93

ماہ رمضان، خود تشخیصی و تبدیلی کا آٹھواں دن۔۔۔

ہم میں سے بیشتر لوگوں/مسلمانوں کے لےو یہ رمضان روزہ و افطار سے زیادہ ضیافت کا مہینہ بن گیا ہے۔ ہم اس بات کو تو یقینی بناتے ہیں کہ سحر و افطار میں ہمارا پیٹ بھرپور طریقے سے بھرنا چاہے پر ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے یا پھر پہلوتہی کرتے ہیں کہ یہ مہینہ روح کو خوراک بہم پہنچانے کا مہینہ ہے۔ چونکہ اس ماہ مبارک میں شیطان کو قید کردیا جاتا ہے تو یہی بہترین وقت ہوتا ہے کہ ہم اپنی اندرونی صلاحیت و اچھائی کو دریافت کرتے ہوئے اپنے خالق سے اور زیادہ قریب سے قریب تر ہو جائیں۔
تو پس آئیے ہم سب خود سے عہد کریں کہ اس ماہ رمضان میں خود کو بہتری، اچھائی، نیکی کی جانب گامزن کر کے اپنے خالق کے اصولوں و ضابطوں میں بھرپور انداز میں ڈھالیں گے، اپنی روح کو اللہ کی عبادت کی خوراک سے بھریں اور اپنے توجہ اس نقطہ پر مرکوز کریں جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے،
“اُن کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُمید سے پکارتے اور جو (مال) ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔” (القرآن، سورة السجدة – آیت 16)

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم محمد شیراز جاوید اعوان )

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

=====================================================================

Ramadan Reinspired: Day Eight…

To most of us, Ramadan has rather become a month of feasting than fasting. We make sure that our bellies are filled to the maximum at Suhoor and at Iftar but we fail to realize that what really needs to be fed above the line this month, is our soul.
Since Shaitan is locked up in Ramadan, this is the perfect time to explore our inner capability to get closer than ever to our Creator.
So let this Ramadan be the month we decide to change the norm for good, by overfeeding ourselves with the worship of the One and Only, and aiming to be of those that Allah speaks about in the following verse:
Their sides forsake their beds, to invoke their Lord in fear and hope, and they spend charity in Allah’s Cause out of what We have bestowed on them. (Al Qur’an – 32:16)

Do Think About it!

And Let us Know What’s Your Opinion/Reviews?
But Before Answering, All of us have to Look Ourselves into The Mirror.
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
Sufficient for me is Allah ; there is no deity except Him. On Him I have relied, and He is the Lord of the Great Throne. Al Quran – 9:129
O Allah! Give all of us the courage, strength and ability; that we get understand and act upon the Positive lesson in this message with positively open heart & mind. And sincerely follow all our religious, social and moral responsibilities as well. Aamen

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.