97

قرض واپس کیسے کرنا ہے؟

اگلے مالی سال کا بجٹ تو حکومت نے دے دیا، کیا ہمیں معلوم ہے اس بجٹ کے مطابق معاملات چلانے کے لیے آئندہ حکومت کو اگلے سال کتنا قرض لینا پڑے گا؟ دل تھام لیجیے، پورے 13 بلین ڈالرز کا قرض لینا ہوگا۔ پاکستان کی اکہتر سالہ تاریخ میں ایک سال میں لیا گیا یہ سب سے زیادہ قرض ہوگا۔ نواز شریف حکومت نے اپنے ساڑھے چار سال کے دور اقتدار میں 40 بلین ڈالر سے زیادہ قرض لیا اور اب جاتے جاتے مسلم لیگ ن ایک ایسا بجٹ بنا کر جا رہی ہے جو اگلے سال قوم کو مزید 13 ارب ڈالر کا مقروض کر دے گا۔ یعنی ایک دور حکومت پاکستان کو قریباً 53 ارب ڈالر کا مزید مقروض کر کے رخصت ہو رہا ہے۔ کیا کبھی کسی نے اس سوال پر غور کیا کہ یہ قرض ہم کیسے واپس کریں گے؟ کیا ہمارے پاس کوئی پالیسی ہے؟ کیا کسی کو فکر ہے کہ ہمارے ساتھ بہت جلد کیا ہونے جا رہا ہے؟

تازہ بجٹ کا حجم پانچ اعشاریہ دو چار (5.24) ٹریلین ہے۔ اس میں سے ڈیڑھ ٹریلین سے زیادہ رقم اب قرضوں کی قسطوں اور ان پر واجب الادا سود کی ادائیگی میں جائے گی۔ یعنی کل بجٹ کا 30 فیصد۔ یہ رقم ہمارے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ دفاعی بجٹ ایک اعشاریہ ایک ٹریلین ہے، جو کل بجٹ کا 23 فیصد بنتا ہے۔ قرض اور دفاع کو ملا لیں تو یہ دفاعی بجٹ کا قریباً 54 فیصد بن جاتا ہے۔ باقی صرف 46 فیصد بچتا ہے جس سے سارا ملک چلانا ہوتا ہے۔ اس دفاعی بجٹ پر تو بہت اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں لیکن جس مد میں دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ رقم ہمیں دینا پڑتی ہے اس پر کوئی بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔ کبھی ہم نے سوچا کہ یہ بے نیازی ہمیں کس حادثے سے دوچار کر سکتی ہے؟

ہم قرض لیتے ہیں اور پھر اس کی قسط ادا کرنے کے لیے نیا قرض لے لیتے ہیں۔ قسط پر شرح سود ادا نہ ہو رہی ہو تو ایک بار پھر قرض پکڑ لیتے ہیں۔ جولائی 2013 سے جون 2017 تک پاکستان نے 35 ارب ڈالر کا قرض لیا اور اس میں سے آدھی رقم یعنی 17 بلین ڈالر ہم نے قرضوں کی اقساط اور ان پر سود کی ادائیگی میں واپس کر دیے۔ کوئی منصوبہ بندی نہیں کہ قرض لے کر پیداواری پراجیکٹ شروع کیے جائیں جیسے کالا باغ ڈیم جس کے بننے سے بجلی تین روپے یونٹ تک سستی ہو جائے گی۔ قرض لے کر کوئی ایسا پراجیکٹ شروع کیا جاتا کہ کم از کم وہ اپنی قسطیں تو ادا کرتا۔ نواز شریف حکومت نے چالیس ارب ڈالر کا قرض لے لیا۔ کوئی ایک ایسا پراجیکٹ بتائیے جو کم از کم اپنی قسطیں ہی ادا کر سکے۔ میٹرو جیسے پراجیکٹس شروع ہو جاتے ہیں جنہیں نے قرض کی ادائیگی تو کیا خاک کرنا ہے ان پر روزانہ قومی خزانے سے ایک کروڑ کی سبسڈی دیناپڑ رہے ہیں۔ کیا ہم نے صرف قرض لیے جانا ہے یا کوئی منصوبہ بندی بھی ہے کہ اس کا با معنی استعمال کر کے اس کی واپسی بھی ممکن بنانی ہے؟ کب تک ہم قرض کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لیتے رہیں گے؟

ہماری پالیسی کا عالم یہ ہے کہ جون آتا ہے تو اداروں کو معلوم ہوتا ہے آدھا یا اس سے بھی زیادہ کا بجٹ تو استعمال ہی نہیں ہوا۔ چنانچہ جلدی جلدی کچھ فضول قسم کے منصوبے بنائے جاتے ہیں تا کہ مالی سال ختم ہونے سے پہلے ان پیسوں کو استعمال کیا جا سکے۔ پھر بھی کافی رقم استعمال نہیں ہو پاتی۔ اس سال بھی پنجاب حکومت اپنے ترقیاتی بجٹ کا نصف بھی استعمال نہ کر پائی۔ صوبائی محکموں کے پاس 635 ارب تھے جن میں سے صرف 298 ارب استعمال ہو سکے۔ باقی کی رقم بلاوجہ پورا سال بنک میں پڑی رہی۔ جن مالیاتی اداروں سے قرض کی صورت یہ رقم لی گئی تھی ان کا سود بلاوجہ ہم پر چڑھ گیا۔ رقم استعمال ہی نہیں ہو سکی اور ملک اس پر سود دے گا کیونکہ قرض تھا۔

گزشتہ سال ہمیں بتایا گیا کہ 16 بلین ڈالر قرض کی خطیر رقم بنکوں ہی میں پڑی رہی۔ استعمال نہ ہو سکی۔ سال کا سود مگر قوم کو دینا پڑے گا۔ کبھی ایسا نہیں ہوگا کہ اتفاق فاؤنڈری یا ایئر بلیو قرض لے اور وہ قرض سارا سال استعمال ہی نہ ہو، یونیہ بنکوں میں پڑاا رہے اور سود میں اضافہ ہوتا رہے۔ ذاتی کاروباروں کے لیے اگر حساب کتاب کیا جا سکتا ہے تو قومی معاملات میں اتنی غیر سنجیدگی کیوں دکھائی دی جا رہی ہے۔ جب قرض استعمال ہی نہیں ہورہا تو کم قرض کیوں نہیں لیا جاتا؟ آپ اس ملک کے ساتھ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ ریاست کے ساتھ کن جنموں کی دشمنی ہے جو نبھائی جا رہی ہے؟

اس حکومت کے خاتمے تک، آئی ایم ایف کے مطابق، پاکستان 93 بلین ڈالرز کا مقروض ہو چکا ہوگا۔ آج آپ بجٹ کا تیس فیصد قرض کی قسطوں کی ادائیگی میں صرف کر رہے ہیں۔ کل آپ کے بجٹ کا چالیس فیصد اس میں صر ف ہوگا۔ پھر پچاس فیصد بجٹ اس مد میں کھپ جائے گا۔ پھر ساٹھ فیصد؟ پھر ایک وقت آئے گا آپ سے کہا جائے گا مزید کشکول بھروانا ہے تو ایٹمی صلاحیت سے دست بردار ہو جائیے۔ یہ سلسلہ کہاں رکے گا۔ کیا جان بوجھ کر ریاست کو بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے؟

ملک جون میں93 بلین ڈالر کا مقروض ہونے جا رہا ہے اور حکمرانوں کی عیاشیاں ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہیں۔ میاں نواز شریف نے چار سالوں میں 64 غیر ملکی دورے فرمائے۔17مرتبہ برطانیہ تشریف لے گئے۔ آج ہمیں اقوال زریں سنائے جا رہے ہیں کہ قوم کو عزت دو لیکن حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف نے اپنے دور اقتدار میں اتنے دن قومی اسمبلی کو رونق نہیں بخشی جتنے دن بیرون ملک گزار دیے۔ ان کی یہ آنیاں جانیاں قوم کو ایک سو کروڑمیں پڑیں۔ ہم نواز شریف کے ان دوروں کو رو رہے تھے لیکن اب معلوم ہوا کہ غیر ملکی اداروں کے تعلیم یافتہ اور مبینہ طور پر بہت سادہ سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے صرف 9 ماہ میں 66 کروڑ روپے بیرونی دوروں پر خرچ کر دیے۔ نظام سقے کو حکومت ملی تو چمڑے کی کرنسی بنا ڈالی، ایئر بلیو کے مالک کا داؤ لگا تو دوروں پر دورے فرمانے لگ گئے۔

ورلڈ بنک نے 2016 میں ایک رپورٹ جاری کی تھی کہ مسلم لیگ ن کے اقتدار کے پہلے تین سالوں میں پاکستان سے 15 بلین ڈالر کی غیر معمولی رقم بھارت منتقل ہوئی ہے۔ یعنی قریباً پانچ بلین ڈالر سالانہ۔ معاشی بحران سے دوچار ملک سے ناجائز طریقے سے تین سالوں میں پندرہ ارب ڈالر بھارت چلے گئے اور یہاں کوئی تحقیق تو ایک طرف کوئی ورلڈ بنک کے دعوے کی تردید تک کرنے کا تکلف نہیں کرتا۔ یہ ہوتا ہے ویژن، یہ ہوتی ہے قیادت۔

نیم خواندہ قوم ہے، اوسط سے قدرے پست درجے کے حکمران، اور رہی سہی کسر ٹی وی اینکرز نے پوری کر دی ہے جنہیں اب دانشور سمجھا جاتا ہے۔ شام ڈھلے، الا ما شا ء اللہ، اتنے سطحی موضوعات کے ساتھ سکرین پر علم و فضل کی محفلیں آباد ہوتی ہیں کہ آدمی ششدر رہ جاتا ہے۔ ہر جماعت کے زبان دراز روز کوئی نیا شوشہ چھوڑ کر میڈیا اور قوم کو ایک دن کی بحث کا موضوع دے جاتے ہیں۔ سنجیدگی مہمانوں کو مطلوب ہے نہ میزبان کو۔ چنانچہ یہ حقیقت کہیں زیر بحث نہیں آتی کہ جن دس ممالک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے ان میں’’ ٹاپ تھری‘‘ میں ہمارا نام آ رہا ہے۔

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم آصف محمود)

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.