82

شام کی تباہی، عربوں کی بربادی!

دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک، انبیاء کی سرزمین اور اسلامی تاریخ کے روشن ابواب میں شامل، ہزاروں آئمہ، علماء، محدثین فقہاء و ادباء و مفکرین کے مرکز ملک شام میں آج اسلام اجنبی بن کر رہ گیا ہے۔ مغربی طاقتیں شام کے شہریوں پر ایسے ٹوٹ پڑی ہیں کہ جیسے گدھ کسی مردار پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ شام کے بچوں، عورتوں اور بزرگوں پر ہر وہ ظلم آزمایا جاچکا ہے جو آج کا انسان سوچ سکتا ہے۔موجودہ حالات تیزی سے ہمیں عالمی جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں اور ہم ایک بے حس قوم کی طرح صرف کھیل کود اور مزاق میں مشغول ہیں گزشتہ کئی سالوں سے شام، عراق، لبنان، فلسطین، کشمیر عالمی طاقتوں کے تختہ مشق بنے ہوئے ہیں روز قتل عام ہوتا ہےاور دنیا کا کوئی ملکایسا نہیں کہ اس کی مذمت کرےیا ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے۔

مکار دشمنوں نے شام میں سنی اور شیعہ آبادی کو آپس میں لڑوا کر اپنے مفاد کی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ ایک طرف روس ہے جو بشار الاسد کا حامی بن کر باغیوں کے نام پر شام کی معصوم عوام پر قہر ڈھا رہا ہے تو دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی ہیں کہ جو عوام کی مدد کے نام پر خوفناک تباہی پھیلا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے نام پر شام کو مقتل بنانے والی دنیا کی ان طاغوتی طاقتوں کا بال بھی بیکا نہیں ہورہا اور اگر کوئی اس سے متاثر ہے تو وہ صرف اور صرف مسلمان ہے۔

تنظیم برائے انسانی حقوق کے مطابق شام کی خانہ جنگی میں 2011ء سے اب تک4لاکھ 15 ہزار عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ بیرون ملک ہجرت کرنے والوں کی تعداد 80لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

شام میں شام جاری خونی جنگ روکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے ہر قوت اپنا زور دیکھانے شام اور عراق کا رخ کرلیتی ہے خواہ میزائل چیک کرنے ہوں یا گولیاں لیکن کسی عالمی امن کے ٹھیکدار کویہ نظر نہیں آتا کیوں کہ اقوام متحدہ ہے اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ، دو دہشت گرد ملک ہی امن کی بات کرتے ہیں یہ مزاق نہ امت مسلمہ کو سمجھ آتا ہے نہ دیکھائی دیتا ہے اور نہ سنائی دیتا ہے گونگی، بہری سعودی حکومت کو نہ شام میں مرنے والے بے قصور لوگوں کی فکر ہے نہ سعودی عوام کی ان کو فکر ہے تو سینما ہالز کی فیش ویک کی۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر اہل شام میں فساد برپا ہوجائے تو پھر تم میں کوئی خیر نہیں ہے۔ میری امت میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہے گی جس کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوگی اور اس کو نیچا دکھانے والے قیامت تک اس جماعت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی پشین گوئیاں، جو احادیث کی شکل میں موجود ہیں، واضح اعلان کرتی ہیں کہ اہل حق کون ہیں اور باطل کون؟

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “مسیح دجال مشرق سے آئے گا اور مدینہ کی جانب پیش قدمی کرے گا، یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے پیچھے تک پہنچ گا، پھر فرشتے اسے سرزمین شام کی طرف بھگا دیں گے اور وہ شام میں ہی ہلاک ہو گا۔”

موجودہ دور میں امریکہ، سعودی عرب، فرانس، جرمنی ساتھ کھڑے نظر آتے ہیںسب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت اور اس کے ہم پلہ ہے افغانستان کی نام نہاد حکومت کےجس کے پاس نہ ملک کا کنٹرول ہے اور نہ افغانستان میں امن کا کوئی ذریعہ، امریکی افواج کی افغانستان میں بدترین شکست کے دہانے پر ہیں تو وہیں بھارت کشمیر میں اب دو شکست خوردہ دیکھ رہے ہیں دجالی فتنے اقوام متحدہ کی طرف۔ شام میں معصوموں کی ہلاکت پر اقوام عالم خواب خرگوش کے مزہ لیے سو رہی ہے۔ اسے ہر حال میں بیدار کرنا ہوگا۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا اور امت مسلمہ کے ہر فرد کو رہنمائی کا فریضہ سر انجام دینا ہوگا۔

اس بار میری جنگ ہے خود اپنی ذات سے
اس بار ہار جانے کا امکان ہے بہت

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم موسیٰ غنی)

نوٹ: لکھ دو کا تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو تحریری، صوتی و بصری الفاظ پر مشتمل اپنا پغام اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ای میل کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.