بردار، یوں سمجھ لیجئے عزت کے حقیقی دعویدار بن بیٹھے ہیں اور انہوں نے عزت کو بھی اپنے گھر کی لونڈی بنا لیا ہے ۔ لیکن ہمارے لئے یہ بات امر ہے کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ ہے ۔ ہم نے مذکورہ دنیاوی چیزوں کو عزت کا تجارتی نشان بنا لیا ہے (یہ بھی ممکن ہے کہ بہت سارے لوگ اردو میں لکھے گئے تجارتی نشان کے مطلب تک رسائی نا رکھتے ہوں)۔ پاکستانی عزت یا ذلت نامی لفظوں سے کافی حد تک اپنے آپ کو آذاد کروا بیٹھے ہیں ، جسکی ایک بہت بڑی وجہ ملک کے وہ نا مصائب حالات جو زندگی کو گزارنا مشکل سے مشکل کئے دے رہے ہیں۔ ایک بھاگ دوڑ لگی ہوئی اور بھاگ دوڑ میں کوئی کسی کو پہچاننے سے قاصر ہے ، ہر فرد کو اپنے سوا کچھ دیکھائی ہی نہیں دے رہا۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے موجودہ وزیر اعظم کو یہ کہنے کی ضرورت پیش آئی کہ فوج اور عدلیہ کی طرح سیاستدانوں کو بھی عزت ملنی چاہیے ہمارے نزدیک یہ کوئی اچھا بیانیہ نہیں اوروہ بھی ملک کے منتخب وزیر اعظم کی زبان سے ۔ہمارے ایک دفتری ساتھی ہوا کرتے تھے انکا کہنا تھا کہ سید وہ ہوتا ہے جو سب کیلئے سید ہو اور یقیناًجو سب کیلئے سید ہوگا وہی قابل احترام و عزت بھی ہوگا، جوکوئی کسی کسی کیلئے سید ہوگا اسکا احترام بھی کسی کسی پر ہی لازم ہوگا۔

جو لوگ حق اور سچ کی راہ پر چلنے والے ہوتے ہیں، جنہیں دنیا میں موجود ان تمام معاملات کو بغیر کسی کو کچلے پورا کرنے کا ہنر آتا ہے ، جو صحیح اور غلط میں واضح تفریق رکھنا جانتے ہیں اور جو خیر اور شر کے فرق کو سمجھتے ہیں انہیں عزت طلب نہیں کرنی پڑتی عزت تو انکے اعمال سے ٹپک رہی ہوتی ہے۔ وہ اللہ کے بندے کسی کے سامنے عزت کی بھیک نہیں مانگتے بلکہ یہ لوگ تو عزت بانٹتے ہیں کیوں کہ جس کے پاس جوچیز کثرت سے ہوتی ہے وہ وہی تقسیم کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ عزت بھی ان چیزوں میں سے ایک ہے جو مانگنے یا خریدنے سے نہیں ملتی اور اگر ملتی بھی ہے تو صرف منہ دیکھے کی۔
آج دنیا عزت اور ذلت کی دائمیت سے آزاد ہوچکی ہے ، ان باتوں کیلئے کس کے پاس وقت ہے ، سرعام دنیا کے حکمرانوں پر جوتے اچھالے جا رہے ہیں، کہیں سیاہی سے منہ کالے کئے جا رہے ہیں مگر وہ پھر بھی سب کے سامنے آکے بیٹھ رہے ہیں، کیا کسی ایسے حکمران کو جانتے ہیں جس کے ساتھ ایسی کوئی نازیبا حرکت کی گئی ہو اور اس نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہو یا پھر خود کشی کرلی ہو، نہیں کوئی نہیں ملے گا تاریخ کے اوراق میں شائد کوئی مل جائے مگر ترقی کی راہ پر گامزن ہونے والی دنیا میں ایسا کوئی نہیں ملے گا۔ اس کے برعکس سفید پوشی کی زندگی گزارنے والوں کی عزت پر کوئی انگلی بھی اٹھادے تو وہ خود کشی کی نوبت آنے سے قبل ہی اس دور دنیا کو ترک کرجاتے ہیں۔

آج تو دنیا سے بلکہ دنیا میں رائج سیاست سے عزت کا جنازہ بڑے دھوم دھام سے نکالا جا چکا ہے ۔جس کا جو دل چاہا رہا ہے وہ کہہ رہا ہے اب چاہے وہ سستی شہرت کی خواہش کی تکمیل کیلئے ایسا کر رہا ہے یا پھر اپنی طاقت کے نشے میں دھت ہوا ہے۔ دنیا عزت اور ذلت کی دوڑ سے بہت آگے نکل گئی ہے۔
ذرا غور کریں ووٹ کو عزت دو، ووٹر کو عزت دو، ہمیں عزت دو جیسی باتیں کوئی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ ہم سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے۔ اللہ کی مخلوق کو ستانے والے اور انکا حق مارنے والے، انسانوں میں تفریق پیدا کرنے والے، اپنے ہی جیسوں کو اپنا غلام بنا کر رکھنے والے ، انصاف کا نظام قائم نہیں کرنے والے باربار اللہ کی طرف سے دی گئی اقتدار کی کرسی کا صحیح استعمال نا کرنے والے عزت کی باتیں کرتے اچھے نہیں لگتے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ ہم نے چوری کی ہے یا نہیں کی اللہ کی پکڑ تو ایسے ہی ہوتی ہے کہ انسان پکڑا کسی اور گناہ میں جاتا ہے مگر سزا اسے اس کے ہی کئے ہوئے گناہ کی ملتی ہے۔

(تحریر – محترم شیخ خالد زاہد)

ایسوسی ایٹ جنرل سکریٹری، ہماری وسیب مصنفین کلب (ایچ ڈبلیو ڈبلیو سی سی)
رکن پاکستان وفاقی یونین کالمسٹ (پی ایف یو سی)

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.