134

ماہ رمضان، خود تشخیصی و تبدیلی کا تیرواں دن۔۔۔

کوشش کجئیے اُن ضرورت مند لوگوں تک پہنچنے کی جو آپ کی دسترس میں ہیں اور اُن کی جتنی اور جہاں تک ہو سکے مدد کیجئے۔
کیا آپ کے پڑوس میں ایک ایسا خاندان نہیں جس کو آپ کافی عرصے سے نہیں ملے؟
ایک طالب علم جس کے لیے آپ کا شہر اجنبی ہے؟
ایک نو مسلم جو پہلی بار حالت روزہ میں ہے؟
ایک بزرگ جوڑا جو کہ مسجد یا کریانہ کی دوکان تک نہیں پہنچ پا رہا؟

یہاں تک کہ صلہ رحمی کا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی کسی دوسرئے کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی/مدد کے برابر ہوتا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے کہ،
“جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم۔” (القرآن، سورة البقرة-274)

ساری دنیا میں ہر جگہ، حتی کہ ہمارے اپنے محلے/علاقے میں ہی ایسے بہت سے لوگ موجود ہوتے ہیں جو کہ بیماری، بھوک، یا مایوسی کا شکار ہیں۔ تو چلیں اُن سب افراد کی مدد کے لیے فرداََ فرداََ اُن تک پہنچے اور اپنے عمل کے اجر کی امید صرف اورصرف اللہ سبحانی وتعالی سے رکھیں۔
تو پس اللہ سبحانی وتعالی کا یہ حکم ہمیشہ یاد رکھتے ہوئے اس پر عمل پیرا رہیں کہ،
“جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے۔” (القرآن، سورة البقرة-274)

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم محمد شیراز جاوید اعوان )

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

=====================================================================

Ramadan Reinspired: Day Thirteen…

Try to Reach out to those near you, and help those in need…
Is there a family in your neighborhood that you haven’t seen in a while? A student in a strange new city? A new Muslim who is fasting for the first time? An elderly couple who can’t get to the mosque or to the grocery store?
Even the smallest gesture of kindness can make a huge difference in someone’s life.
As ALLAH subhana wa ta’ala said in quran,
“Those who spend their wealth by night and day, in secret and in public, shall have their reward with their Lord. On them shall be no fear, nor shall they grieve” (Qur’an 2:274)
All around the world, and even in our own locality, there are people who are suffering from illness, hunger, or desperation. Let’s reach out to such individuals and seek the ajr for it from ALLAH subhana wa ta’ala.
So we must keep this in our minds and follow on ALLAH subhana wa ta’ala order,
“By no means shall you attain righteousness unless you give freely from that which you love. And whatever you give, Allah knows it well” (Qur’an 3:92)

Do Think About it!

And Let us Know What’s Your Opinion/Reviews?
But Before Answering, All of us have to Look Ourselves into The Mirror.
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
Sufficient for me is Allah ; there is no deity except Him. On Him I have relied, and He is the Lord of the Great Throne. Al Quran – 9:129
O Allah! Give all of us the courage, strength and ability; that we get understand and act upon the Positive lesson in this message with positively open heart & mind. And sincerely follow all our religious, social and moral responsibilities as well. Aamen

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.