90

ماہ رمضان، خود تشخیصی و تبدیلی کا بارواں دن۔۔۔

ہمیں ہر حال میں دوسروں کا خیال و لحاظ کرنا چاہے اور خاص کر نماز کے دوران نمازیوں کی یکسوئی کو خراب کرنے کا سبب نہیں بننا چاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ذہن نشین رکھئیے۔
عن جابر بن عبدللہ رضی اللہ عنہہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال : مَنْ أكَلَ البَصَلَ، والثُّومَ، والكُرَّاثَ، فَلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإنَّ المَلاَئِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “جو شخص پیاز ، لہسن اور گندنا/ہری پیاز کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اس لئے کہ فرشتے بھی ان چیزوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔” (صحیح البخاری : 855 ، الأذان / صحیح مسلم : 564 ، المساجد )
جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کی ایسی چیزیں کھا کر مسجد میں آنے سے ممانعت فرما دی ہے جن سے منہ سے بد بو آتی ہو اور مسجد میں موجود دوسرے لوگوں کے لے تکلیف اور یکسوئی میں خلل کا ذریعہ بنتی ہو تو پھر ہم ان عبادت گزاروں کے لے کیوں تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ ہم سب کو نماز/تراویح جانے سے پہلے کھانے والی ایسی تمام چیزوں سے اجتناب کرنا چاہے جن سے ہمارے منہ سے بدبو یا تیزابی گیس خارج ہونے کا سبب بنے۔ کھانا ہم عبادت کے بعد بھی تناول کر سکتے وہ کہیں نہیں جاتا۔ ہم اپنے آس پاس اور آگے پیچھے موجود نمازیوں و عبادت گزاروں کا خیال و لحاظ کرنا چاہے جن کا خشوش و خصوص متاثر ہوسکتا ہے ہمارے ڈکار لینے سے۔

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

(تحریر – محترم محمد شیراز جاوید اعوان )

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

=====================================================================

Ramadan Re-inspired: Day Twelve…

We should be considerate of others, and try not to become a source of distraction during salah. Keep Remember this hadiat of Prophet (Sal Lal La Ho Alahy Wa Aalehy Wasalam):
“Whoever eats onions or garlic or hari onions, let him not come near our mosque, for the angels are offended by the same things that offend the sons of Adam.” (Sahi Muslim)
When the Prophet (Sal Lal La Ho Alahy Wa Aalehy Wasalam) warned against a foul smell coming from one’s mouth so as to not offend anyone attending the Masjid, then what about the range of aromas that we expose our poor fellow worshippers to. We should avoid eating smelly food before Taraweeh, especially those types that cause a lot of gas. The main course can be had after Taraweeh, it’s not going anywhere. Let’s have mercy on the worshipers next to us whose khushoo’ might get evaporated due to our incessant burping.

Do Think About it!

And Let us Know What’s Your Opinion/Reviews?
But Before Answering, All of us have to Look Ourselves into The Mirror.
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
Sufficient for me is Allah ; there is no deity except Him. On Him I have relied, and He is the Lord of the Great Throne. Al Quran – 9:129
O Allah! Give all of us the courage, strength and ability; that we get understand and act upon the Positive lesson in this message with positively open heart & mind. And sincerely follow all our religious, social and moral responsibilities as well. Aamen

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.